صنعاء// یمنی حکومت اور باغیوں کے درمیان طے ہونے والا معاہدہ کچھ دیر بعد ختم ہوگیا، الحدیدہ میں سرکاری افواج اور جنگجوؤں میں جھڑپیں جاری ہیں۔ تفصیلات کے مطابق جمعرات کے روز سویڈن میں اقوام متحدہ کے تحت ہونے والے امن مذاکرات میں دونوں فریقن کے درمیان کئی نکات پر اتفاق ہوا تھا جس کے بعد یمن میں گذشتہ کئی برسوں سے جاری جنگ کے ختم ہونے کی امید پیدا ہوئی تھی۔ عرب خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ دونوں فریقین کے درمیان معاہدہ ہوا تھا کہ پیر کی شب یمن کے ساحلی شہر الحدیدہ میں جنگ بندی کرلیں گے جس کے بعد متاثرین کے لیے امداد کا سلسلہ شروع ہوسکے گا تاہم الحدیدہ سے جنگجوئوں اور سرکاری افواج کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات آنا شروع ہوگئی ہیں۔ خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ امن مذاکرات کا اصل مقصد جنگ بندی اور متاثرین تک امداد پہنچا تھا، تاہم خبر موصول ہوئی کہ باغیوں نے سرکاری عمارت پر گولا باری کی جس کے بعد جھڑپوں کا آغاز ہوا جو تاحال جاری ہے۔ عرب میڈیا کا کہنا ہے کہ الحدیدہ یمن کی اہم بندرگاہ ہے جس پر درآمدی خوراک، ایندھن اور دواؤں کے لئے دوتہائی آبادی کا انحصار ہے، الحدیدہ بندرگاہ خانہ جنگی کے باعث بند ہے۔ میڈیا کا کہنا ہے کہ خانہ جنگی اور بیرونی حملوں کے باعث یمن میں بچوں سمیت ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور ملک میں اس دور کا بد ترین انسانی المیہ پیدا ہو چکا ہے۔