عارف بلوچ
اننت ناگ//اننت ناگ کے مرکزی قصبے میں ایک شاپنگ کمپلیکس گزشتہ 21 سالوں سے زیر تعمیر ہے،شاپنگ کمپلیکس منصوبہ کی تعمیر کا کام سال 2004 میں شروع کیا گیا تھا تاہم نامعلوم وجوہات کے باعث عمارت تکمیل سے پہلے ہی رسہ کشی کا شکار ہوئی جس کے باعث عمارت اب مختلف سماجی برائیوں کا اڈہ بن گئی ہے۔5 سال تک کام جاری رہنے کے بعد سال 2009 میں اس منصوبے پر نا معلوم وجوہات کی بنا پر کام پر روک لگا دی گئی تاہم سال 2015 میں مذکورہ منصوبہ پر کام دوبارہ شروع کیا گیا، اس وقت پروجیکٹ کی لاگت 8.65 کروڑ روپے سے بڑھا کر 9.28 کروڑ روپے کر دی گئی لیکن عمارت کی تعمیر مکمل نہیں ہوئی۔150دکانوں پر مشتمل شاپنگ کمپلیکس پر تعمیراتی کام کا آخری مرحلہ ہونا باقی ہے۔100 سے زائد تاجروں سے دکانیں اور دفاتر کے الاٹمنٹ کے لیے فیس بھی وصول کی گئی ہے۔
تاہم نامکمل شاپنگ کمپلیکس مرکزی قصبے میں بدنما داغ بن چکا ہے۔ تکنیکی مسائل، فنڈنگ کی تبدیلیوں، اور محکمہ R&B کے درمیان انتظامیہ کی منتقلی کی وجہ سے پروجیکٹ رک گیا ہے۔ نامکمل ڈھانچہ، تقریباً 90 فیصد مکمل ہے اور ایک عوامی پریشانی بن گیا ہے، جو سماج دشمن عناصر اور منشیات کے عادی افراد کو اپنی طرف متوجہ کر رہا ہے۔ ٹریڈرس فیڈریشن اننت ناگ کے صدر سجاد حکیم کا کہنا ہے کہ لالچوک میں شاپنگ کمپلیکس کی تعمیر ایک دیرینہ مانگ تھی جو مکمل ہونے سے پہلے ہی مختلف وجوہات کی شکار بن گئی ہے،مختلف سرکاریں آئیں تاہم ایسا لگتا ہے کہ حکومت کو اس کی طرف کوئی دلچسپی نہیں ہے،شاپنگ کمپلیکس کی تکمیل سے جہاں قصبہ میں کاروبار کو مزید فروخت ملے گا وہی عمارت کے نیچلے حصہ میں گاڑیوں کی پارکنگ کی بھی سہولیات میسر ہوگی۔انہوں نے سرکار سے پروجیکٹ کو مکمل کرنے کے لیے مداخلت کی اپیل کی ہے۔