ملائم سنگھ یادو روایت پسندی کا علمبردار رہے ہیں۔اپنے معاصرین میں کہنہ مشق اور چالاک سیاست دان مانے جاتے ہیں ۔ آپ کویہ خصوصی امتیاز حا صل رہا ہے کہ آپ بھارت کی سب سے بڑی ریاست اُترپردیش کے تین بار وزیر اعلیٰ رہے ہیںاور چوتھی باروزیر اعلیٰ کی کرسی انہوں نے اپنے بیٹے کو منتقل کردی۔ملائم سنگھ یاد و اب اپنے کسی خاص مفاد کے حصول کو مدنظر رکھے بغیر شاذو نادر ہی بیان بازی کر تے ہیںیا کوئی سیاسی فیصلہ لیتے ہیں۔ البتہ ہندی زبان کے ساتھ ازخود واررفتگی اور انگریزی زبان کے تئیں بغض و عناد کا وقتاً فو قتاً اظہار کرناملائم جی کا محبوب مشغلہ رہا ہے ۔موصوف کا یہ رویہ ا کثر جنوبی ہند کی ریاستوں اور ہاں کے عوام کے ساتھ دست و گریبان ہونے کے مترادف ہے۔ہمیں اس حقیقت کو نہیں بھو لنا چاہئے کہ ما ضی ٔ قریب میں ہی ہندی زبان کوتامل لو گوں پر مسلط کرنے کے اقدام سے تامل عوام بدک اُٹھے تھے اور بھارت سے الگ ہو نے کی دھمکی تک دے ڈالی تھی۔ کسی زبان کے ساتھ ایسے ہی انہونے طرز عمل نے عقیدہ اور مذہب پر قائم ہوئی مملکت پاکستان کو دولخت کر دیا۔ یہ ایک امر واقع ہے کہ جذبہ و احساس اور زبانوں میں چولی دامن کا ساتھ ہوتا ہے۔
با وجود یکہ میں اس قبیل سے تعلق رکھتا ہوں جس کا ذریعہ معاش اور روزگار کل ملاکر انگریزی زبان کے ساتھ ہی وابستہ ہے لیکن مجھے یہ کہنے میں کو ئی تامل یا پس و پیش نہیںہے کہ یہاں لارڈ میکاؤلی کی لائی ہوئی انگریزی زبان ہی بالواسطہ یا بلا واسطہ دنیا بھر میں سینکڑوں جیتی جاگتی زبانوں اور ثقافتوں کو معدوم کرنے بلکہ چند ایک کو صفحہ ٔ ہستی سے حرف ِغلط کی مانند مٹانے کی ذمہ دار رہی ہے۔قدیم اور کلاسکل زبا نوں جیسے عربی،فارسی،لاطینی،یونانی بشمول انگر یزی کی قریبی روایتی حریف فرانسیسی زبان بھی ایک چھوٹے سے سرد جزیرے سے نمودار انگریزی زبان کی فاتحانہ پیش قدمی کے سامنے بے بس ہو کررہ گئیں۔ اَربوں کی آبادی میں بولنے والی ان طاقت ور زبانوںکی اگر حالت یہ ہو تو ا س سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ان غیر معروف زبانوں، لہجوں اور بو لیوں کی حا لت کیا ہوئی ہو جنہیں ان کے بولنے والوں کی وفاداری اور ریاستوں کی سرپرستی ہی حاصل نہ رہی۔ لازمی طور پر ایسی زبانیںنیست نابود ہوئی ہوگئیں۔
دنیا میں بولی جانے والی مختلف بولیوں اور زبا نوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ اللہ کی طرف سے لو گوں کے لئے عظیم تحفے ہیں۔اللہ کے رسولؐ پر سب سے پہلا لفظ جو نازل ہوا وہ ’’اقراء‘‘ یعنی ’’پڑھو ‘‘تھا۔ بولنے کی صلاحیت ہی و ہ صفت ہے جو ہمیں حیوانوں سے ممیز کرتی ہے۔ بو لیاںاور زبانیں بنی نوع انسان کی اجتما عی ورثہ ہیں جن کا تعلق ہم سب کے ساتھ ہے۔ ہر ایک بولی اپنے ایک ثقافت اور تمدن کی افزائش کرتی ہیںاورمنفرد اقدار اور آداب و اخلاق کی حا مل ہو تی ہے۔ اسی کے ارد گرد کسی انسانی سماج کا پورا نظام ِ ہست وبود گھومتا ہے۔ یہ ہماری شناخت اور تشخص کی آئینہ دار ہو تی ہے۔