بارہمولہ//بارہمولہ کے مشہور قلمکار اور مصنف خالق پرویز کی ایک اورکتاب’اور جہلم بہتا رہا‘کی رسم رونمائی بارہمولہ رائٹرس فورم کے زیر اہتمام منعقد ہوئی۔ خالق پرویز نے اسی کی دہائی میں ’کمراز‘ نامی اخبار شائع کیا تھا، جو شمالی کشمیر کا پہلا اخبار تھا۔مصنف کی پہلی کتاب ’بارہمولہ، ماضی اور حال کے آئینے میں‘1980میں لکھی۔ان کی دوسری کتاب’جلا وطن‘سے انہیںپورے برصغیر میں شہرت ملی۔ مصنف کہنہ مشق شاعر بھی ہیں اور ان کا شعری مجموعہ ’شوخیِ تحریر‘پہلے ہی منظر عام پر آچکا ہے۔ان کی کچھ کتابیں زیر طبع ہیںجن میں ’کلام اقبال کے منتخب اشعار کا منظوم کشمیری ترجمہ‘، ’ثقافت کشمیر‘اور’کشمیر نامہ مثنوی منظوم اردو‘قابل ذکر ہے۔امیر ادارہ فلاح الدارین بارہمولہ ڈاکٹر امتیاز عبدالقادرنے کتاب پر تبصرہ کیا۔جی ایم ماہر نے خالق پرویز کے اسلوب کی سراہنا کی اورمحبوب کلچرل فورم کی طرف سے مصنف کو مبارکباد پیش کی۔قلمکار سہیل بشیر کار نے کتاب کا مختصر تعارف کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی عالمی موضوع پر لکھنا بہت آسان ہے کیونکہ انٹرنیٹ پر ڈھیر سارا مواد موجود ہے لیکن اس کے برعکس مقامی علاقے پر لکھنے کے لیے بہت زیادہ محنت کرنی پڑ تی ہے۔انہوں نے کہا کہ خالق پرویز کی اس کتاب کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ اس میں بارہمولہ اور قرب و جوار کے بارے میں خامہ فرسائی کی گئی ہے۔تقریب کے صدرِ محفل ڈاکٹر رفیق مسعوی تھے۔انہوں نے اپنے صدارتی خطبہ میں کہا کہ ایسی کتاب لکھنے کے لیے جنون کے ساتھ ساتھ ہمت و حوصلہ بھی ہونا چاہئے جو کہ مصنف میں بدرجہ اتم موجود ہے۔نشست کے آخر پہ مختصر محفل مشاعرہ کا اہتمام کیا گیا جس میں شعرا نے اپنا کلام پڑھا۔