سرینگر//سابق مرکزی وزیر پروفیسر سیف الدین سوز نے کہا ہے کہ ’’ میں نے جو گزشتہ روز ریاست کے خصوصی درجہ پر بیان دیا تھا اُس کے بارے میں کچھ حلقوں میں غلط فہمی پیدا ہو گئی ہے۔ اس لئے اس مسئلے پر تھوڑی سی وضاحت کی ضرورت ہے‘‘۔ انہوںنے کہاکہ ’میں نے یہ کہا تھا کہ مین اسٹریم الائنس سے اگر کوئی یونٹ علیحدگی اختیار کرتا ہے تاکہ اپنی پارٹی کے مقاصد کو تقویت دے ، تو ایسا ہو سکتا ہے ،مگر الائنس کے مقاصد کو ہر صورت میں تعاون دیا جا سکتا ہے کیونکہ الائنس بجائے خود بڑے مقاصد کی ترجمان ہے‘‘!سوز نے کہاکہ ’میری نظر میں جموںو کشمیر میں موجودہ حالات میں کسی بھی جماعت کو کسی تضاد کا سامنا نہیں ہے اور سبھی جماعتیں یہ جانتی ہیں کہ موجودہ حالات میں مشترکہ مقاصد کی تکمیل کیلئے جدوجہد کی جانی چاہئے‘۔انہوںنے کہاکہ موجودہ حالات میں ایسا طرز عمل یعنی مشترکہ مقاصد کی تکمیل ،ضروری عمل بن گیا ہے جب کہ مرکزی حکومت اس فکر سے آزاد ہو گئی ہے کہ عوامی مقاصد کیا ہیں اور اُن مقاصد کی تکمیل کیلئے جدوجہد کی کیا حقیقت ہے!انہوںنے کہاکہ ’’میری نظر میں اب کے حالات میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ کشمیر کی مین اسٹریم جماعتیں مشترکہ مقاصد کیلئے یکجہتی کا مظاہرہ کریں‘ ۔انہوںنے کہاک اب یہ حقیقت نقش بر دیوار ہے کہ لوگوں کو اپنے مقاصد کی تکمیل کیلئے لامثال یگانگت اور یکجہتی کامظاہرہ کرنا چاہئے۔دریںاثناء کچھ سیاسی گروپ جان بوجھ کر غلط فہمی پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور یہ تاثر دینے میں لگے ہیں کہ کشمیر کے لوگ ریاست کا وہ درجہ بحال کرنا چاہتے ہیں ،جس کے مطابق یونین ٹریٹری کے بجائے یہ باقاعدہ ریاست تھی۔ وہ حقیقت تو اپنی جگہ ہے ، مگر ریاست کے لوگوں کی بنیادی جدوجہد اس بات کیلئے ہے کہ ریاست کا وہ درجہ بحال کیا جائے جو آئین ہند میں اس ریاست کا درجہ دفعہ 370 کے تحت تھا!جو لوگ بی جے پی کی طرح یہ سوچتے ہیں کہ ریاست کا خصوصی درجہ بحال کرنا ناممکن ہے ، تو وہ لوگ احمقوں کی جنت میں رہ رہے ہیں کیونکہ قوموں کی زندگی میں جدوجہد ہی سب سے بڑی چیز ہوتی ہے اور ریاست جموںوکشمیر کے لوگوں کی جدوجہد اس بات کیلئے جاری رہے گی کہ اس ریاست کا وہ درجہ بحال ہو جائے جو اس ریاست کو دفعہ 370 کے تحت حاصل تھا۔ ‘‘