شہزاد احمد کھٹانہ
اس نے ہوش سنبھالا تو سب رشتوں کو آس پاس موجود پایا سوائے ماں کے اور ماں کی کمی اسے ہمیشہ محسوس ہوتی تھی ۔ یوں تو گھر میں سب کا لاڑلا تھا مگر ماں کے پیار کی الگ ہی بات ہوتی ہے اور یہ کمی سب کا پیار مل کر بھی حاصل نہ کرسکا۔ ہاں مگر اس کی بہن، جو اس سے بڑی تھی، اسے ماں جیسا پیار دینے لگی ۔وہ اسکا خیال ماں جیسا رکھتی تھی۔ ’’کاش امی زندہ ہوتی۔ سب کچھ کتنا خالی خالی سا لگتا ہے نا؟ ‘‘وہ اپنی بہن سے کہتا۔
”ہاں مگر کیا کِیا جا سکتا ہے ۔ صبر کرو اور دنیا میں جینا سیکھو میرے بھائی ۔ دکھ اپنی جگہ مگر کیا کریں یہ دنیا بھی تو چلانی ہے“. گھر کو بھی بہن نے سنبھال رکھا تھا۔ اسے دنیا کا کچھ پتا نہیں تھا کہ یہ دنیا کیا ہے اور کیسی ہے۔ اس کے رنگ ڈھنگ کیا ہیں ۔ اس کے تقاضے کیا ہیں اور کیسے ہیں مگر اسکی بہن نے اس کو سب کچھ سمجھا دیا تھا۔۔ ”میری بہن کبھی کبھی میں سوچتا ہوں اگر تم نہ ہوتی میں کیا کرتا ۔امی کے بغیر موت سے پہلے ہی مرگیا ہوتا“۔ اس بھری دنیا میں واحد ایک بہن کا رشتہ اس کے لئے بڑا انمول تھا جو اس کے درد کو کم کردیتا تھا۔ پھر اسکی بھی شادی ہوگئی۔ ”تم تو دوسرے گھر کی ہوگئی ہو میری بہن ۔میں اب کیسے جیوں گا ۔اپنے دکھ سکھ کس سے کہوں گا۔“۔ ”تم اس طرح نہ کہو۔ تم کبھی بھی مجھے اپنے دکھ بول سکتے ہو میرے بھائی“بہن نے تسلی دی۔ بھابیاں آ گئیں تو وہ اور اکیلا ہوگیا۔ بہن کے ساتھ ہر دکھ سکھ بانٹتا تھا مگر اب کس کے ساتھ اپنا دکھ سکھ بانٹتا۔ اسے اب ایسا لگنے لگا تھا کہ وہ ساری دنیا میں اکیلا انسان ہے اور اس بات نے اس سے اندر تک دکھی کردیا تھا۔ اس نے رشتوں اور دنیا کو جاننا اور پہچاننا شروع کردیا تھا اور چند باتیں اسے اندر تک دکھی کرگئیں تھی۔ وقت گزرتا گیا اس نے خود کو سنبھالنا شروع کردیا ۔وہ جی رہا تھا مگر نہ جانے کیوں اسے لگ رہا تھا کہ وہ اندر تک مرگیا ہے۔
���
مست پورہ شوپیان،کشمیر
[email protected]