سری نگر// پی ڈی پی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کا ماننا ہے کہ کشمیر میں اضافی فوجی جماؤ سے یہاں کے لوگوں کا جینا مزید دو بھر کر دیا جا رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ سیکورٹی کے بہانے پر یہاں کے لوگوں کا دم گھٹایا جا رہا ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر کے بحران کے خاتمے کے لئے فوجی کی بجائے سیاسی حل کی ضرورت ہے ۔موصوف صدر نے ان باتوں کا اظہار بدھ کو ایک ٹویٹ میں کیا۔ انہوں نے یہ ٹویٹ مرکزی حکومت کی طرف سے جموں وکشمیر میں سی آر پی ایف کی 30 اضافی کمپنیوں کی تعینانی کے فیصلے کے رد عمل میں کیا۔محبوبہ مفتی نے اپنے ٹویٹ میں کہا،’’جموں وکشمیر کو فوجی چھاؤنی میں تبدیل کرنے کے بعد بھی کشمیر میں اضافی فوجی دستے لائے جا رہے ہیں‘‘۔انہوں نے کہا،’’یہاں لوگوں کو جو تھوڑی بہت سانس لینے کی جگہ میسر تھی اس کو بھی تنگ کیا جا رہا ہے اور سیکورٹی کے بہانے پر اس کو لوگوں سے چھینا جا رہا ہے‘‘۔ان کا ٹویٹ میں مزید کہنا تھا،’’جموں وکشمیر کے بحران کے خاتمے کے لئے بجائے فوجی کے سیاسی حل کی ضرورت ہے‘‘۔