آج سے تقریباً ساڑھے چودہ سو سال پہلے جب پوری دنیا کا معاشرہ کفر و شرک، ضلالت و جہالت کی گھٹا ٹوپ تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا، انسانیت اور شرافت کا نام و نشان ختم ہوچکا تھا، درندگی، حیوانیت ،بے حیائی ،بدکاری اور قتل و غارت گری ہر سُو عام تھی۔ زمین پر وحدانیتِ حق کا کوئی تصور نہ تھا، خود غرضی، مطلب پرستی ، ظلم وستم اورناانصافی شباب پر تھی، خدائے واحد کی جگہ معبودانِ باطل کی پرستش کی جاتی تھی، نفرت وعداوت اور کفر کی نجاست سے قلوب بدبودار ہوچکے تھے،دینی، اخلاقی، سیاسی اور معاشرتی اعتبار سے خرابیاں آسمان چھو رہی تھیں ، پوری انسانیت سسک رہی تھی اور تباہی وبربادی کے بالکل آخری کنارے پر پہنچ چکی تھی تواُس وقت اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے محبوب ترین رسول امام الانبیاء، سید المرسلین وخاتم النبیین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اس دنیا میں رحمۃ للعالمین بناکر مبعوث فرمایا۔
آپؐ کی آمد سے دنیائے کفر میں زلزلہ برپا ہوگیا۔ جب اعلان ہوا کہ اے لوگو! لا الٰہ الا اللہ کہو کامیاب رہوگے۔ایک اللہ کی عبادت کرو اور لا الٰہ الااللہ محمد رسول اللہؐ پر ایمان لاؤ فلاح و صلاح سے ہمکنار رہوگے۔ یہ آواز ایوانِ باطل میں بجلی کا جھٹکاتھا،جس سے باطل طاقتیں کانپ اٹھیں۔یہی آوازِ حق ایک عظیم الشان انقلاب کی ابتداء تھی جس نے دنیائے انسانیت کی تاریخ بدل دی، کفر و شرک کی تاریخ بستیاں خود مینارۂ ہدایت بن گئیںاور پھر دنیا نے وہ منظر دیکھا جس کا تصور بھی نہ تھا۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خزاں رسیدہ دنیا میں قدم رکھتے ہی پوری دنیا کا رخ پلٹ دیا۔دنیا کےتاریک بت کدہ کوتوحید کے نور سے جگمگایا، بندوں کا رشتہ خالقِ حقیقی سے جوڑا، ذلت کی پستیوں میں گرچکے لوگوںکو رفعت کی بلندیوں پر پہنچایا، مشرکوں اور بت پرستوں کو خدا پرست اور بت شکن بنایا، رہزنوں کو رہنمائی سکھلائی، عورتوں کو جانور سمجھنے والوں کو عورتوں کا محافظ بنایا، کمزوروں پر ستم ڈھانے والوں کو کمزوروں کا سہارا بنایا، ظلم وغضب کرنے والوں کو حق پرست اور رحم دل بنایا، قاتل کو عادل بنایا، غلام کو سپاہ سالار بنایا، ،کفر وشرک، بدعت وضلالت اور ہر قسم کی برائی کو شکست فاش ہوئی اور حق و صداقت اور خیر و سعادت نے عالم گیر فتح پائی، نفرت وعدوات کا آتش فشاں سرد پڑگیا محبت و اخوت کی فصلِ بہاراں آگئی، رہزن رہبر اور ظالم عدل وانصاف کے پیامبر بن گئےاور روئے زمین پر ظلم وجور کی جگہ امن و عدل سے بھرپور اسلامی نظام قائم ہوگئی۔
