کرتے ہیں غلاموں کو غلامی پہ رضامند
تاویلِ مسائل کو بناتے ہیں بہانہ اقبالؒ
دہشت گردی کیاہے اور اس کا کیامطلب ہے؟ دہشت گردی کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں کو خوف وہراساں کیاجائے۔ سکون واطمینان کو درہم برہم کیا جائے اور مختلف اقوام اور مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے مابین اختلاف اور نزاع کے حالات پیدا کئے جائیں۔ جہاں تک دہشت گردی کاتعلق ہے۔ تو دہشت گردکوئی بھی فرد ہوسکتاہے۔ اور کوئی گروہ یا جماعت بھی دہشت گرد ہوسکتی ہے۔ لیکن یہ (انفرادی اور گروہی) دہشت گردی اس وقت اور زیادہ سنگین ہوجاتی ہے اور جب اس کی پُشت پر کسی ملک کا ہاتھ ہو۔ اسی کو ہم ریاستی دہشت گردی کہتے ہیں۔یوں تو امریکہ خود کوجمہوریت کا علمبردار اور حقوق انسانی کا سب سے بڑا محافظ گردانتاہے۔ لیکن دہشت گردی کی مذکورہ بالا تعریف کو سامنے رکھ کر گزشتہ کئی سالوں کی امریکی تاریخ کا دیانت داری کے ساتھ تجزیہ کیا جائے۔ توکسی کے لئے بھی یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ امریکہ ریاستی دہشت گردی (State Terrorism)کی یکتا اور جیتی جاگتی مثال ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کی تاریخ میں نظر ڈالنے سے اندازہ ہوتاہے کہ امریکہ اور اس کے حلیفوں کی دہشت گردی کے نتیجے میں لاکھوں افراد مارے جاچکے ہیں۔ واقعہ یہ ہے کہ امریکہ کو نہ کسی ملک کے عوام سے کوئی ہمدردی ہے اور نہ ہی اس کی نظر میںانسانی جان کی کوئی اہمیت ہے۔ پرل ہاربر(1942) میں امریکہ پر کیا گیا جاپانی حملہ کے جواب میں امریکہ نے ہیروشما اور ناگاساکی پر بم برسائے اور جان بوجھ کر بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنایا گیا تو خود امریکہ کے اسٹرایٹجک بامبنگ سروے (Stragetic Bombing Survey)کی رپورٹ میں کہاگیا۔ ہیرو شما اور ناگاساکی کو اس لئے نشانہ بنایا گیا کہ یہ دونوں شہر آبادی والے اور ہر طرح کی سرگرمیوں کے اعلیٰ مراکز تھے۔
ذیل میں ان ممالک کی فہرست دی جارہی ہے جو گزشتہ کئی سالوں کے دوران امریکہ اور ان کے حلیفوں کی دہشت گردی کا شکار ہوئے ہیں۔یہ فہرست بجائے خود بہت طویل ہے ۔ لیکن امریکہ کے جابرانہ کار ناموں کوبیان کرنے کے لئے ناکافی ہیں۔جاپان، فرانس اور جرمنی (1944سے 1945تک) دوسری جنگ عظیم کے دوران امریکہ نے جاپان ، فرانس اور جرمنی کے مختلف شہروں پر بم برسائے ۔ بے شمار معصوموں کی جان گئی۔ صرف ٹوکیوپر ہی ایک رات کی بمباری میں80ہزار افرا د مارے گئے۔ ا ایک امریکی فوجی جوان تینوں ممالک پر بمباری کرنے والوں میںشامل تھا۔ کہتاہے کہ جنگ عظیم کے خاتمہ کے کئی سال بعد ایک مرتبہ جرمنی کے شہر پلسن گیا۔ وہاں میںایک بزرگ جوڑ ے سے ملا۔ میں نے ان سے بلاتکلف کہہ دیا کہ میں بھی پلسن پربمباری کرنے والوں میںشامل تھا۔ تو انہوںنے کہاکہ جب تم اپنا کام کرکے چلے گئے تو شہر کی گلیاں لاشوں سے اٹی ہوئی تھیں۔ہیروشما ناگاسکی(اگست1945)
