واشنگٹن//امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا کو اپنی ’’احمقانہ پالیسیوں‘‘ سے سالانہ 800 بلین ڈالر خسارے کا سامنا ہے جبکہ دیگر ممالک اس سے فائدہ اْٹھا رہے ہیں۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنی ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ امریکا کے تجارتی سودے اور پالیسیاں بے وقوفانہ ہیں جس کی وجہ سے امریکا کو سالانہ 800 ارب ڈالر تجارتی خسارہ ہو رہا ہے، امریکی اپنی ملازمتیں اور دولت دوسرے ملک کے شہریوں کو دے رہے ہیں اس طرح دوسرے ممالک نے تو امریکا سے فائدے اٹھائے لیکن خود امریکا خسارے میں جا رہا ہے۔امریکی صدر نے مزید کہا کہ اس پالیسی کی وجہ سے دوسرے ممالک ہم پر ہنستے ہیں کہ امریکی لیڈر کتنے بے وقوف ہیں کہ دوسرے ممالک کو نوکریاں اور تجارت کے مواقع فراہم کر رہے ہیں لیکن خود خسارے میں جا رہے ہیں تاہم اب مزید یہ پالیسی جاری نہیں رکھی جا سکتی، امریکی قیادت اب اپنے مفاد کو مد نظر رکھتے ہوئے پالیسی مرتب کرے گی۔ڈونلڈ ٹرمپ اپنے متنازعہ بیانات اور سخت موقف کے باعث امریکی تاریخ کے متنازعہ ترین صدر ثابت ہوئے ہیں، انتخابی مہم سے پالیسیاں تبدیل کرنے تک ٹرمپ کو خود اپنے شہریوں، سیاسی قیادت اور میڈیا کی تنقید کا سامنا رہا ہے اور اس حالیہ بیان نے امریکا میں ملازمت اور کاروبار کرنے والے غیر ملکیوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا کا مرکزی میڈیا دنیا بھر میں ملک کا مذاق بننے کا سبب بن رہا ہے۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے تحریر کردہ بیان میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی میڈیا کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ امریکا کا میڈیا دنیا بھر میں ملک و قوم کے لیے رسوائی کا باعث بن رہا ہے، بے سرو پا خبریں شائع کرنے والا امریکا کا مرکزی میڈیا پاگل ہو چکا ہے۔امریکی صدر نے اپنی ٹوئٹ ایک آرٹیکل کے جواب میں کی، جس میں امریکی صدر اور ان کے اہل خانہ کو میڈیا کی جانب سے مسلسل تضحیک کا نشانہ بنائے جانے اور امریکی صدر کی نجی زندگی کو زیر بحث لانے کو امریکی تاریخ میں لا ثانی واقعہ قرار دیا گیا تھا، آصرٹیکل ٹرمپ اور ان کے اہل خانہ کی سپورٹ میں تحریر کیا گیا تھا۔آرٹیکل میں معروف ریڈیو پروگرام کے میزبان لیون شو کا زکر کیا گیا تھا جس میں لیون نے مرکزی میڈیا پر ٹرمپ خاندان کو تنقید کا نشانہ بنانے کو متعصبانہ عمل قرار دیا تھا، لیون کا کہنا تھا کہ میں نے اپنی زندگی میں کبھی کسی امریکی صدر کے خلاف اتنی سخت تشہیری مہم نہیں دیکھی جس میں صدر کی ذات کے علاوہ ان کے اہل خانہ کی نجی زندگیوں پر بے ہودہ تبصرے کیے گئے ہوں۔