سیمی کنڈکٹر آلات کی اہمیت اور مصنوعی ذہانت اُجاگر
سری نگر//نیشنل انسٹی چیوٹ آف ٹیکنالوجی سرینگر میں’’ انٹیلی جنٹ آٹومیشن ‘‘پر پانچ روزہ کورس سنیچروار کو شروع ہواجس میں 800سے زیادہ طلبہ،اساتذہ اور ریسرچ اسکالر شرکت کررہے ہیں۔ورچیول طور منعقدہ تقریب کااہتمام این آئی ٹی سرینگرکے شعبہ فزکس نے سیمی کنڈکٹر سوسائٹی آف انڈیا کے تعاون سے کیا ہے۔افتتاحی تقریب پرپروفیسر ڈاکٹر راکیش سہگل نے سیمی کنڈکٹر آلات کی اہمیت اور مصنوعی ذہانت اُجاگر کی ۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ دوبرس کے دوران این آئی ٹی سرینگر میں اس سلسلے میں بہت کام ہوا ہے ۔ انہوں نے کہا ،’’مجھے امید ہے کہ ایک ٹیم کی حیثیت سے ، ہم انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ طلباء کے لئے مشترکہ طور پر کام کر سکتے ہیں اور اس طرح کے تحقیقی منصوبے مختص کرسکتے ہیں ، جہاں وہ کچھ کارآمد آلات تیار کرنے کے لئے محکموں میں کام کرسکیں گے جس سے عام لوگوں کو فائدہ ہوگا۔تقریب کی صدارت این آئی ٹی کے ڈائریکٹر نے کی۔ڈائریکٹر این آئی ٹی سرینگر نے کہا کہ تکنیکی اداروں پر ایک بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے آس پاس کے لوگوں کی زندگی آسان ، سرمایہ کاری مؤثر اور زیادہ فائدہ مند بنائے۔ڈائریکٹر این آئی ٹی نے کیمپس میں بہت سے سائنسی پروگراموں کے انعقاد میں ڈاکٹر شاہ کے کردار کی بھی تعریف کی۔