عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر//مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ 5 سے 7 فروری تک تین روزہ دورے پر جموں و کشمیر آ رہے ہیں، جہاں وہ خطے کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال کا تفصیلی جائزہ، سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں سے ملاقات اور متعدد ترقیاتی منصوبوں کا سنگِ بنیاد رکھیں گے۔ یہ دورہ حالیہ مہینوں میں بڑھتی ہوئی ملی ٹینٹ سرگرمیوں اور بالائی علاقوں میں غیر ملکی ملی ٹینٹوں کی موجودگی کے تناظر میں نہایت اہم تصور کیا جا رہا ہے۔امیت شاہ 5 فروری کی شام 5 بجے جموں پہنچیں گے اور براہ راست لوک بھون کا رخ کریں گے، جہاں اسی روز سیاسی لیڈران سے ان کی اہم ملاقات طے ہے۔
ان ملاقاتوں میں جموں و کشمیر کی موجودہ سیاسی صورتحال، عوامی مسائل اور سیکیورٹی چیلنجز پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔مرکزی وزیر داخلہ 6 فروری کی صبح ہیرا نگر (کٹھوعہ) کے بین الاقوامی بارڈر کا دورہ کریں گے، جہاں وہ بارڈر سیکیورٹی فورس کی جانب سے سرحد پار دراندازی روکنے کے لیے نصب کی گئی جدید ٹیکنالوجی اور آلات کا معائنہ کریں گے۔ بی ایس ایف نے حالیہ ہفتوں میں ڈرونز، جدید سینیسرز اور ہائی ٹیک نگرانی نظام نصب کیے ہیں تاکہ پاکستان سے دراندازی کی کسی بھی کوشش کو ناکام بنایا جا سکے۔اسی روز دوپہر میں امیت شاہ لوک بھون جموں میں اعلیٰ سطحی سیکیورٹی اجلاس کی صدارت کریں گے، جس میں لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا، مرکزی وزارتِ داخلہ کے اعلیٰ حکام، نیم فوجی دستوں کے سربراہان، پولیس حکام اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے نمائندے شریک ہوں گے۔ 7فروری کو امیت شاہ صبح جموں سے سری نگر روانہ ہوں گے، جہاں وہ متعدد ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح کریں گے۔ مرکزی حکومت کے مطابق جموں و کشمیر میں ترقیاتی رفتار تیز کرنے اور بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے لیے اگلے چند ماہ میں بڑے پروجیکٹس کا اعلان متوقع ہے۔اسی روز دوپہر میں امیت شاہ سری نگر سے چھتیس گڑھ کے شہر رائے پور روانہ ہوں گے۔