جموں//سی پی آئی ایم کے سینئر رہنما وسابق ممبراسمبلی محمد یوسف تاریگامی نے گورنر ستیہ پال ملک کے حریت سے بات چیت کرنے کے بیان کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہاکہ شہری ہلاکتوں کے ذمہ داران کا تعین کیاجاناچاہئے ۔ اپنے ایک پریس بیان میں تاریگامی نے کہاکہ گورنر کابیان قابل سراہنا ہے لیکن اعتماد سازی کے اقدام کے طورپر یہ ضروری ہے کہ گورنر انتظامیہ کم از کم پچھلے چھ ماہ کے دوران شہری ہلاکتوں کے ہوئے بڑے واقعات پر معیاد بند انکوائری کرنے کے احکامات صادر کرے اور ذمہ داران کا تعین کیاجائے ۔انہوں نے کہاکہ کولگام کے ہاوورہ علاقے میں جولائی کے مہینے میں فورسز کے ہاتھوں ایک نوجوان لڑکی اور دو لڑکوں سمیت تین بے گناہ شہری مارے گئے اور پھر اکتوبر میں لارو کولگام میں انکائونٹر کی جگہ ہونے والے دھماکے کے نتیجہ میں سات بے گناہ شہری لقمہ اجل بنے لیکن ان واقعات پر کوئی کارروائی نہیں ۔ اسی طرح سے گزشتہ ماہ پلوامہ میں سات مزید شہری مارے گئے ۔تاریگامی نے کہاکہ پی ڈی پی ۔ بی جے پی کے دور میں ایسی ہلاکتوں کی فہرست طویل ہے لیکن اگر گورنر انتظامیہ کی اعتباریت بحال کرناچاہتی ہے تو اس کیلئے ویسا ہی ماحول تیار کرناہوگا اور کم از کم معیاد بند انکوائری کرواکے ذمہ داران کو کٹہرے میں کھڑا کیاجائے ۔تاریگامی نے کہاکہ کشمیر میں موجودہ حالات کی سب سے بڑی وجہ نئی دہلی کی طرف سے کشمیر کے مسئلے کی حقیقت کو سمجھنے سے انکار کرماہے اور بدقسمتی سے اس مسئلہ کو صرف سیکورٹی کی نگاہ سے دیکھاجارہاہے ۔ان کاکہناتھاکہ اعتماد سازی کے اقدامات اور بات چیت شرو ع کرنے کے بجائے بھاجپا حکومت طاقت کا مزید استعمال کرتی جارہی ہے جسے یہ سمجھناہوگاکہ مزید طاقت کا استعمال حالات کو مزید خراب کرے گا۔