میلبورن//تیز گیند بازا سکاٹ بولینڈ (4 اوور، 7 رن پر 6 وکٹ) نے اپنے ڈیبیو میچ کی دوسری اننگز میں چھ وکٹ لے کر آسٹریلیا کو انگلینڈ کے خلاف اننگز اور 14 رنز سے زبردست جیت دلائی۔آسٹریلیا نے سیریز میں تین ۔صفر سے ناقابل تسخیر برتری حاصل کرکے ایشز پر قبضہ کرلیا ہے ۔ انگلینڈ کی دوسری اننگز منگل کے روز 27.4 اوورز میں 68 رنوں پر سمٹ گئی اور شرمناک شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ آسٹریلیا کے تیز گیند بازوں نے تیسرے دن بھی انگلینڈ کے بلے بازوں کو باندھے رکھا۔ بولینڈ خاص طور پر جارحانہ انداز میں تھے ۔ انہوں نے صرف 21 گیندوں میں اپنی چھ وکٹیں حاصل کیں۔ انہوں نے دوسرے دن ہی دو وکٹیں حاصل کی تھیں، تیسرے دن بھی چار اہم وکٹیں حاصل کیں۔ دوسرے دن دو وکٹیں لینے والے مشل اسٹارک نے منگل کی صبح بین اسٹوکس کی اہم وکٹ حاصل کی۔ پہلی اننگز میں تین وکٹیں لے کر انگلینڈ کی اننگز کو سمیٹنے میں اہم کردار ادا کرنے والے آسٹریلیائی کپتان پیٹ کمنس کو اس اننگز میں ایک بھی وکٹ نہیں ملا۔ میچ مکمل طور پر بولینڈکے نام رہا، جنہیں میلبورن کرکٹ گراؤنڈ میں وکٹوریہ کے لیے ڈومیسٹک کرکٹ میں بہترین کارکردگی کا انعام ملا تھا۔ بولینڈ کو پلیئر آف دی میچ کے طور پر جانی ملاگھ میڈل ملا جو 1868 میں انگلینڈ کا دورہ کرنے والی مقامی آسٹریلیائی ٹیم کے ایک رکن کے نام ے منسوب ہے ۔ اس میچ پر بھی کورونا کا سایہ تھا کیونکہ پیر کے روز معمول کی جانچ میں انگلینڈ کی ٹیم کے چار ارکان کورونا سے متاثر پائے گئے تھے ۔ اس لیے منگل کو تمام کھلاڑیوں کے آر ٹی پی سی آر ٹیسٹ منفی آنے کے بعد ہی میچ شروع ہوا۔ جو روٹ اور اسٹوکس اگرچہ کریز پر موجود تھے لیکن انگلینڈ کی شکست یقینی دکھائی دے رہی تھی۔ بس یہ دیکھنا تھا کہ ٹیم کب تک لڑ سکتی ہے اور اپنی شکست سے بچ سکتی ہے ۔ انگلش ٹیم دوسری اننگز میں صرف 68 رنز پر آل آؤٹ ہوگئی جوکہ 1904 کے بعد انگلینڈ کا آسٹریلیا سب سے کم اسکور ہے ۔ یہ 1936 کے بعد سے آسٹریلیا میں ایشز کا سب سے کم اسکور بھی ہے ۔ تیسرے دن کا آغاز اسٹارک نے اسٹوکس کا مڈل اسٹمپ بکھیر کر کیا۔ وہ سیدھے بلے سے اسٹارک کی تیز رفتار گیند کا دفاع کرنا چاہتے تھے لیکن گیند بلے اور پیڈ کے درمیان سے نکل کر اسٹمپ پر جا لگی۔ اس کے بعد بولینڈ کو گیندبازی سونپی گئی اور انہوں نے دن کی اپنی پانچویں ہی گیند پر جانی بیرسٹو کو ایل بی ڈبلیو کردیا۔ اس سے پہلے اوور کی پہلی ہی گیند پر انہیں کیمرون گرین کے ہاتھوں زندگی ملی تھی۔ روٹ اس اننگز میں 28 رنز کے ساتھ ایک بار پھر انگلینڈ کے ٹاپ اسکورر رہے لیکن وہ بولینڈ کی ایک گیند کو ڈرائیو کرنے کی کوشش میں ڈیوڈ وارنر کے ہاتھوں سلپ میں کیچ آوٹ ہو گئے ۔ روٹ نے اس سال 1708 رن بنائے اور وہ ایک کیلنڈر سال میں سب سے زیادہ رنز بنانے والوں کی فہرست میں سر ویوین رچرڈز سے صرف دو اور محمد یوسف سے 80 رنز پیچھے رہ گئے ۔ مارک ووڈ اور اولی رابنسن تین گیندوں کے فرق کے بعد پویلین لوٹ گئے ۔