:امریکہ نے جاپانی شہروں، ہیروشما اور ناگاساکی پر نیوکلیائی بم داغے۔ ہزاروں بلکہ لاکھوں بے گناہ موت کاشکار ہوئے۔ ان دونوں جگہوں پر امریکہ کانشانہ فوجی ٹھکانے نہیںتھے۔ بلکہ معصوم شہری تھے مارے گئے ۔ ڈیڑھ لاکھ افراد میں تقریباً تمام شہری تھے۔
کوریا :
دوسری جنگ عظیم کے بعد امریکی سامراج نے سب سے پہلے کوریاکو اپنی دہشت انگیزی کا نشانہ بنایا۔ جنگ عظیم ختم ہونے سے پیشتر کوریائی عوام نے کوریا کا بیشتر حصہ جاپانی عسکریت پسندوں سے آزاد کرواکر آزاد حکومت قائم کرلی تھی۔ لیکن جنگ عظیم کے خاتمہ کے بعد امریکی سامراج نے آزاد انقلابی حکومت کوختم کرکے اپنے پٹھوسنگ مِن ری کی حکومت کرنے کی کوشش کی اور اس سلسلہ میں اپنی فوجیں کوریا میں اُتاردیں۔ امریکی فوجوں نے اس یلغار اور دہشت گردی میںہوائی ، بحری اور بری فوجوں کا بھرپور استعمال کرکے لاکھوں کوریائی کو عوام کولقمہ ٔ اجل بنایا۔ جسے ساری دُنیا جانتی ہے ، لیکن شمالی کوریائی کو تو وہ فتح نہ کرسکے لیکن جنوبی کوریا میںاپنی پٹھو حکومت قائم کرکے اسے نوآبادیاتی بنادیا۔ جوکہ آج تک نوآبادیاتی کی شکل میں موجود ہے۔ امریکہ کی دہشت گردی اور جارحیت کی وجہ سے شمالی کوریا اپنے دفاع کے لئے ایٹمی شکتی بننے پرمجبور ہے۔
یوگوسلاویہ) 1942سے2001):
امریکہ اور ناٹوکی افواج کے ذریعہ سے یوگوسلاویائی عوام کے خلاف جارحیت 1999میںامریکی افواج نے 78روز تک لگاتاربغیر کسی رعایت کے عورتوں، بچوں، بوڑھوں، بازاروں ، مسافربردار ریل گاڑیوں، بسوں اور ٹیکسیوں، ہستپالوں اور سکولوں پر بمباری کی۔ اس دہشت گردانہ کاروائی میں تین ہزار سے زیادہ عام شہری مارے گئے۔
فلسطین (1948سے تادم):
1948میںاسرائیل کے قیام کے بعد سے ہی فلسطین میںامریکہ کی شہ پر اسرائیل کی دہشت گردی جاری ہے۔ ایک طرف اسرائیل فلسطین کی آبادیوں پربم داغ رہاتھا۔ تو دوسری طرف امریکہ اسرائیل کو سالانہ کروڑوں ڈالر کی امداد دے رہاہے۔اسرائیلی دہشت گردی فی الواقع امریکی دہشت گردی ہے۔ جس کے نتیجے میں اب تک تقریباً دس لاکھ عام شہری جاں بحق ہوچکے ہیں۔
ویت نام (1945سے 1978) :
امریکہ کے ہاتھوں ویت نامی عوام کی نسل کشی اندازے کے مطابق پچیس لاکھ سے پینتس لاکھ تک لوگ ہلاک ہوئے۔ حالانکہ بعض لوگوںکا خیال ہے کہ امریکہ یہ جنگ ہار گیا۔ لیکن درحقیقت امریکہ نے وہاں کی مٹی کوبنجر اور پانی کوزہر آلود ہ کرکے اپنا اصل مقصد حاصل کرایا۔ یعنی ویت نام کو ایک خوشحال ریاست کی حیثیت سے اُبھرنے نہ دینا۔
