چند سال قبل عوامی حلقوں میں نہایت قوی تاثر تھا کہ گورنرراج کے دوران انتظامیہ شفاف اور فعال ہوجاتی ہے۔ دراصل لوگ جوابدہی اور مسائل کے فوری ازالے کے لئے سابق گورنروں جگموہن اور جنرل کرشنا رائویاد کرتے رہتے ہیں۔ دو سال قبل جب کشمیر میں مخصوص حالات کے پس منظر میں گورنر راج نافذ ہوا اور سابقہ روایت کو دوہراتے ہوئے گورنر نے مشیروں کا انتخاب کیا تو لوگوں نے تھوڑی دیر کے لئے راحت کا سانس لیا۔ اْنہیں لگا کہ جگموہن اور کرشنا راو کے ادوار کی طرح اب کی بار بھی تعمیروترقی کی رفتار بڑھے گی اور دوسرے مسائل کا بھی ازالہ ہوگا۔
گورنر این این ووہرا تو مختصر مدت کے لئے رہے اور اْن کے بعد ستیہ پال ملک نے راج بھون کا راج پاٹ سنبھالا۔ اْن کے دور میں سیاسی نوک جھونک نے ہی سرخیوں میں جگہ پائی، حالانکہ حاشیہ پر ’’بیک ٹو ولیج‘‘ نامی تحریک چلائی گئی۔ انتظامیہ اور عوام کے درمیان بچولیوں اور سیاسی دلالوں کی دیوار گرانا ہی اس تحریک کا مقصد تھا۔ کیا یہ تحریک اپنے مقصد میں کامیاب ہوئی؟ افسروں کی ٹولیاں کئی ہفتوں تک قریہ قریہ گھومتی رہیں۔ میٹنگوں اور ٹرانسپورٹ پر خطیر سرمایہ صرف کیا گیا۔ لیکن بات جو تھی وہی رہی۔ اس تحریک کے بعد جب شدید سرما میں بجلی کے بحران نے کشمیریوں کو گھیر لیا تو کئی کئی ماہ تک اکثر دیہات گھپ اندھیرے میں رہے۔
فی الوقت راج بھون میں گریش چندر مْرمْو براجمان ہیں اور انتظامیہ کی باگ ڈور چیف سیکریٹری مسٹر بالاسبرامنیم کے ہاتھ میں ہے۔ کئی نئے نئے تجربے اس دور میں بھی ہوئے۔ پہلے اسامیوں کی فہرست جاری کی گئی پھر واپس لی گئی۔ تعمیر و ترقی کی رفتار پچھلے سال اگست میں ہوئی اتھل پتھل کی نذر ہوگئی اور رہی سہی کسر کورونا کے لاک ڈاو?ن نے پوری کردی۔
اب حال یہ ہے کہ جنوبی اور شمالی کشمیر کے کئی اضلاع کے علاوہ سرینگر شہر کے بیشتر علاقوں میں پینے کے صاف پانی کی شدید قلت پائی جاتی ہے۔ میں نے روزنامہ گریٹر کشمیر میں شایع ایک مضمون کے ذریعہ یاد دلایا تھا کہ منموہن سنگھ حکومت کے دس سالہ اقتدار کے دوران پی ایچ ای محکمے کو مختلف سکیموں کے تحت اربوں روپے واگذار کئے گئے۔ اْس رقم سے پانی کی تقسیم کاری کے نظام کو مکمل طور پر ازسرنو تعمیر کیا جاسکتا تھا۔ لیکن حال یہ ہے مل شاہی باغ آلسٹینگ میں اریگیشن محکمے کی لائن میں شگاف کا مسلہ ہو یا سوکھ ناگ سکیم میں ناقص پائیپوں کا معاملہ، سرینگر میں پانی کی قلت کو اب نارملائز کیا گیا ہے اور محکمہ بستیوں میں ٹینکر دوڑانے کو ہی سب سیبڑا کام سمجھتا ہے۔
یہی حال سڑکوں کا ہے۔ فروری میں سڑکوں پر میگڈم بچھانے اور گلی کوچوں کی مرمت کے لئے جو رقم واگذار کی گئی تھی وہ اب لیپس ہوچکی ہے، اور اب انتظامیہ بڑی سڑکوں کی تارکول سے لیپاپوتی پر اکتفا کررہی ہے۔
لیفٹنٹ گورنر مْرموْ ، چیف سیکریٹری اور ڈویڑنل کمشنر پی کے پولے کو عوام کے سوالوں کا جواب دینا ہوگا۔
اگر ہمارے خزانہ عامرہ سے 37000کروڑ روپے صرف ملازمین کی تنخواہوں اور افسروں کی دھاک کے لئے صرف ہورہے ہیں ، تو وہ ملازم اور افسر کیا کام کرتے ہیں؟ کیا افسروں کی ترقی اور تنخواہوں میں اضافہ اْن کی کارکردگی کے ساتھ مشروط ہے؟ کیا فنڈس لیپس ہونا ایک نارمل عمل ہے؟ کیا اس کے لئے افسر جوابدہ نہیں؟
کورونا وائرس کے پیش نظر جو انتظامی دقتیں پیدا ہوچکی ہیں وہ بالکل بجا ہیں، لیکن کیا سالہاسال سے التوا میں پڑے پروجیکٹوں پر کسی افسر کی نظر نہیں جاتی؟ سمارٹ سٹی کے نام پر مرکز کو بیوقوف بنانے کا عمل کب تک جاری رہے گا؟
اگر اننت ناگ میں ایک ارب دس کروڑ روپے کی لاگت سے بننے والی سڑک پر کام شروع کیا جاسکتا ہے تو شہر میں سڑکوں کی دیکھ ریکھ، پانی کے نکاس اور پینے کے پانی کی فراہمی کوہِ قاف پر چڑھائی جیسا مشکل کیوں؟
اس وقت گورنر کے پاس ایک وسیع الجہت انتظامیہ ڈھانچہ ہے۔ کئی مْشیر ہیں، افسروں کی مشینری ہے، اور ایک انتظامی کونسل ہے۔ اور پھر کام کاج میں سیاسی مداخلت کا بھی مسلہ نہیں ہے۔ اگر اب بھی عام لوگوں کو یہ شکایت ہے کہ انتظامیہ نہ فعال ہے نہ شفاف تو پھر کس دن کا انتظار کریں؟
کورونا وائرس سے بچنے کی تدابیر میں کم از کم حکومت اور عوام ایک ساتھ ہیں۔ حکومت صحت عامہ کی سہولات بہتر بنا رہی ہے اور لوگ احتیاط کرتے ہیں۔ لیکن جب انتظامیہ ناپید ہوجائے تو سمجھ لیجئے کہ بدانتظامی کورونا وائرس سے بھی خطرناک مرض ہے، جسکا علاج عوامی احتیاط نہیں بلکہ سرکاری چابک ہے، لیکن سوال یہ ہے بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے ؟ کی ہمارے ارباب اختیار افسروں سے ڈرتے ہیں؟ اگر انتظامیہ کو فعال اور شفاف نہ بنایا گیا تو یہ تاثر مزید تقویت پائے گا کہ چھوٹے افسر بڑے افسروں کو دلی کے ساتھ خفیہ یارانے کی دھمکی دے کر چْپ کراتے ہیں۔
(کالم نویس سماجی رضاکار ہیں، رابطہ 9469679449