ڈومیسائل شرط 15سے بڑھا کر 50سال کرنے کا مطالبہ
سرینگر// اپنی پارٹی سربراہ سید الطاف بخاری نے مرکز پر زور دیا کہ وہ جموں و کشمیر میں اعتماد سازی اور منفی ماحول کو ختم کرنے کیلئے نوجوانوں کے ساتھ بات چیت کرے۔ انہوں نے کہا کہ یہ مناسب وقت ہے کہ بامعنی بات چیت کے ذریعے بداعتمادی اور منفی رجحانات کو ختم کیا جائے۔ الطاف بخاری نے جموں و کشمیر کی سرکار پر بھی زور دیا کہ وہ پنچایتی اور بلدیاتی انتخابات کے فوری انعقاد کیلئے اقدامات کرے۔اپنی پارٹی کے صدر نے یہ باتیں سنیچر کو چرار شریف میں ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہیں۔انہوں نے کہا کہ2024میں اسمبلی انتخابات کے انعقاد سے جمہوری عمل کا ایک مرحلہ مکمل ہو گیا تھا، لیکن زمینی سطح پر لوگوں کو بااختیار بنانے اور نچلی سطح پر جمہوری اداروں کو مضبوط بنانے کے لیے ضروری ہے کہ پنچایت اور بلدیاتی انتخابات بغیر کسی تاخیر کے کرائے جائیں۔انہوں نے مزید کہا کہ لیفٹنٹ گورنر کے ایوان سے خطاب میں بھی پنچایت اور یو ایل بی انتخابات کے ذریعے نچلی سطح پر جمہوری اداروں بااختیار بنانے کا ذکر کیا گیا تھا، لیکن ایسا لگتا ہے کہ منتخب حکومت ان انتخابات کے انعقاد میں سنجیدہ نہیں ہے۔بخاری نے بڑھتی ہوئی بے روزگاری پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے حال ہی میں منظور ہونے والے بجٹ میں روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے کچھ نہیں تھا۔
انہوں نے مزید زور دیا کہ موجودہ ریزرویشن پالیسی کو منصفانہ بنانے کے لیے اس میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔حکمراں این سی اور اپوزیشن بی جے پی اور ان جماعتوں کے لیڈران پر عوام کو تقسیم کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے بخاری نے کہا کہ این سی وادی میں لوگوں کی حمایت حاصل کرنے کے لیے بھاجپا کو ہدفِ تنقید بناتی ہے، جبکہ بی جے پی جموں میں عوامی حمایت حاصل کرنے کے لیے این سی کی مخالفت کرتی ہے۔ ایسا کرتے ہوئے دونوں جماعتیں اپنا الو سیدھا کرتی ہیں لیکن اس کی وجہ سے عوام میں تفرقہ پیدا ہوتا ہے اور ہم آہنگی اور بھائی چارے کو نقصان پہنچتا ہے۔اپنی پارٹی سربراہ نے وضاحت کی کہ 8 مارچ 2020 کو اپنی پارٹی کیسے اور کیوں قائم کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک ایسے وقت میں جب جموں و کشمیر اور یہاں کے لوگ دفعہ 370 اور 35اے کی منسوخی کی وجہ سے شدید پریشانی اور اضطراب کے دور سے گزر رہے تھے۔ ہم نے عوام کے حق میں کھڑے ہونے اور اپنا کردار ادا کرنے کا فیصلہ کیا۔انہوں نے کہا، 5 اگست، 2019 کو، مرکزی حکومت نے دفعہ 370 کی منسوخی اور ریاست کو مرکز کے زیر انتظام دو یونین ٹریٹریز میں تقسیم کرنے کے واقعہ نے سب کو ہلا کر رکھ دیا۔ اس فیصلے نے خطے میں ممکنہ ڈیموگرافک تبدیلیوں کا خدشہ پیدا کیا۔
اس وقت ہم نے وزیر اعظم اور وزیر داخلہ سے ملاقات کی اور ان پر زور دیا کہ وہ جموں کشمیر کی زمینوں اور ملازمتوں پر یہاں کے لوگوں کا خصوصی حق برقرار رکھے۔بخاری نے مزید کہا کہ اگر موجودہ حکومت عوام کے مفادات کے تحفظ میں مخلص ہے تو اسے ڈومیسائل سرٹیفکیٹ کے حصول کے لیے اقامتی شرط کو موجودہ 15 سال سے بڑھا کر 50 سال کرنا چاہیے۔اپنی پارٹی کے صدر نے کہا کہ روایتی علاقائی پارٹیوں، خاص طور پر دو خاندانوں کی قیادت والی جماعتوں پر عوام کا مسلسل استحصال کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے عوام پر زور دیا کہ وہ ان کے فریب کا شکار نہ ہوں۔انہوں نے کہا’’ ان روایتی پارٹیوں اور ان کے لیڈروں کی طرف سے آپ کا استحصال اور استحصال کئی دہائیوں سے جاری ہے، بدقسمتی سے، آپ نے انہیں آپ کا استحصال کرنے کی اجازت دی ہے‘‘۔انہوں نے کہا کہ 2024 کے اسمبلی انتخابات میں اپنی پارٹی کو صرف اس لیے نقصان اٹھانا پڑا کہ اس نے جھوٹ نہیں بولا یا جھوٹے وعدوں کا سہارا نہیں لیا۔انہوں نے کہا کہ ہم صرف اس لیے الیکشن ہارے کیونکہ ہم سچائی اور دیانت کی سیاست پر یقین رکھتے ہیں۔ دوسری جماعتوں کے برعکس، ہم جھوٹے وعدوں یا ناقابل حصول اہداف پر یقین نہیں رکھتے۔اس موقع پر پارٹی کے سینئر رہنما اور پارلیمانی امور کمیٹی (پی اے سی)کے چیئرمین نے کہا کہ جن جماعتوں نے انتخابات کے دوران یہ دعوی کیا تھا کہ وہ آرٹیکل 370 کو بحال کرایں گے وہ محض جھوٹ بول رہی تھیں کیونکہ آرٹیکل 370 کو پارلیمنٹ نے منسوخ کیا ہے، ہم اسے اسی وقت بحال کر سکتے ہیں جب ہمیں پارلیمنٹ میں اکثریت حاصل ہو، اور اس کا امکان نظر نہیں آرہا ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ 5 اگست کے واقعات کے بعد ہزاروں لوگوں کو جیلوں میں ڈالا گیا، اور اپنی پارٹی نے 3200 قیدیوں کی رہائی میں کردار ادا کیا۔تقریب سے پارٹی کے جنرل سکریٹری رفیع احمد میر نے بھی خطاب کیا۔