کمبوڈیا (1955سے 1973) :
کمبوڈیا ئی حکمران شہزادہ سہانوک نے امریکی دوستی کو پسند نہیںکیا۔ نتیجہ ! پہلے امریکہ نے اس کے قتل کومنصوبہ بنایا اور جب اس کی ناکامی ہوئی تو 1970میںبالآخر اس کا تختہ پلٹ کروایا۔ بڑے پیمانے پر کمبوڈیائی عوام کی نسل کشی کی گئی اور وہاں کی معیشت کو تباہ وبرباد کیاگیا۔ دس لاکھ سے بیس لاکھ تک عوام ہلاک ہوئے۔
گواٹے مالا(1952سے 2001):
سی آئی اے نے جیکوبواربینز کی جمہوری طورپر منتخب گواٹے مالائی حکومت کا سازش کے تحت تختہ پلٹ دیا۔ فوج نے حکومت پر قبضہ کیا اور اس کے بعدبڑے پیمانے پر قتل عام کا دور شروع ہوا۔ تقریباً دولاکھ عام شہری مارے گئے۔ گواٹے مالا کے سلسلہ میں یہ جواز پیش کیاجاتارہاہے کہ وہاں کا اقتدار روسیوں کے ہاتھ میں جانے والاتھا لیکن یہ بات صحیح نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اربنیز (Arbeng) کی کچھ غیر مزدور مزارعہ زمین اپنے قبضہ میں لے لی تھی۔ امریکی حکومت میںشامل کچھ بڑے لوگوںسے اس کمپنی کے خاصے اچھے روابط تھے اور یہی چیز دراصل اربنیز کا تختہ پلٹ دینے کاس سبب بنی۔
لاٹویا(1957سے 1973):
پیتھٹ لائو (Pathet Lao)کی قیادت والی لاٹویا کی کمیونسٹ پارٹی پر ُامن طریقے سے سماج میںتبدیلی لانے کی کوشش کررہی تھی۔ انتخابات میں اسے عوام کا خاصا تعاون حاصل ہوتاتھا اور وہ مخلوط حکومتوں میںبھی شامل ہوئی تھی۔ سی آئی اے نے سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ سے پہلے تین سال تک (1958، 1959اور1960) وہاں تختہ پلٹنے کی کوشش کی ۔ 1965سے 1973تک آٹھ سال کی مدت میں امریکہ نے دو ملین وزن کے بموں سے بھی زیادہ کی بارش کی۔ اس پوری مدت میں ہلاک شدگان کی تخمینی تعداد پانچ لاکھ سے بھی زیادہ ہے۔
کیوبا(1959سے2000):
فیڈرل کاسٹرو 1959کے آغاز میں برسرا قتدار آئے۔ 10مارچ 1959کوامریکہ کی نیشنل سیکورٹی کونسل کی میٹنگ ہوئی۔ جس میں یہ بات بھی کئی بار شامل تھی کہ کیوبامیں ’’کوئی اور حکومت‘‘ برسراقتدارہونی چاہئے اور اس کے بعد کئی بار فیڈرل کاسٹرو کے قتل کی کوششیں کی گئیں۔ ابھی بھی بہت حد تک کیوبائی عوام کے خلاف امریکہ کی ریاستی دہشت گردی جاری ہے۔
کولمبیا(1960سے2000) :
