عظمیٰ نیوز سروس
راجوری//ضلع راجوری کے تحصیل کالاکوٹ میں واقع مشہور سیاحتی اور قدرتی مقام تا تا پانی، جو کبھی اپنی شفا بخش خصوصیات اور قدرتی حسن کی وجہ سے دور دور تک پہچانا جاتا تھا، آج انتظامیہ کی مبینہ غفلت اور عدم توجہی کے باعث تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔ مقامی لوگوں اور سیاحوں کا کہنا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کئے گئے تو یہ تاریخی اور قدرتی ورثہ ہمیشہ کے لیے نقصان کا شکار ہو سکتا ہے۔تا تا پانی کا گرم چشمہ برسوں سے مختلف بیماریوں کے علاج کے لئے مشہور رہا ہے۔ یہاں جموں و کشمیر سمیت دیگر ریاستوں سے روزانہ سینکڑوں افراد آ کر گرم پانی میں غسل کرتے اور قدرتی علاج سے فائدہ حاصل کرتے تھے۔ مگر موجودہ صورتحال تشویشناک بنتی جا رہی ہے کیونکہ بنیادی سہولیات کا شدید فقدان ہے اور صفائی ستھرائی کا نظام تقریباً مفلوج ہو چکا ہے۔چشمے کے اطراف ہر جانب کوڑے کرکٹ کے ڈھیر جمع ہیں جن سے بدبو پھیل رہی ہے اور ماحول آلودہ ہو رہا ہے۔
مقامی افراد کے مطابق نالہ کچرے سے بھرا ہوا ہے جس کے باعث پانی کے آلودہ ہونے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو یہ شفا بخش پانی انسانی صحت کے لیے نقصان دہ بھی ثابت ہو سکتا ہے۔گرم پانی کے تالاب تک جانے والی سیڑھیاں اور ٹائلیں انتہائی پھسلن والی ہیں، جس کے باعث حادثات کا خدشہ ہر وقت موجود رہتا ہے۔ سیاحوں نے شکایت کی کہ انتظامیہ نے حفاظتی اقدامات کے حوالے سے کوئی مؤثر قدم نہیں اٹھایا۔ عوام کا مطالبہ ہے کہ تالاب میں غسل کے لئے کم از کم پندرہ منٹ کا باقاعدہ نظام مقرر کیا جائے تاکہ رش کم ہو اور حادثات سے بچا جا سکے۔خواتین سیاحوں نے بھی اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ غسل کے دوران ان کے کپڑے اور جوتے چوری ہونے کے واقعات پیش آتے رہتے ہیں کیونکہ سامان محفوظ رکھنے کے لیے کوئی انتظام موجود نہیں۔ مقامی لوگوں نے تجویز دی کہ تالاب کے احاطے میں لاکرز یا شیلف نصب کئے جائیں اور ٹکٹ کا باقاعدہ نظام متعارف کرایا جائے تاکہ حاصل ہونے والی آمدنی صفائی اور دیکھ بھال پر خرچ کی جا سکے۔تا تا پانی نہ صرف قدرتی حسن بلکہ مذہبی ہم آہنگی کی بھی ایک خوبصورت مثال ہے۔ یہاں مندر اور مسجد دونوں موجود ہیں جہاں ہندو اور مسلم زائرین باہمی بھائی چارے کے ساتھ آتے ہیں۔ روزانہ آنے والے سیاح مقامی معیشت کے لیے بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں اور علاقے کے لوگوں کی روزی روٹی کا ذریعہ بنتے ہیں۔ تاہم گندگی اور بدبو کی موجودگی سیاحت کو بری طرح متاثر کر رہی ہے۔علاقے میں قائم سرکاری سیاحتی ڈاگ بنگلے بھی خستہ حالی کا شکار ہو چکے ہیں اور دیکھ بھال نہ ہونے کے باعث کھنڈر کا منظر پیش کر رہے ہیں۔ مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ اگر ان عمارتوں کی مرمت اور مناسب انتظام کیا جائے تو سیاحوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔بھارتیہ جنتا پارٹی کے ضلع صدر دراس فیاض احمد قاری نے نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قدرت کی اس عظیم نعمت کو نظر انداز کرنا افسوسناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر مناسب منصوبہ بندی اور توجہ دی جائے تو تا تا پانی ملک کے نمایاں سیاحتی مراکز میں شامل ہو سکتا ہے۔ انہوں نے ڈپٹی کمشنر راجوری اور ایس ڈی ایم کالاکوٹ سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر موقع کا دورہ کر کے زمینی صورتحال کا جائزہ لیں۔مقامی عوام کا کہنا ہے کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو شفا بخش چشمہ آلودگی کا شکار ہو کر اپنی اصل شناخت کھو دے گا اور اس خوبصورت وادی کی تباہی میں زیادہ وقت نہیں لگے گا۔ عوام نے انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ تا تا پانی کو محفوظ بنانے کے لیے فوری صفائی مہم، حفاظتی اقدامات اور سیاحتی ترقیاتی منصوبے شروع کیے جائیں تاکہ یہ قدرتی خزانہ آئندہ نسلوں کے لیے محفوظ رہ سکے۔