پالی نیشن نہ ہوئی تو 70فیصد خوراک کی کمی کا خطرہ لاحق ہوسکتا ہے : ماہرین
سرینگر // کیڑے مکوڑے جو انسانی خوراک پیدا کرنے میں نہایت اہم کردار ادا کرتے ہیں، وہ نیست و نابود ہورہے ہیں اورکیڑوں کی نسلیں تیزی سے غائب ہو رہی ہیں۔ماہرین ارضیات کا کہنا ہے کہ اگر انسان کیساتھ زیر زمین کیڑے مکوڑوںکا رشتہ یونہی بگڑتا رہا اور کرہ ارض پر فطری توازن اسی طرح ہچکولے کھاتا رہا، تو اس کے نتیجہ میں انسانی بقاء بھی خطرے میں پڑ جائے گی۔شہد کی مکھی ،کینچوا ، بھنبھری ، مکڑی ، چینٹیاں اور تتلی ایسے کیڑے ہیں ،جو فصلوں کی پیداوار کیلئے فائدہ مند ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ غذائی فصلوں کے زرگل کی منتقلی میں بنیادی رول ادا کرنے کے علاوہ، کیڑے جنگلات کی صحت کو برقرار رکھنے میں بھی مدد کرتے ہیں کیوں کہ وہ لکڑیوں کو توڑتے ہیں، مٹی کو پلٹتے ہیں اور بیجوں کو الگ کرتے ہیںاور ان کے غائب ہونے سے پورا نظام بگڑ سکتا ہے ۔سائنس دانوں کے اندازوں کے مطابق دینا بھر میں کیڑے مکوڑوں کی تقریبا ً55لاکھ نسلیں ہیں ،جن میں سے ابھی تک صرف 10لاکھ کو ہی پہچان مل سکی ہے لیکن انسان کی جانب سے کیڑے مار ادویات کے استعمال سے نقصان دہ کیڑوں کو تو نقصان ہوتا ہے لیکن اس سے وہ کیڑے بھی مر رہے ہیں، جو ماحولیاتی نظام کو برقرار رکھنے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔علم الحشرات کے معروف سائنسدان اورشیر کشمیر زرعی یونیورسٹی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹرملک مختار کہتے ہیں ’’ہمارے یہاں فائدہ مند کیڑے بھی ہیں اور نقصان دہ بھی، لیکن ہم نقصان دہ کیڑوں کو مارنے کیلئے جس سپرے کا استعمال کرتے ہیں اس سے وہ کیڑے بھی مر جاتے ہیں جن سے ہمیں فائدہ ملتا ہے‘‘ ۔ انہوں نے کہا کہ ماحولیات کو سب سے زیادہ فائدہ شہد کی مکھی سے ہوتا ہے اور اگر یہ پولینیشن چھوڑ دے تو 70فیصد فصل اُگنے سے رہ جائے گئی اور ہمارے لئے کھانا تک نہیں بچے گا ۔انہوں نے کہا کہ ریشم کا کیڑہ جس سے صنعتی سیکٹر کو کافی فائدہ ملتا ہے،یہ بھی 70فیصد فصلوں کو بچاتا ہے ۔ملک مختار نے مکڑی یعنی( سپائڈر) کو ایک فائدے مند کیڑا بتاتے ہوئے کہا کہ وہ فصل کو نقصان پہنچنے والے کیڑوں کے انڈے یا ’لاروا‘کو تباہ کر دیتے ہیں۔ ملک مختار کہتے ہیں ’’ ماحول میں تبدیلی آنے سے کچھ ایک کیڑوں کی نسل ختم ہو رہی ہے اور کچھ ایک دوسری جگہوں پر منتقل ہو جاتے ہیں لیکن ابھی بھی بہت سے فائدہ مند کیڑے ہمارے یہاں موجودہیں ۔انہوں نے کہا کہ ماحول میں تبدیلی یعنی درجہ حرارت میں اضافہ ، فضاء میں کاربن ڈایکسائڈہوا میں زیادہ نمی ، لیکن کیڑوں کو سب سے زیادہ نقصان درجہ حرارت کے زیادہ اور کم ہونے سے ہوتا ہے ۔انہوں نے کہا ’’اگر کسی کیڑے کو نسل کشی کیلئے 30ڈگری درجہ حرارت کی ضرورت ہو تو درجہ حرارت زیادہ ہونے سے وہ نسل پیدا نہیں کر سکتے اور پھر یہاں سے دوسری ٹھنڈی ریاستوںاور ممالک میں چلے جاتے ہیں ۔ ملک مختار نے کینچواEARTHWORM)) نامی کیڑے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ زمین کی زرخیری بڑھانے کیلئے کافی مفید ہے اور اس سے فصل کی پیداوار میں کافی حد تک اضافہ ہو جاتا ہے۔دلی یمنا بائیو ڈائیورسٹی پارک کے انچارج اور ملک کے معروف سائنسدان فیاض احمد کھدسر نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ یہ حقیقت ہے کہ نظام فطرت کے ساتھ مسلسل کھلواڑ کے نتیجے میں کیڑے مکوڑوں کی تعداد میں کمی دیکھنے کو مل رہی ہے ۔فیاض کہتے ہیں کہ کیڑے مکوڑوں سے ہی دنیا قائم دائم ہے اگر یہ ہمارے ماحول میں نہیں ہو ںگے، تو اس کے ساتھ ہی پوری دنیا کا خاتمہ بھی ہو جائے گا۔انہوں نے کہا کہ یہ نہ صرف ہمیں خوراک کی پیداوار فراہم کرتے ہیں بلکہ ماحولیاتی نظام کو بھی برقرار رکھنے میں ان کا ایک اہم رول ہے۔ڈاکٹر فیاض کہتے ہیں کہ انسانوں سمیت کئی ایک جانوروں کا انحصار بھی ان ہی کیڑے مکوڑوں پر ہے۔انہوں نے کہا کہ ماحول اس وقت ٹھوس فضلہ سے تباہ ہو رہا ہے، اگر یہ کیڑے فضلہ کے خاتمہ کیلئے نہ ہوں، تو ماحول کتنا بگڑ سکتا ،ہر سو غفونت ہی غفونت پھیل سکتی ہے۔معلوم رہے کہ سال 2019میں اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ایسے پودے، جانور، مکھیاں اور کیڑے مکوڑے جو انسانی خوراک پیدا کرنے میں نہایت اہم کردار ادا کرتے ہیں، وہ زوال کا شکار ہیں۔رپورٹ کے مطابق ’اگر پودوں، جانوروں اور ننھی حیات کی ایسی اہم اقسام ختم ہو جاتی ہیں، تو اس سے ہماری خوراک کو شدید خطرہ لاحق ہو جائے گا۔‘رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حیاتیاتی تنوع یا بائیو ڈائیورسٹی میں اس کمی کی وجوہات میں زمین کا بدلتا ہوا استعمال، آلودگی میں اضافہ اور موسمیاتی تبدیلی شامل ہیں۔