یہاں تک کہ سیکولر یورپ کے چند ممالک میں لسانی تشخص مذہبی تشخص سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ اسی لئے یہ ایک انسانی المیہ ہی کہلاسکتا ہے کہ جب مختلف وجوہ کی بناء پر کوئی زبان آہستہ آہستہ اور خاموشی کے ساتھ اپنی موت آپ مرتی ہے اور زبانوں کے معدوم ہو نے کا یہ سلسلہ بڑی تیزی کے ساتھ دنیا بھر میں جاری وساری ہے۔ UNESCO( یو نیسکو) کے ایک تحقیقی جائزے کے مطابق کرہ ٔارض کے کسی نہ کسی خطہ پر ایک قدیم زبان ہر چودہ دنوں کے اندر اندر اپنی موت آپ مرتی ہے۔ اس عالمی ادارہ نے اہل دنیا کو خبردار کیا ہے کہ اگر زبانوں کے تحفظ کی تئیں ایسی ہی بے حسی اور لا تعلقی جاری رہی تو دنیا بھر میں آج بولی جانے والی چھہ ہزار سے زائد زبانوں میں سے نصف سے زائدد زبانیں رواں صدی کے اختتام تک گم گشتہ ہو کررہ جائیں گی۔اقوام متحدہ کے اس اہم ادارہ نے متعلقین کو متنبہ کیا ہواہے کہ ’’غیر تحریری اور غیر دستاویزی زبانوں کے نا بود ہو نے کے نتیجے میں دنیائے انسانیت نہ صرف ثقافتی و تمدنی اثاثوں سے محروم ہو جائے گی بلکہ ہم سے اُن بیش بہا اور قدیم و مورثی علوم وحکمتوں کے خزینے بھی چھن جائیں گے جو ان علاقائی و مقامی زبانوں کے اندر پایا جاتا ہے۔ معدوم ہو نے کے خطرے سے دوچار ان زبانوں کی اکثریت ترقی پذیرممالک کے اندر پائی جاتی ہیں۔ پچھلی کئی صدیوں سے چلی آرہی تیز رفتار گلو بلائزیشن اور مغربی تہذیب و تمدن کی بے ہنگم ہم ہستی نے انگریزی زبان کی پوری دنیا میں مکمل با لادستی وبرتری کو یقینی بنا دیا ہے۔ آپ چاہیں اسے پسند کریں یا نہ کریں ، انگریزی بلاشرکت غیرے ایک واحد زبان ہے جو پوری دنیا پر ا س وقت چھا چکی ہے ۔ایک ایسی واحدعالمی زبان جس میں آج کی دنیا سیاست و معیشت کا کام چلا رہی ہے ۔ گلوبل سطح پر انگریزی زبان کو مو جودہ دنیا میںا جارہ داری حاصل ہوئی ہے اور اس اجارہ داری میں مستقبل میں کوئی تبدیلی رونما ہونے کے آثار دوردورتک دکھائی نہیں دے رہے ہیں۔ بلاشبہ یہ زبان فیاضی اور ہمہ گیر یت بھی اپنے اندر سموئی ہوئی ہے جس نے عالمی اقوام اور تمدنوں کو قریب لانے میں اہم کرادار نبھا یا ہے لیکن یہ بات بھی شک و شبہ سے با لاتر ہے کہ انگریزی زبان کے عالم ِدنیا پر غالب ہونے کی قیمت چکانے میں ہمیں کئی فقید المثال اور عظیم الشان زبا نوں اور تمادین سے ہاتھ دھو نا پڑا ہے۔
انگریزی زبان و ادب کا طالب علم ہو نے کے ناطے جذباتی وقلبی طور مجھے اس زبان کے ساتھ پیار اور لگاؤ ہے۔صرف اس لئے نہیں کہ میں اپنے شیکسپئر ،شیلے، کیٹس،فراسٹ ، ڈکنز،جان آسٹین اور ہیمنگوے کو پسند کرتا ہوں بلکہ اس زبان کے ساتھ کئی سالوں پر محیط تعلق کے بعدمیں اپنے آپ کو اس زبان کے ساتھ اپنے ماحول اور گھر میں پاتا ہوں۔ یہی معاملہ میری نسل اور اس کے بعد والی نسل کے اکثر لو گوں کے ساتھ بھی چل رہا ہے۔ یہ ایک بدیہی حقیقت ہے کہ اس زبان کی وساطت سے میںاور مجھ جیسے لو گ جو زبان اور بولی کے لحاظ سے اردو پس منظر سے تعلق رکھتے تھے ،کو عالمی قارئین کی دریافت ممکن ہو سکی ہے۔