اللہ تعالی نے انسان کو اشرف المخلوقات کا درجہ دیا ہے مگر جب یہی انسان اسفلسافلین کی سطح پر آتا ہے تو انسانیت شرم سے اپنا سر پیٹتی ہے۔ امریکا کے ساتھ یہی کچھ ہوا۔ طاقت کے نشے میں چور وہ دنیا پر اپنی چودھراہٹ دکھارہا تھا ۔اپنی چودھراہٹ میںبدمست ہوکراُس نےآج سے قریباً بیس سال قبل یعنی 2001میںنیویارک کے ٹریڈ سینٹر ٹاورس پر دہشت گردانہ حملے کی آڑ میں یورپ کے نیٹوممالک کے تعاون اور معاونت حاصل کرکے تمام تر طاقتور ٹیکنالوجی اورجدید ترین اسلحہ کے ساتھ افغانستان کی سرزمین پر چڑھائی کی اور بے شمار افغانیوں کا قتل عام کرکے یہاں کی طالبانی حکومت کو برخواست کیا اور کٹھ پُتلی حکومت قائم کرکےناجائز قبضہ جمایا۔افغانستان کے تمام وسائلزپنے کنٹرول میں لانے کے بعد بھی وہ یہاں کی راجدھانی کابل اور بعض گنے چُنے اضلاع کے علاوہ اپنا دبدبہ قائم نہ کرسکااور یورپی ممالک کے تعاون کے باوجود افغان حریت پسندوں کو زیر نہ کرسکا۔طالبان کو صفحۂ ہستی سے مٹانے کے لئے اُس نے اربوں روپے کے جدید ترین مہلک ہتھیاروںیہاں کی اینٹ سے اینٹ بجائی اوریوں افغانستان کو کھنڈرات میں تبدیل کر دیا۔بیس سال کے اس وحشت ناک دہشت گردانہ کھیل کے باوجود اُسے شکست ،ناکامی اور رُسوائی کے سوا کچھ حاصل نہ ہوسکااور بالآخر ذلت کا جامہ پہننے پر مجبور ہوگیا۔لاکھوں معصوم و بے گناہ لوگوں کو تخت و تاراج کرکے بھی وہ یہاں کی اسلامی شناخت اور یہاں کے مسلم عوام کے عزم و استقلال ،عزت وغیرت کو مٹانے میں ناکام رہا۔گویا امریکا جس غرض سے افغانستان میں داخل ہوا تھا اس میں وہ کامیاب نہیں ہوسکا۔ کھربوں روپے کےنقصان ، اپنےفوجیوں کی ہلاکتوںاور مسلسل ناکامیوں کے بعداُسے یہ تک سمجھ نہیں آرہا تھاکہ وہ اب افغان طالبان سے کیسے چھُٹکارا حاصل کرے اوراس ملک سے باہر آسکے۔حالانکہ یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے بلکہ یہ واضح حقیقت ہے کہ آج تک جو کوئی بھی بیرونی طاقت افغانستان پر حملہ آور ہوئی ہے،وہ ذلیل و خوارہو کر نکل باہر آ گئی ہے۔ یہ اللہ کی مرضی ہےیا افغانیوںکی ہمت،حمیت اور غیرت ہے۔
برطانیہ کے بعد سابق سُپر پاور سویت یونین پہلے ہی اس ملک سے شکست فاش ہوکر نکل چکے ہیںاور اب امریکا جیسے موجودہ سُپر پاور مملک اور اس کے نیٹو اتحادی بھی افغانستان سے بے عزت ہو کرنکل رہے ہیں۔ اس لئے افغانستان کو " تہذیبوں کا کھنڈر " کہاگیا ہے۔ یہاں جو بھی طاقت ور ملک داخل ہوتاہے، شکست فاش کھاکر چلا جاتا ہے۔ اب ظاہر ہے کہ افغانیوں نے کبھی شکست تسلیم نہیں کی ہے اور وہ اپنے عہد کے بالکل پکے ہیں۔یہی وہ اصل بات ہے جو بالآخر افغان لوگوں کو جیت سے ہمکنار کرتی ہے۔