کولمبیا شاید دُنیا کا سب سے جارح ملک ہے اور یہ جارحیت امریکہ کی حمایت یافتہ وہاں کی حکومت نے خود اپنے ہی لوگوں کے خلاف کی ہے۔ Narcoticsکی روک تھام اور اس کے لئے امداد فرہم کرنے کی آڑمیں امریکی حکومت کولمبیا میں ہتھیار فراہم کررہی ہے۔ مزید برآں کولمبیا کی فوج میں شامل اپنے کارآموز نوجوانوں کی ٹریننگ کے واسطے ایک سو تین ملین ڈالر کی امداد دے رہی ہے۔ دراصل کولمبیا امریکہ کا حلیف ہے اور امریکہ کا مقصدعوام کے اندرکوئی سیاسی قوت نہ اُبھرنے دینے کی کولمبیائی حکومت کی کوششوں کا تعاون کرتاہے۔ امریکی حمایت یافتہ کو لمبیائی حکومت کی ریاستی دہشت گردی میں اب تک 67ہزار لوگ مارے جاچکے ہیں۔
کانگو(1960سے 2001) :
کانگو 1960میں بیلجئم کے تسلط سے آزاد ہواا ور پیٹرک لومبا اس کے پہلے وزیرا عظم بنے۔ لیکن بیلجیم اس کے بعد بھی وہاں کی معدینات پر قبضہ جمائے ہوئے تھا۔ پیٹرک لومبا نے یوم آزادی کی تقریب کے موقع پر کئی بیرون ملک کے مہمانوں کے سامنے کانگو کی مکمل سیاسی اور معاشی آزادی کا اعلان کیا اور گوروں کے ذریعہ وہاںکے لوگوں پر کی گئی زیادتیوں اور بے انصافیوں کا تذکرہ کیا۔ نتیجہ بے چارے امریکہ کے ہاتھوں مارے گئے اور ان کی جگہ پر سی آئی اے کا خاص آدمی موبو تو (Moboto)اقتدار میںآیا۔
یونان(1964سے1973):
یونان میں 1964کے عام انتخابات جارج پاپاندریو بھاری اکثریت سے اقتدار میںآئے تھے۔ (یہ یونان کی حالیہ تاریخ میں پہلا موقع تھا جب کسی کو بھاری اکثریت حاصل ہوئی) لیکن 1967 میں جب کہ وہ دوبارہ عام انتخابات کااعلان ہوچکاتھا۔ اور توقع تھی کہ مقبول یونانی جارج پاپاندریو پھر سے بھاری اکثریت سے وزیرا عظم بن جائیںگے مگر امریکہ کی شہ پر فوج نے تختہ پلٹ دیا۔ اس کے بعد بے گناہ شہریوں کی گرفتاریوں ، مار پیٹ، ٹارچر کا سلسلہ شروع ہوا۔ بڑے پیمانے پر قتل عام کیا گیا اور صرف پہلے مہینے میں 8000افراد مارے گئے۔ حالانکہ جارج ایک آزاد خیال اور کمیونزم مخالف شخص تھا۔ لیکن اس کابیٹا آندریو کمیونزم کا حامی تھا اور امریکہ کے بہت سے فیصلوں اور پالیسیوں سے ناخوش تھا۔ بھلا امریکہ ’’دادا‘‘ کو یہ بات کیسے برداشت ہوسکتی تھی۔ ایک امریکی اٹارنی جیمس بیکٹ نے (جس کو اس وقت ایمنسٹی انٹر نیشنل نے یونان بھیجا تھا( کہاتھا کہ ’’دنیا تو (بس) وو ہی حصوںمیں منقسم ہے۔ ایک طرف کمیونسٹ ہیںتوا س جانب ایک آزاد دنیاہے۔ روسی ہیں اور امریکی ہیں اور کوئی نہیں۔ ہم کون ہیں؟ (ہم )امریکی ہیں۔ میری پشت پر حکومت ہے۔ حکومت کی پشت پرناٹو ہے اور ناٹو کے پیچھے امریکہ ہے۔ تم ہم سے نہیں لڑسکتے ۔ ہم امریکی ہیں‘‘۔
چلی(1964سے1973):
