فلک ریاض
زُلف
وہ اپنی شریکِ حیات کی زلفوں کو بار بار چھیڑ رہا تھاتو بیگم نے ٹوکا۔۔”بس بھی کریں۔۔آپ میرے بالوں کو کھینچتے جا رہے ہیں میرے سر میں درد ہوتا ہے۔۔”
تو وہ اپنا چہرہ اس کی زلفوں میں چھپا کر بولا۔۔یہی زلفیں تو میری کائنات ہے۔۔ان کی خوشبو میری نس نس میں بسی ہوئی ہے۔۔یہ زلف نہیں ریشم کی ڈور ہے۔۔جن کی طرف میں کھنچتا ہی چلا جا رہا ہوں۔وہ رومانوی لہجے میں بول رہا تھا۔۔اور ان کی بیگم تعریف سن کر باغ باغ ہو رہی تھی۔۔
دوسرے دن دوپہری کے وقت”.. اف… بلقیس کتنی بار کہا ہے تم سے اپنے یہ بال بند کر کے کھانا پکایا کرو۔۔وہ چاولوں میں سے ایک لمبا بال کھینچتے ہوئے بولا۔۔غصے کی وجہ سے اس کا چہرہ لال پیلا ہوا جا رہا تھا۔۔ہر طرف گندگی پھیلا رکھی ہے تم نے۔۔۔بہت زیادہ بھوک تھی مجھے اب کون کھائے گا یہ کھانا۔۔کہہ کر وہ باورچی خانے سے تیز تیز قدموں کے ساتھ نکل گیا۔۔۔اور اس کی بیوی کبھی اپنے جاتے شوہر کو اور کبھی اپنے بالوں کو دیکھتے جا رہی تھی۔
واپسی
ایک سال بعد اسے پردیس سے گھر آنا تھا۔اس کے ماں باپ، بیوی اورچھوٹے چھوٹے دو بچے اس سے ملنے کے لئے تڑپ رہے تھے۔۔ہر روز فون کرتے کہ کب آنا ہے کب آنا ہے۔۔وہ بھی بہت خوش تھا کہ گھر جانا ہے۔۔آخر کار ملن کی گھڑی آہی گئی۔وہ گھر پہونچا تو گھر والو کی گویا عید تھی اور اس کی جیسے برات۔۔اس کے لئے طرح طرح کے پکوان تیار کئے گئے تھے۔آؤ بگت۔۔والہانہ استقبال۔۔مکان پھر سے گھر نظر آرہا تھا۔۔۔دو دن بیت گئے۔۔بھر سات دن پھر اکیس دن۔۔ضروریات ِزندگی نے پھر سے سر اٹھانا شروع کیا۔۔گھر والوں کے چہرے پھر سے اداس اداس لگنے لگے۔۔چھوٹی چھوٹی باتوں پہ پھر سے گھر میں جھگڑے ہونے لگے۔۔۔اور اسے محسوس ہونے لگا اسے آئے ہوئے اکیس دن نہیں بلکہ تین مہینے ہو گئے ہیں۔۔وہ آیا تو تھا تین مہینوں کے لئے۔۔ لیکن چہروں کی بدلتی رنگت اور روکھی صورت دیکھ کر ایک مہینہ بعد ہی پردیس کی طرف نکل پڑا۔۔ضرورتیں سکون سے بیٹھنے نہیں دیتی۔۔۔ضرورتیں بڑھ جاتی ہیں تو اجلے چہرے بھی مُرجھائے مُرجھائے نظر آتے ہیں۔
اب پانچ مہینے ہوئے اسے گئے ہوئے۔۔تو گھر والوں کی طرف سے فون کالز آنے لگیں۔۔بولو کب گھر آؤں گے۔۔بہت زیادہ یاد آئی ہے۔
نایاب
اس نے صبح سویرے اسے اپنے آنگن میں دیکھا۔تو اس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی۔آنسوں کا سیلاب اُمڑ آیا۔اوہ۔۔۔تم۔۔۔۔کہاں تھے تم اتنے سال۔۔کہاں رہ گئے ہو۔۔نظر کیوں نہیں آتے ہو۔وہ اپنے جذبات پہ قابو نہ پا سکا۔
تو اس نے بھی جواب دیا۔۔۔سوچا دیس میں بہار آئی ہے۔۔تو میں بھی ہو آؤں ۔۔۔مجھے بھی آپ کی بہت یاد آئی تھی۔۔وہ بھی رونے لگا۔۔۔
تم نایاب کیوں ہوئے ہو۔۔اسِ نے پوچھا۔۔
تو ہدہد نے سر جھکا لیا۔۔۔یہ سوال آپ خود سے پوچھو۔۔۔آپ انسان ہو میں پرندہ۔۔۔۔اللہ تعالی کی خوبصورت تخلیق۔۔۔ہماری نسل ختم ہو گئی ہے۔۔۔وجہ آپ انسانوں کی خود غرضی۔۔سائینسی آلات کا اضافہ۔۔۔ابھی تو میں نظر آرہا ہوں۔۔۔لگتا ہے چند سالوں میں ہم پوری طرح سے نیست و نابود ہو جائیں گے۔پھر دونوں زار و قطار رونے لگے ۔
حسینی کالونی چھترگام کشمیر
موبائل نمبر؛6005513109