اول تو ان کا اللہ پر مکمل ایمان ہے۔دوسرا افغان طالبان دنیا میں رہ کر بھی اس کی جاہ و حشمت سے مانوس نہیں ہوتے۔ گویا دنیا کی چمک دھمک اور رنگینیاںاُن پر اثر انداز نہیں ہوتیں۔ ان کی نظراُس آخرت پر ہے جو دنیا کی دولتوں سے بہت اعلیٰ ہے۔ محل ،مکان، دولت، گاڑیاں،شہرت وغیرہ ان کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنتے۔ ان کی نظر میں ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں۔ ان کے مقابلے میں وہ ممالک، جن کی نظریں چار دن کی زندگی پر ہےکی مکاریاں اور چالاکیاںکام نہیں،اسی لئے ان کے لئے افغانستان کو ہرانا ناممکنات میں شمار ہوتا ہے۔ یہ لوگ محض اسلام کے زبانی نام لیوا نہیں ہے بلکہ اسلام کی تعلیمات پر عمل بھی کرتے ہیںاور وہ ایک اُمت کی شکل میں رہنا پسندکرتے ہیں۔ ایک سربراہ کی رہنمائی میں کام کرتے ہیںاور ہر کوئی معرکہ بھی اپنے رہنما کی پیشوائی میں سرانجام دیتے ہیں۔ یہی اتفاق واتحاد اُن کو جیت سے ہمکنار کرواتا ہے۔ سب مغربی سوپر پاور ممالک نے یہ بات نہ صرفاپنی کانوں سے سُنی ہے بلکہ اپنی آنکھوں سے دیکھا بھی ہے۔ اسی خصوصیت کے بنیاد پر اللہ تعالی ان کو کبھی بھی تنہا نہیں چھوڑدیتا ہے۔
تیسری بات اپنے ملک کی پہچان۔ وہ اپنے ملک کے ہر ذرے سے واقف ہیں۔ باہر سے آنے والی کسی بھی طاقت کے لئے وہاں کی زمین سے واقف ہونا بہت ہی کٹھن کام ہے۔ افغانستان کی سر زمین پہاڑوں سے گری ہوئی ہے، ایسے میں باہر سے آنے والی ملک کو ہر اس زمین پر اپنا قبضہ جمانا آسان نہیں ہوتا جہاں افغان آباد ہیں۔ یہ چیز بھی اس زمین کے لئے مفید ثابت ہوتی آرہی ہے۔
چوتھی ور آخری بات ہےمذہب۔ اس جگہ کو اسلام میں آخری جنگ کے لئے اللہ تعالی نے چنا ہے۔ خراسان سے ہی آخری فوج نکلےگی جو حق اور باطل کے درمیان فیصلہ کرے گی۔ تو اس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہےکہ اس جنگ سے پہلے یہاں میدان جنگ سجا ہے اور اس جنگ کے بعد بھی یہاں میدان ِجنگ سجیں گے۔ اس وقت امریکہ کا یہاں سے نکلنا ہی اُس گھڑی کی طرف اشارہ ہے۔ لگ بھگ ایک مہینے پہلے ۸۰ ممالک برطانیہ میں جمع ہوئے، جن کا مقصد اسلام اور چین کو روکنا ہے۔ یہ بات بھی آنے والے وقت کی طرف عندیہ ہوسکتی ہے۔ جنگ تو کسی بھی صورت میں ہوگی، اب دیکھنا یہ ہے کہ بلاک کہاں اور کن ممالک کے درمیان بنتے ہیں تو ایسے میں افغانستان کی اقتصادی جگہ اور مذہبی خاصیت کی وجہ سے، یہاں بہت کچھ ہونے والا ہے۔ حال ہی میں امریکی صدر نے دنیا کو دو حصوں میں بانٹا ہے۔ ایک جمہوری اور دوسرا غیر جمہوری۔ مگر وہ یہ بات بھول گئےجو ۱۹۹۳ء میں ایک مغربی مصنف نے کہی تھی کہ تصادم تو اسلام اور مغرب کے درمیان ہوگا۔
اب وقت کی نزاکت کو دیکھ کر لگتا ہے کہ آگے افغان طالبان کو بہت کچھ سہنا ہے۔ اس زمین کو کھنڈر بنانے والے بھی کھبی سکھ سے نہیں جی پائیںگے۔ داعش مغربی ممالک کی کارستانی تھی، جو بے نقاب ہو گئ ہے۔ اب طالبان کو ان سے نپٹنا ہے اور وہ لوگ جو یہ خواب دیکھ رہے ہیں کہ افغانستان پھر سے خانہ جنگی میں مبتلا ہوگا، وہ خواب سے بیدار ہو جائیںکیونکہ پراکسی وار کا زمانہ اب ختم ہو چکا ہے۔
رابطہ۔ حاجی باغ، زینہ کوٹ