چلی کا صدرن سالوڈ اور ایلند ے اگرچہ کمیونسٹ تھا لیکن جمہوری طورپر منتخب سرکار کاصد رتھا اور عوام میںخاصا مقبول بھی تھا۔ ظاہر ہے کہ امریکہ کے لئے اس سے زیادہ بُری بات اور کوئی ہوہی نہیںسکتی کہ ایک مارکسی اقتدار میںرہے۔ لہٰذا سی بی اے اور وزارت خارجہ کی پوری مشینری نے ایساکوئی ہتھکنڈا نہیںچھوڑا۔ جس سے سالوڈور کی حکومت کو کمزور کیا جاسکے۔ بالآخر ستمبر1973میںچلی کی فوج نے امریکی تعاون سے سالوڈور کی جمہوری حکومت کا تختہ پلٹ دیا۔ آگسٹو پنوشٹ کی قیادت میں ایک کٹھ پتلی سرکار نے اقتدار سنبھالا ،جس نے ملک میںبڑے پیمانے پر قتل عام کیا۔ تقریباً پانچ ہزار افراد ہلاک اور کم از کم ایک ہزار غائب ہوئے۔ اس وقت کی امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر نے اس موقع پر کہاتھا۔’’ میں یہ نہیں سمجھ پاتا کہ آخر کیوں ہم ہاتھ پر ہاتھ رکھے بیٹھے رہیں کہ ایک ملک محض اپنے عوام کی غیر ذمہ دارانہ حرکتوں کی وجہ سے کمیونزم کی راہ پر جارہاہے‘‘۔
انڈونیشیا(1956):
ایک لمبے عرصے تک کوششوں کے بعد بالآخر امریکہ نے سرکاروں کا تختہ اُلٹ دیا اور فوجی حکمران جنرل سہارتو نے اقتدار سنبھالا ۔ اس کے بعد شروع ہواکمیونسٹوں کا قتل عام۔یہاںتک کہ ان لوگوں کو بھی نہیں بخشا گیاجن پر کمیونسٹوں سے ہمدردی رکھنے کا شک تھا۔ ہلاک شد گان کی تخمینہ تعداد پانچ لاکھ سے دس لاکھ ہے۔ ایک امریکی ڈپلومیٹ نے اس وقت کہاتھا کہ شائد انہوںنے (فوج نے) بے شمار لوگوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔ لیکن یہ سب کچھ برُانہیںہے۔ کبھی کبھی ایسے فیصلہ کن لمحات آہی جاتے ہیں۔ جب آپ کو کاری ضرب لگانی پڑتی ہے۔
مشرقی تیمور(1975 سے 1999):
1975میںانڈونیشیا نے مشرقی تیمور پر اس وقت قبضہ کیا کہ جب خود امریکی صدر گیرالڈفورڈ اور وزیرخارجہ ہنری کسنجر نے سہارتو کو امریکی ہتھیار استعمال کرنے کی اجازت دی ۔ (جبکہ امریکی قانون کے مطابق وہاں کے ہتھیار کو جارحیت کے لئے استعمال کیا جاسکتا) ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق 1989تک امریکی حمایت انڈونیشیائی افواج کے ذریعہ دو لاکھ افراد ہلاک ہوئے۔
غرناطہ(1979سے1984) تک
ایک ملک خواہ کتنا ہی چھوٹا ہو ، خواہ دنیا کے کسی خطے میں واقع ہو،امریکہ کے عمل دخل سے خالی نہیںرہ سکتا۔ 1979میں مورس بشپ اور اس کے حامیوں نے تختہ پلٹ کرکے ملک غرناطہ پر قبضہ کیاتھا۔ حالانکہ بشپ کی پالیسیاں کیوبا کی فیڈرل کاسٹرو کی طرح انقلابی نہیںتھی۔ لیکن امریکہ کو غرناطہ میں ’’ایک اور کیوبا‘‘ کا خطرہ لاحق ہوا۔ نتیجتاً ریگن کی انتظامیہ نے بشپ حکومت کو کمزور کرنے کی لگاتار کوشش کی۔ بالآخر 1983میںاسے کامیابی ملی جس میں اخباری نمائندوں کوشرکت کی اجازت نہیںدی گئی۔ شاید امریکی حکومت نے یہ نہیں چاہا کہ دُنیا یہ دیکھے کہ کس طرح ایک سپرپاور ایک چھوٹی سی ریاست پر ظلم کررہاہے اور اس کے معصوم عوام کوقتل کررہاہے اوراس میں ہلاک ہونے والوں کی تخمینہ تعداد تقریباً 400ہے۔
