جموں // ملک میں فرقہ پرستی کی موجودہ نہج کو ملک کی جمہوریت کے لئے ایک بڑا خطرہ قرار دیتے ہوئے جے کے این پی پی کے چیئرمین اور سابقہ وزیر ہرش دیو سنگھ نے روایتی جماعتوں کو اپنے سیاسی مفاد کیلئے ووٹروں کو مذہب کے نام پر منقسم کرنے کا الزام لگایا ہے۔ بدھ کے روز یہاں منعقدہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے جاری لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی او رکانگریس کو فرقہ وارانہ کارڈ چلانے کا الزام لگایا ۔انہوں نے کہا کہ ووٹ بینک سیاست کیلئے ان پارٹیوں نے اپنی فلاسفی کا قتل کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ بی جے پی اور دائیں بازو کی پارٹیوں نے ہندوتو کے نام پر ہندووں سے ووٹ طلب کئے ہیںجبکہ کانگریس اور بائیں بازو کی پارٹیوںنے زعفرانی پالیسی کا توڑ کرنے کیلئے مسلمانوں سے ووٹ طلب کئے ہیں۔ انہوںنے کہا کہ2014کے انتخابات میںترقی اور رشوت خوری سب سے بڑا مدعا تھا ،جس دوران نریندر مودی نے اپنے ٓپ کو ترقی کا مسیح پیش کیا تھا ۔لیکن 2019 کے انتخاابات میں یہ دونوں مدعے کھو گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ فرقہ پرستی کی نہج کثرت اور مل جل کے رہنے کیلئے ایک بڑا خطرہ ہے۔انہوںنے کہا کہ کانگریس اور بی جے پی کو یقین ے کہ ہندو تو ان کو سیاسی فاعدہ ے گا۔پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ہرش دیو نے کہا کہ پینتھرز پارٹی ہمشہ سے ہی نینشلزم،سیکولرزم اور سماجی انصاف کے بنیادی آئینی اصولوں کی محافظ ہے۔ضلع صدر (رورل) سریندر چوہان بھی پریس کانفرنس میں موجود تھے۔