یو این آئی
نیویارک //امریکی شہر سیکرا منٹو میں نہتے فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کے لئے جمعہ 19 نومبر کو ایک بڑی ریلی ہوئی۔کیپیٹل بلڈنگ کے سامنے لان میں ادا کی گئی۔خطبہ برکلے کے پروفیسر ڈاکٹر حاتم بازیان نے دیا۔ نماز کے بعد پروفیسر حاتم، کیئر کے ڈائریکٹر باسم الکرہ ، وائس آف جیو کے نمائندے اور حقوق انسانی کے گروپوں کے نمائندوں اور کمیونیٹی کے دیگر لیڈروں نے خطاب کیا اور اس کے بعد ریلی نے کنونشن سنٹر تک مارچ کیا۔ پریس کانفرنس اور ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ان لیڈروں نے امریکی انتخابات 2024 کے صدارتی، کانگریس اور سینٹ کے امید وارو کو خبردار کیا کہ ہم مسلمانوں اور انسانی حقوق کے اداروں کی نظر آپ پر لگی ہوئی ہے اگر آپ نے فلسطین میں معصوم بچوں ، نہتے عوام ، عورتوں اوربوڑھوں پر اندھا دھند بمباری، بے رحمانہ اور ظالمانہ قتل عام، اور ان کی سرزمین سے ان کی بے دخلی نہ روکی اور ہمارے ٹیکسوں کے پیسے سے اسرائیل کی امداد بند نہ کی اور غزہ میں فوری طور پر فائر بندی کی حمایت نہ کی تو پورے امریکہ میں ہمارے ووٹوں کو بھول جاؤ۔2024 کا انتخاب پہلے کی طرح نہیں ہوگا۔ کیلیفورنیا کے دارلحکومت سیکرامنٹو میں فلسطین عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے منعقدہ ہوئی تھی جس کا مقصد غزہ میں 42 دنوں سے جاری اندھا دھند بمباری اور بچوں سمیت ہزاروں لوگوں کے قتل عام کے خلاف احتجاج تھا اس ریلی کے موقع پر مسلم کمیونیٹی اور یہودیوں اور عیسائیوں کے انسانی حقوق کے مختلف گروپوں کے لیڈروں نے اپنی تقریروں میں کہا کہ امریکہ اور اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں غزہ میں 42 دنوں سے جاری اس صریح ظلم کو بند کرائیں اور غزہ میں سیز فائر کرائیں۔اس سے قبل جمعہ کی نماز کیپیٹل بلڈنگ کے سامنے لان میں ادا کی گئی جس میں ہزاروں خواتین و حضرات نے شرکت کی اس کا خطبہ برکلے یونیورسٹی کے زیتون کالج کے پروفیسر ڈاکٹر حاتم بازیان نے دیا۔انہوں نے خطبہ میں غزہ پر 42 دن سے ہونے والی بمباری سے ہونے والی تباہ کاریوں، بچوں اور عورتوں اور بوڑھوں سیت ہزاروں شہداء اور زخمیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس بمباری سے اب تک12 ہزار سے زیادہ لوگ شہید ہوچکے ہیں جن میں 5 ہزار سے زیادہ معصوم بچے ہیں۔سینکڑوں لوگ تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ فلسطین میں ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت مسلمانوں کی نسل کشی کی جارہی ہے۔اور ان کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا جارہے حقوق انسانی کی کھلم کھلا خلاف روزیاں کی جارہیں لیکن عالمی ضمیر سویا ہوا ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ ہمارے ٹیکسوں سے اسرائیل کو اسلحہ کی سپلائی اور 14 ارب ڈالرز کی امداد بند کی جائے۔دوسرے مقررین نے کہا سیز فائر نہیں تو آپ کو ووٹ بھی نہیں۔نماز جمعہ کی ادائیگی کے بعد لیڈروں نے پریس کانفرنس سے بھی خطاب کیا۔اور مطالبہ کیا کہ فلسطین میں ظلم و زیادتی کو بند کرایا جائے۔جو بائیڈن کی حکومت اسرائیل کو دہشتگرد ملک قرار دے۔ہمارا ٹیکس اسرائیل میں خرچ کرنا بند کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ فلسطینیوں پر ہونے والے ظلم و زیادتی پر اسی طرح اسرائیل کی بھی مذمت کی جائے اور اس پر پابندیاں لگائیں جائیں جس طرح یوکرین پر حملے کے وقت روس کی مزمت اور اس کے خلاف اقدامات کئے گئے تھے۔پریس کانفرنس کے بعد مختلف ملکوں کے ہزاروں افراد نے جن میں عورتیں اور معصوم بچے اور نوجوان بھی بڑی تعداد میں موجود تھے شہر کی مختلف گلیوں میں مارچ کیا۔ریلی کے شرکا نے اپنے ہاتھوں میں فلسطین کا پرچم اور سینکڑوں کی تعداد میں پلے کارڈ اور بڑے بڑے بینر اٹھا رکھے تھے جن پر فوری سیز فائر کرو ، فلسطین کو فری کرو،سر زمین القدس سے 75 سالہ جابرانہ اور ظالمانہ قبضہ ختم کرو، ہمارا ٹیکس اسرائیل میں ہمارے خلاف مت استعمال کرو۔ہم یہودی آپ کے ساتھ ہیں۔ بچوں کا قتل عالم بند کرو کے انگریزی میں نعرے اور مطالبات لکھے ہوئے تھے۔ ریلی کے شرکا راستے بھر فلک شگاف نعرے بھی لگاتے رہیکیپیٹل پولیس بھی ریلی کے دوران حفاظت کیلئے موجود تھی۔ اس ریلی کا اختتام کنونشن سنٹر پر ہوا۔