ایل سالواڈور(1980سے2000):
امریکہ نے ایل سالواڈور (EI Salvadoor) کی کٹھ پتلی حکومت کوبڑے پیمانے پر ہتھیار اور روپیہ پیسہ فراہم کیا تاکہ اُبھرتی ہوئی سیاسی قوت کودبایاجاسکے۔ اس کے علاوہ ایسے خودکش دستوں کو تربیت دی۔ جو ہزاروں افراد کی ہلاکت کا سبب ہے۔ (اس پوری مدت میںتقریباً 75000عام شہری ہلاک ہوچکے ہیں)۔
لیبیا ) 1981سے 1989):
امریکی صدر ریگن کی انتظامیہ کی جانب سے لیبیا پر کی گئی سختی کا یہ سبب بتایا گیا کہ قذافی نے دہشت گردوں کوتعاون دیا۔ حالانکہ قذافی کا ’’جرم‘‘ دراصل یہی نہیںتھا کہ انہوںنے دہشت گردوں کاساتھ دیا۔ بلکہ اس کاجُرم یہ تھا کہ انہوںنے غلط قسم کے دہشت گردوں کا ساتھ دیااور اس دہشت گردی کی مدد نہیںکی اور جس کی مدد امریکہ چاہتاتھا۔ (یعنی امریکہ کے ذریعہ چلائی جارہی دہشت گردی کوتعاون نہیںدیا)۔صحیح بات یہ ہے کہ امریکہ وسط ایشیاء کے تیل پیداکرنے والے ممالک پر کوشش کے باوجود مکمل کنٹرول نہیںکرسکاتھا۔ لیبیابھی بڑی تعداد میں تیل پیدا کرتاہے اور تیل پیدا کرنے والے چند اہم ممالک میں اس کاشمار ہوتاہے۔ 1969سے پہلے وہاں بادشاہت تھی۔ جو امریکہ کی حلیف تھی ۔ اور ایک خاص ٹولی ملک کی ساری دولت پر قابض تھی۔ قذافی نے اس منڈلی کواکھاڑپھینکا تھا اور ایک جمہوری اور خوشحال ریاست کی بنیاد ڈالی تھی اور لیبیاکو امیر ترین ممالک کی فہرست میں لاکھڑاکیاتھا۔ امریکہ کوبھلا یہ کیونکر برداشت ہوسکتاتھا۔ نتیجتاً کئی بار قذافی کے قتل کی کوشش کی گئی۔ ان کے گھر پر بمباری کی گئی۔ جس میں ان کی کمسن بچی سمیت سوسے زیادہ لوگ مارے گئے۔ ان کے تختہ پلٹنے کی کوشش کی گئی۔ معاشی پابندیاں عائد کی گئیں۔ یہاںتک کہ امریکہ نے جنگ خلیج سے پہلے ایران اور شام کی حمایت حاصل کرنے کے لئے کمال بے حیائی کے ساتھ ایرانی طیارہ حادثہ کاالزام بھی لیبیا پر تھوپ دیا۔
نیکاراگوا(1981سے1990) :
نیکاراگو ا (Nicaragua)میں سوموزا کی حکومت امریکی کی حلیف تھی۔ اس کی حکومت کا جب خاتمہ ہوا تو سی آئی اے نے وہاں کی فوج کے ان بقیہ لوگوں کو موسوموزا کے حامی تھے۔ ملاکر ایک نئی فوج بنائی۔ جس کو کنٹراس کے نام سے جانا جاتاتھا۔ ان لوگوں نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی۔ سکولوں اور ہستپالوں کی عمارتوں کو نقصان پہنچایا۔ لوگوں کی بلا وجہ ہی مار پیٹ کی اور بمباری کرکے معصوموں کو ہلاک کیا۔ ہلاک ہونے والوںکی تعداد تقریباً13000 ہے۔ یہ لوگ کس قدر وحشی اور درندہ صفت تھے ۔ اس کا اندازہ خود امریکی بحریہ کے ایک میجر جان اسٹاکویل کے الفاظ سے لگایا جاسکتاہے۔’’ یہ لوگ کسی گائوں میںجاتے ہیں اور افراد خانہ کو گھسیٹتے ہوئے باہر لاتے ہیں۔ بچوںکوباندھ دیتے ہیں اور ان کی آنکھوں کے سامنے ان کے باپ کی کھال نوچ کر جسم سے الگ کردیتے ہیں اور (کبھی) باپ کے منہ میںبندوق کی نال رکھ کر گولی داغ دیتے ہیں۔ بچوں کے سامنے عزت سے کھیلتے ہیں اور کبھی ایسا ہوتاہے کہ والدین کو باندھ دیتے ہیں اور ان کے سامنے ان کے بچوں کے ساتھ وہی سلوک کرتے ہیں‘‘۔