معروف صحافی اور اب ایک سیاست دان ایم جے اکبر جو اپنے غیر معمولی تحریرو تصنیف اور انشاء پردازی کے لئے جانے جاتے ہیں، انگریزی زبان کو ’’ہندوستانی‘‘ زبان پکارتے ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ ہندوستان انگریزی زبان بو لنے والا سب سے بڑا ملک ہے۔ ملک کے نامی گرامی سیاست دان، فصاحت و بلاغت کے رمز شناس اور تقریر و تحریر کے دھنی شیشی تھرور بھی اس بات سے اتفاق رکھتے ہیں اور اسی طرح لاکھوں کی تعداد میں بھارتی نوجوان جو ملک بھر میں انگریزی میڈیم کے اسکولوں میں تعلیم حا صل کررہے ہیں، جہاں انگریزی زبان پر مہارت حاصل کرنے کو ترقی کی راہ پر گامزن ہو نے اور بیرون ملک خو ش حال اور آرام دہ زندگی گزارنے کے مواقع حاصل کرنے میں بنیادی لازمہ تصور کیا جاتا ہے۔ میں خدانخواستہ ہندی زبان کامخالف نہیں ہوں ۔ قومی نشریاتی چینل دوردرشن ، مختلف وزارتوںاورحکومت ِہندکے مقتدر اداروںکے ذریعے ہندی کے نام پر سنسکرت کے بھاری بھرکم وثقیل اور فہم سے بالاتر نشریات اور پروگرام بلاناغہ زبردستی سامعین کے کانوں کے انڈھیلے جاتے ہیں ،حالانکہ سامعین کے پلے ان سے کوئی چیز نہیں پڑتی ہے۔ ہندی زبان اپنے اندرایک خاص مٹھاس رکھتی ہے۔ فی الاصل اُردو اور ہندی زبانیں آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ بڑی پیچیدگیوںکے ساتھ جُڑی ہوئی ہیں۔دونوں زبانیں ہند آریائی بنیاد اور’’ کھڑی بو لی ‘‘ لسانی ورثہ کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں ۔دونوں لب و لہجہ میں جڑواں لگتی ہیں۔ان کے درمیان صرف رسم الخط کی ہی ایک جدا گانہ تفریق ہے۔ اسی لئے آزادی سے قبل لوگوں کے مابین ہندی اردوکی لڑائی کے نکتۂ عروج پر مہاتما گاندھی نے دونوں اطراف کا غصہ ٹھنڈاکرنے کے لئے بڑی دانش مندی کے ساتھ ہندی اور اردو کے بجائے’ ’ہندوستانی ‘‘ اصطلاح وضع کردی۔ اب جیسا بھی ہے ، لیکن تعجب کی بات یہ ہے کہ گزشتہ کئی سال سے بہ تواتر حکومتوں کی جانب سے ہندی زبان کو آگے بڑھانے اور فروغ دینے کی مہم پر کروڑوں روپے صرف کئے گئے۔ بایں ہمہ ہندی زبان کے مستقبل کے لئے فکرمندی کا اظہارکر نے والے لوگوں کو ملیالم اور دوسری زبانوں کے مستقبل کے بارے میں بھی سوچ و بچا ر کرنا چاہئے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہندی زبان کو فروغ دیتے دیتے ملک کی دیگر زبانوں با لخصوص شائستہ اور نادر اُردوزبان کے ساتھ کھلواڑ ہو جائے اور ہندی کو آگے لیتے لیتے اُردو جیسی پاکیزہ اور دیگر علاقائی زبانوں سے ہمیں محرومی و جدائی کے خسارے سے دوچار ہو نا پڑے۔ اگرملک میں آج فی الاصل کسی زبان کے وجود کو خطرہ لاحق ہے تو وہ اسی شستہ اُردو زبان کو ہے جو عربی ، فارسی جیسی کلا سیکل زبانوں اور وسط ایشائی مسلمانوں اورہندوستانی تہذیب کے سنگم کے نتیجے میں وجود میں آئی ہے۔ اس زبان کا استخراج با لخصوص عربی، فارسی اور ترکی زبانوںسے ہوا ہے چونکہ اس کے الفاظ کا ابجد ان ہی زبانوں کے الفاظ پر مبنی ہے۔ اپنی روح اور دیگر خصوصیات کے لحاظ سے یہ زبان بنیادی طور ہندوستانی ہے کیونکہ اس کی بنیاد کھری بولی، ہندی اور سنسکرت پر استوار ہے اور یہ بنیاد یہاں کی سرزمین میں گہرے طورپیوست ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ زبان مغل دور سے لے کر آج تک کئی صدیوں سے عوامی زبان بنی چلی آرہی ہے اور ہنوز ملک کے اطراف و اکناف میں وسیع پیمانہ پر سمجھی اور بولی جاتی ہے،لیکن حقیقت حال یہ ہے کہ آج اس زبان کو سرکاری ایوانوںو عدالتوں اور ہر سطح پر بظاہر بے دخل کردیا گیا ہے ۔ اب اگر کہیں پر یہ کسی حد تک باقی رہی ہے تو وہ ملک کے فلم ساز اداروں کا مرکز بالی ووڈ ہے جو اس کی آخری پناہ گاہ کے طور بچا ہے ۔ واضح رہے فلم سازی وہ صنعت ہے جسے ایک زمانہ میں مسلمان نفرت آمیز نگاہوں سے دیکھتے تھے۔
آج صورت حال یہ ہے کہ ُاردوزبان بھارت میں آہستہ آہستہ دم توڑ رہی ہے۔ اس کے بچاؤمیں کوئی سرکاری حمایت با قی نہیں بچی ہے اور اس پر مستزاد یہ کہ اپنے بولنے والے بھی اس سے منہ موڑ رہے ہیں۔ اس کا قافیہ حیات ملک بھر میں تنگ ہو تا جارہا ہے۔ ملک کے چند شہروں میں کبھی کبھار مشاعروں کے انعقاد سے کہیں آپ اس زعم ِباطل میں نہ رہیں کہ یہ زبان اپنی آن اور شان کے ساتھ زندہ و پائندہ ہے۔ اعلیٰ پایہ روسی ترجمہ کار لدمیلا واسلیوا جس نے فیض احمد فیضؔ کی شاعری کا روسی زبان میں ترجمہ کیا ہے، نے حال ہی میں اسی بات کی نشاندہی کی ہے کہ ہندوستان میں اُردو زبان اپنے آخری دن گن رہی ہے ، کیونکہ اس کے مشاہدے میں آیا ہے کہ بھارت کے حکومتی عہدیدار ہندی زبان میں بول چال کو ترجیح دے رہے ہیں ،یہاں تک کہ ملک سے باہر اور بین الاقومی میٹنگوں اور پروگراموں میں بھی وہ ہندی ہی بولتے ہیںاور پاکستانی اشرافیہ انگریزی زبان کے ساتھ چپک گئے ہیں، جسے ملائم سنگھ یادو حقارتاً انگریز راج شاہی زبان پکارتے ہیں۔ بین الاقومی ادارے یونیسکو نے شائع کردہ اپنے ’خطرے سے دوچار زبانوں‘‘ کی رپورٹ میں لکھا ہے کہ ’’کسی زبان کے وجودکوخطرہ اس وقت لاحق ہوجاتاہے جب والدین اپنے بچوں کو وہ زبان نہیں سکھاتے ہوںاوریہ زبان روزمرہ زندگی میں استعمال نہیں کی جانے لگے‘‘۔ اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ ہماری زبان کا مستقبل خود ہمارے ہاتھوں میں ہوتا ہے۔ یہودیوں نے اپنی زبان کی حفاظت مشکل ترین حالات میں اور دو ہزار سالہ جلاوطنی کے دوران انجام دی ۔ آج اُردو زبان اپنی جنم بھومی میں زندہ دفن ہو نے کے خطرے سے دوچار ہے۔جہاں تک میرا خیال ہے پاکستان میں بھی اس زبان کی حالت کو ئی حو صلہ افزاء نہیں ہے، باوجود یہ کہ اُردو وہاں کی قومی زبان ہے اور اسے حکومتی سرپرستی بھی حا صل ہے لیکن اس کے لئے پھلنے پھولنے والی صورت حال وہاں بھی دگر گوں ہے۔ ایک پاکستانی نے انٹرنیٹ پر اپنے بلاگ میں اُردو زبان کے تئیں پاکستانی لوگوں کے رویہ کے بارے میں افسردگی کا اظہار ان الفاظ میں کیا:’’پاکستانی نوجوان اُردو کو غلاموں کی زبان کی نظر سے دیکھتے ہیں اور ترجیحی طور آپس میں انگریزی زبان میں اپنا ما فی الضمیر بیان کر نے میں فخر محسوس کرتے ہیں‘‘۔ احساس کم تری کے نتیجے میں سب سے پہلی چوٹ زبان پر پڑتی ہے۔
نوٹ : مضمون نگار انگریزی کے معروف
صحافی ، قلم کار اور دانش ور ہیں ۔