یویارک//یو این آئی//اقوام متحدہ نے صنفی مساوات کے میدان میں ہدف کو حاصل کرنے میں نمایاں کامیابی حاصل کی ہے ۔یہ بات اقوام متحدہ کے جنرل سکریٹری انٹونیو گوٹیرس نے کہی ہے ۔ انھوں نے پیر کو کہا کہ اقوام متحدہ کے صنفی مساوات کو وسیع پیمانے پر اپنانے کے پانچ سال بعد دنیانے صنفی مساوات کے ہدف کو حاصل کرنے میں قابل ذکر کامیابی حاصل کی ہے ۔مسٹر گوٹیرس نے بتایا کہ سال 2017میں اقوام متحدہ کے نظام میں سبھی سطح پر اور سبھی شعبے میں خواتین کی نمائندگی کو بڑھانے کے لئے ہدف اور تعین وقت کے ساتھ صنفی مساوات پر حکمت عملی شروع کی تھی۔انھوں نے پیر کو حکمت عملی کی پانچویں سالگرہ کے موقع پر کہا کہ گزشتہ پانچ سالوں میں اقوام متحدہ نے قابل ذکر پہل کی ایک سیریز حاصل کی ہے ۔انھوں نے کہاکہ ہدف تاریخ سے دو سال پہلے 2020میں پہلی بار اقوام متحدہ کے اعلی قیادت کے درمیان صنفی مساوات حاصل کر لی گئی تھی۔ ساتھ ہی امن مہم کے سربراہوں اور نائب سربراہوں کے درمیان برابری کے ساتھ ساتھ اقوام متحدہ کے ساتھ تال میل کرنے والوں کے درمیان مساوات بھی حاصل کر لی گئی تھی۔انھوں نے کہا ، اقوام متحدہ کے ہیڈ کواٹر میں خواتین کی نمائندگی اب برابری پر پہنچ گئی ہے ۔ کم سے کم 50فیصد خواتین ملازمین کے ساتھ اقوام متحدہ کے تنظیموں کی تعداد پانچ سے بڑھ کر 26ہو گئی ہے ۔اقوام متحدہ کے سربراہ نے کہا کہ وقفہ ابھی نہیں ہوا ہے ، جو اس علاقہ کی دھیمی ر فتار اور یہاں تک کہ کچھ معاملوں میں پیچھے جانے کی طرف اشارہ کرتا ہے ۔انھوں نے شعبے میں اقوام متحدہ سکریٹری کی شروعاتی سطح کے عہدوں پر خواتین کی بھرتی میں کمی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس سے مستقبل میں مساوات پر سنجیدگی پر اثر پڑ سکتا ہے ۔ انھوں نے بتایاکہ صنفی مساوات یکساں حکمت عملی کے تحت اور اصلاح کرنے کے لئے اقوام متحدہ خواتین کو تنظیم کے شعبے کے مشنوں میں بھرتی کرنے کی کوششوں کو مضبوط کرے گا۔ عالمی برادری کو خواتین کے لئے زیادہ دلکش بنانے کے لئے پالیسیوں اور وسائلوں کو دوگنا کرے گا۔