بشیر اؔطہر
موت کا فرشتہ
پندرہویں صدی کا ایک انسان تپسیا سے نکل کر اکیسویں صدی میں آ پہنچا۔راستے میں دوڑتی ہوئی مشینوں کو دیکھ کر ٹھٹھک گیا اور ایک راہ گیر سے پوچھا’’یہ کیا ہیں؟‘‘
راہ گیر مسکرا کر بولا’’موت کے فرشتے۔‘‘
وہ خاموش ہوگیا، پھر دھیرے سے بولا’’عجیب زمانہ ہے…‘‘
ہم نے موت کو پہچاننے کے لیے عمریں گزار دیں،اور تم نے اسے رفتار سکھا دی۔”یہ کہہ کر وہ واپس لوٹ گیا،کیونکہ کچھ راستےہر صدی کے انسان کے لئے نہیں ہوتے۔
شادی
شبنم کے باپ کو فوت ہوئے پندرہ برس گزر چکے تھے، اور بڑے بھائی نے شادی رچاتے ہی گھر کی دہلیز پار کر لی تھی۔ اب وہ اپنی بیمار ماں کے ساتھ ایک خالی گھر میں زندگی گزار رہی تھی۔
پرسوں اس کی شادی تھی۔
وہ اپنی سہیلی شائستہ کے پاس گئی اور آہستہ سے بولی’’شائستہ، کل مہندی کی رات ہے، تم بھی آ جانا…‘‘
’’او… واہ! یہ تو خوشی کی بات ہے۔ کیک کہاں سے بنوایا؟ لہنگا کہاں سے لینا ہے؟‘‘شائستہ نے شوخی سے پوچھا۔
یہ سن کر شبنم کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔ اس نے نظریں جھکا لیں اور دھیمی آواز میں بات ٹالتے ہوئے کہا’’اگر آپ کے پاس کپڑے کا کوئی پُرانا جوڑا ہو تو مجھے دے دیجئے… میں وہی پہن کر سسرال چلی جاؤں گی۔‘‘
خانپورہ کھاگ بڈگام ،کشمیر
موبائل نمبر؛7006259067