ظفر اقبال
اوڑی/ سرحدی قصبہ اوڑی کے دور دزاز دیہات میں گزشتہ کچھ ماہ سے رسوئی گیس کی قلت کی وجہ سے لوگ روایتی چولہوں پر کھانے پکانے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ ہتھلنگا نامی گاوں کے شہری منظور احمد نے بتایا کہ گزشتہ تین ماہ سے انہیں رسوئی گیس فراہم نہیں کیا گیا ہے۔انہوں نے بتایا جب وہ گیس ڈیلر کے پاس جاتے ہیں تو انہیں بتایا جاتا ہے کہ آپ کو نزدیکی گاوں بلکوٹ سے گیس فراہم کیا جائے گا مگر جب وہا ںجاتے ہیں تو بتایا جاتا ہے قصبہ اوڑی میں فراہم کیا جاتا ہے مگر کہیںگیس فراہم نہیں کیا جاتا ہے۔ انہوں نے بتایا ہے کہ وہ گزشتہ کچھ ماہ سے روایتی لکڑی کے چولہوں پر کھانا ہکانے ہر مجبور ہیں۔
انہوں نے کہا یہاں بالن کی قلت بھی ہے مگر اِدھر اْدھر کر کے لکڑی جمع کر کے گزارہ کرتے ہیں۔ بٹگراں گاوں کے شبیر احمد نے بتایا کہ انہیں بھی گزشتہ کچھ ماہ سے رسوئی گیس فراہم نہیں کیا جاتا جسکی وجہ سے یہاں کے لوگ بھی چولہوں ہر کھانا پکانے پر مجبور ہیں۔ اسی طرح کی شکایت موٹھل گاوں کے میں بھی لوگ رسوئی کی قلت سے پریشان ہیں۔کئی دیگر دیہات میں بھی رسوئی گیس کی قلت کی وجہ سے لوگ روایتی لکڑی کے چوں پر کھانے پکانے پر مجبور ہیں۔ لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے ساتھ رہنے والے رہائشیوں نے سرحدی علاقوں میں خراب موبائل کنیکٹیویٹی کا حوالہ دیتے ہوئے او ٹی پی پر مبنی ایل پی جی سلنڈر ڈیلیوری تصدیق کے نظام میں نرمی کا مطالبہ کیا ہے۔ صارفین بشمول نامبلہ، موٹھل، سہورہ، ہتھلنگا، بالکوٹ، سلیکوٹ، تغاجل، تلاواڑی، سید پورہ، چرونڈا، بٹگراں، سکھدر، گوہالن، گوالتہ، ناوارنڈا، درد کوٹ، اشم، اڑوسہ، چاکرہ، کمل کوٹ، ماڈیاں، شادرہ، دلانجہ ، میدان بونیار، برنیٹ، دودران، چوٹالی، کورالی، سمالی، لمبر، باباگیل، مایاں، لچھی پورہ اور بوجتھالان نے کہا کہ انہیں او ٹی پی پر مبنی نظام کی وجہ سے ایل پی جی سلنڈر حاصل کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ بہت سے گھرانوں میں مبینہ طور پر پچھلے کئی مہینوں سے سلینڈر حاصل نہیں ہو رہے ہیں۔مقامی لوگوں کے نے حکام پر زور دیا ہے کہ وہ مداخلت کریں اور سرحدی دیہات کو او ٹی پی پر مبنی ڈیلیوری سسٹم سے مستثنیٰ کریں یا ایل پی جی سلنڈروں کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے کوئی متبادل طریقہ کار متعارف کرایا جائے۔