ایران(1988):
3جولائی 1988کوامریکی بحریہ کا ایک جنگی جہاز ایرانی حدود کے اندر سے اپنی سرگرمیاں انجام دے رہاتھاتاکہ ایران وعراق کی جنگ میں عراق کی مدد کرسکے۔ اس امریکی جہاز نے ایران کے ایک مسافر بردار طیارے پر دجو کہ معمول کے مطابق پرواز پر تھا۔ دومیزائل داغے۔جس کے نتیجے میں تمام کے تمام مسافر(290) مارے گئے۔ اس حقیقت کے باوجود کہ اس میں سوار اکثر لوگ ایرانی تھے۔ امریکہ نے ان کے اہل خانہ کوکوئی معاوضہ نہیںدیا۔ جب کہ غیر قانونی مسافروں کے خاندان کو تقریباً تین ملین ڈالر دئیے گئے۔ امریکی صدر جارج بش نے اس وقت ڈھٹائی سے کہاتھا کہ حقائق جوبھی ہوں۔لیکن میںامریکہ کی جانب سے کبھی معافی نہیںمانگوں گا۔ ( اور جب عراق کے خلاف فضاہموار کرنے کی بات آئی تو ایران کو خوش کرنے کے لئے اس حادثہ کا الزام لیبیا کے اوپر لگادیا)۔
پناما( 1989):
امریکہ نے پناما (Panama)پر بمباری کی، گھروں کے گھر ملیامیٹ ہوئے اور اس کے نتیجے میں 15000افراد گھر سے بے گھر ہوئے۔ مرنے والوں کی تعداد حالانکہ امریکہ نے پانچ اورزخمیوں کی تعداد تین ہزار بتائی لیکن اندازہ یہ ہے کہ اس میں ہزاروں لوگ مارے گئے۔
عراق:
’’عراقی عوام کے خلاف امریکی ، برطانوی دہشت گردی جس کاآغاز 1991میں ہواتھا۔ ابھی بھی جاری ہے۔ جنگ خلیج کے دوران عراق پر 177ملین پائونڈ وزن کے بم برسائے گئے۔ بمباری ، کیشیف Polited (پناما اور معاشی پابندیوں کے سبب اب تک لاکھوں شہری جاںبحق ہوچکے ہیں۔ خودا قوام متحدہ کے اندازے کے مطابق ایک ملین سے بھی زیادہ عراقی عوام (جن میںپانچ سال سے کم عمر کے چھ لاکھ بچے شامل ہیں) کیشف پانی کے ذریعہ پھیلنے والی بیماری کے سبب موت کا شکار ہوچکے ہیں۔
افغانستان :
کابل میں جو کچھ ہورہاہے،اس کی تفصیلات ابھی اکٹھا کرنا مطلوب ہے لیکن وہاں امریکہ جو نسل کشی کررہاہے، وہ سب پر عیاںہے۔
یہ تھی بیسیوں صدی کی مختصر تاریخ ایک سیاہ باب، ایسا باب جس کے بارے میں پڑھنا برداشت سے باہرہے۔ یہ امریکی داداگیری نہیں تو اورکیاہے؟
اکیسویں صدی میں بھی امریکی سامراج اور اُس کے حلیفوں کی دہشت گردی جاری ہے جس کو کسی دیگرتحریر کے ذریعہ ضبط تحریر نہیں لایاجائے گا لیکن اس قدر واضح ہے کہ آج بھی ریاستی دہشت گردی کامنبع امریکی سامراج ہے۔