قرآن و حدیث اور ان کی تشریحات و توضیحات کا تمام ذخیرہ چھان لیں، ہمیں از اوّل تا آخر ایک ہستی، ایک ذات اور ایک شخصیت دکھائی دیتی ہے، جو اس پوری بزم کون و مکاں میں محبوبیت عظمیٰ کے مقام پر فائز ہے اور وہ ہے ہمارے آقائے نامدار حضرت محمد رسول اللہؐ کی ذاتِ اقدس۔ آپؐ کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے نسلِ انسانی کے لیے نمونۂ کاملہ اور اسوۂ حسنہ بنایا ہے۔ چنانچہ اللہ نے قرآن مجید کے سورۃ الاحزاب میں اعلان کر دیا کہ ’’اے مسلمانو! تمہارے لیے اللہ کے رسولؐ کی زندگی بہترین عملی نمونہ ہے‘‘۔ آپ ؐ کے طریقہ کو فطری طریقہ قرار دیا ہے۔ محسن انسانیتؐ کی معمولات زندگی ہی قیامت تک کے لیے شعار و معیار ہیں۔ پوری انسانیت کیلئے صبح قیامت تک نبی کریمؐ کی سنت و شریعت ہی مشعلِ راہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سیرت النبیؐ کا ہر گوشہ تابناک اور ہر پہلو روشن ہے۔ یو مِ ولادت سے لے کر روزِ رحلت تک کے ہر ہر لمحہ کو قدرت نے لوگوں سے سند کے ساتھ محفوظ کرادیا ہے۔جسکی جامعیت و اکملیت ہر قسم کے شک و شبہ سے محفوظ ہے۔ دنیائے انسانیت میں کسی بھی عظیم المرتبت ہستی کے حالات زندگی، معمولات زندگی، انداز و اطوار، مزاج و رجحان، حرکات و سکنات، نشست و برخاست اور عادات وخیالات اتنے کامل ومدلل طریقہ پر نہیں ہیں ،جس طرح کہ ایک ایک جزئیہ سیرت النبیؐ کا تحریری شکل میں دنیا کے سامنے ہے۔یہاں تک کہ آپؐ سے متعلق افراد اور آپؐ سے متعلق اشیاء کی تفصیلات بھی سند کے ساتھ سیرت و تاریخ میں ہر خاص و عام کو مل جائیں گی۔ یہ قدرت کا عجیب ہی کرشمہ ہے تاکہ قیامت تک آنے والی نسل قدم قدم پر آقائے دوعالمؐ کی معلومات زندگی سے استفادہ حاصل کرتے ہوئے اپنے آپ کو اسوۂ حسنہ کے رنگ میں رنگ لیں۔اس لیے کہ اس دنیائے فانی میں ایک پسندیدہ کامل زندگی گذارنے کے لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے اسلام کو نظامِ حیات اور رسول اللہؐ کو نمونۂ حیات بنایا ہے۔وہی طریقہ اسلامی طریقہ ہوگا جو رسول اللہ ؐسے قولاً، فعلاً منقول ہے۔آپؐکا طریقہ سنت کہلاتا ہے اور آپؐنے فرمایا ہے کہ جس نے میرے طریقے سے اعراض کیا وہ مجھ میں سے نہیں ہے (بخاری و مسلم)
ہمارے نبی سرکار دوعالم ؐاپنی نوع کے اعتبار سے بشر بلکہ افضل البشر ہیں اور صفتِ ہدایت کے لحاظ سے ساری انسانیت کے لیے مینارۂ نور ہیں۔ یہی وہ نور ہے جس کی روشنی میں انسانیت کو اللہ کا راستہ مل سکتا ہے اور جس کی روشنی تاقیامت درخشندہ وتابندہ رہے گی۔ اسی راستے پر چل کر اصحاب رسولؓ نے دونوں جہاں میں کامیابی حاصل کی۔ اور صبح قیامت تک ہر دورہر زمانہ میں کامیابی و سرفرازی اور سربلندی و خوش نصیبی کی کنجی اتباع سنت ہی ہے۔ سیرت النبیؐ کا مطالعہ اور اسکی اتباع اس لئے ضروری ہے کہ اس کے بغیر ایک مسلمان اپنے آپ کو نمونۂ کامل بنانے پر قادر نہیں ہوسکتا۔آپؐ جہاں داعی برحق ہیں تو وہیں انسانِ کامل بھی ہیں، آپ ؐشوہر بھی ہیں، آپؐ باپ بھی ہیں، آپؐ خسر بھی ہیں آپؐ داماد بھی ہیں، آپؐ تاجر بھی، آپؐ قائد بھی، آپؐ مجاہد بھی، آپؐ غازی اور آپؐ سپہ سالار بھی ہیں۔ آپ ؐمظلوم اورؐ مہاجر بھی ہیں، آپؐ نے مشقت جھیلی اور بھوک بھی برداشت کی، آپؐ نے بکریاں چرائیںاور سیادت بھی فرمائی۔ آپؐ نے معاملات کیےاور لین دین بھی فرمایا، آپؐ نے قرض بھی لیا، آپؐ نے ایک انسان کی حیثیت سے معاشرہ کا ہر وہ کام کیا جو ایک انسان فطری طور پر کرتا ہے۔اس طرح آپؐ کی سیرت طیبہ حیات انسانی کے ہر گوشہ کا کامل احاطہ کرتی ہے۔
دنیا کے گوشے گوشے میں جہاں کہیں محمد عربی ؐ کا دین پہنچا ،عقلمندوں نے اسے بخوشی قبول کیا ہے۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ آج مسلمان ہی دین و شریعت کا پابند نہیں۔ مغربی ممالک والے غیر مسلم بڑی تیزی سے اسلام قبول کررہے ہیں لیکن مسلمان ہے کہ پاکیزہ سنت و شریعت کو چھوڑ کر مغربی تہذیب اپنا رہا ہے۔ جس نبیؐ نے اس امت کی خاطر پیٹ پر پتھریں باندھیں، غزوۂ احد میں اپنے دندان مبارک کو شہید کرا دیے، ہر طرح کی تکالیف، ظلم و ستم کو برداشت کئے، اپنے آخری وقت میں بھی اُمت کی فکریں کیں، کل بروز محشر جب ہر کوئی یا ربی نفسی کہتا ہوگا تو آپؐ یا ربی امتی پکار کر اُمت کی نجات کی فکر کررہے ہوں گے۔آج اسی محمد عربیؐکے اُمتی کو آپ ؐکا طریقہ پسند نہیں۔افسوس!ہم نے اپنا سبق بھلا دیا ہے۔ہم جس مقصد کیلئے اس دنیا میں آئے ہیں، اسکی طرف ہماری توجہ ایک فیصد بھی باقی نہیں رہی۔ہمیں تو دین و شریعت کا محافظ ہونا تھا لیکن ہم خود اسکے قاتل بن گئے ہیں۔آج پوری دنیا میں مسلمان کشمکش کی زندگی گزار رہا ہے۔ ہر طرف اسے ذلت و رسوائی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔مسلمانوں پر ظلم و ستم کے بادل ڈھائے جارہے ہیں۔ اغیار دن رات مسلمانوں کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔جن کے نام سے کبھی دشمنوں کی راتوں کی نیندیں حرام ہوجایا کرتی تھیں آج وہی ڈر و خوف کے ماحول میںجی رہا ہےاور غلامی کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہے۔ جس نے انسان کو انسانیت کا درس دیا، آج اسے ہی بنیادی حقوق سے بھی دستبردار کیا جارہا ہے۔جس قوم کے لوگوں کی قسمیں کھایا کرتے تھے آج انہیں گالیاں دی جارہی ہیں۔ عروج کی بلندیوں پر پہنچ کر زوال کی ان گہرائیوں میں گرنے کی وجہ کیا ہے؟ کیا قرآن بدل گیا ہے؟ کیا شریعت بدل گئی ہے؟ یقیناً نہیں بلکہ مسلمان بدل گیا ہے اور اسکے زوال کی وجہ دین و اسلام سے بیزاری اور سنت و شریعت سے دوری ہے۔ جب مسلمان دین و شریعت کا پابند تھا، پوری دنیا میںاسلام کا بول بالا تھا۔ کفر کی نجاست سے لوگ باہر آکر دین ِ اسلام قبول کیا کرتے تھے۔ لیکن جس دن سے ہم نے دین و شریعت سے دوری اختیار کی، اسی دن سے ہم زوال کی گہرائیوں میں گرنے لگے۔ ہمیں شکوہ اغیار سے نہیں بلکہ ہمارے اپنے لوگوں سے ہے۔ ہم اللہ اور رسولؐ پر ایمان لانے کے باوجود دین سے دور کیوں ہیں؟ مسلمان ہونے کے باوجود غیر مسلم کیوں بن گئے ہیں؟ مسلمان ہونے کے باوجود اسلام کے دشمن کیوں بن گئے ہیں؟ نبی ؐ کے عاشق ہونے کے باوجود نبی ؐکی سنتوں کے دشمن کیوں بن گئے ہیں؟ آج کے مسلمانوں کے طور طریقے، شکل و صورت ہو یا لباس، کھانے ہو یا سونے، معاملات ہو یا معاشرت، اَخلاق ہو یا کوئی دوسرا پہلو یا طریقے کو دیکھ کر یہ معلوم نہیں ہوتا ہے کہ یہ کوئی مسلمان ہے یا کوئی کافر ہے؟ ہمارے چہروں سے، ہمارے طور، طریقوں سے، ہمارے معاملات زندگی سے دین و شریعت کا جنازہ نکل چکا ہے۔ ہمیں تو دین و شریعت کا پابند ہونا تھا لیکن ہمیں غیروں، ناچنے گانے والے بدکاروں کے طور طریقے پسند ہیں۔یاد رکھو! حضورؐ نے ارشاد فرمایا کہ ’’جو شخص دنیا میں کسی کی مشابہت اختیار کرے گا، کل قیامت میں اس کاحشر اسی کے ساتھ ہوگا۔‘‘یہ دنیاوی زندگی ایک دن ختم ہونے والی ہے اور آخرت کی زندگی لامحدود ہے۔ عقلمند شخص وہی ہے جو اپنی آنے والی زندگی کی فکر کرے۔ دین و اسلام کسی کا محتاج نہیں بلکہ ہم اسکے محتاج ہیں۔ اگر ہم اسکی ناقدری کریں گے تو اللہ یہ نعمت کسی اور کو دے دیگا اور ہمارا ٹھکانہ جہنم ہوگا۔لہٰذا حقیقی عاشق رسولؐ وہی ہے جو رسول اللہؐ کی محبت کے ساتھ انکی سنت و شریعت سے بھی محبت کرتے ہوئے اسکی اتباع کرے۔
اللہ تبارک وتعالیٰ کی ہم پر بے شمار نعمتیں ہیں ان نعمتوں کو اگر کوئی شمار کرنا چاہے تو زندگیاں تو ختم ہو سکتی ہیں لیکن نعمتوں کو کوئی گن نہیں سکتا۔ ان میں عظیم الشان نعمت دین و اسلام،کلمہ و ایمان اور حضوراکرمؐ کی بعثت کی نعمت ہے۔ حضرات انبیاء کرام علیہم الصلاۃ والسلام،ائمہ دین، بزرگان سلف کی یادگاروں کا جو اصل مقصد ہے، اسوۂ حسنہ کی اتباع اور نیکی و صداقت کے عملی نمونہ کی پیروی اور اعمال صالحہ کی حقیقی عملی یادگار ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ نبی کریم ؐ سے محبت کے پاکیزہ جذبات آپ ؐکی سیرت طیبہ اور اسوۂ حسنہ کا ذکر خیر ایک مومن کی زندگی کے لئے سب سے قیمتی متاع اور بہترین شغل ہے۔ مگر جب اس کی روشنی میں اپنی زندگی ڈھالنا مقصود ہو، پوری اُمت ہر وقت نبی ؐکی اتباع کی محتاج ہے۔ اس کے بغیر اسلامی زندگی کا تصور نا ممکن ہے۔ نبیؐ کا مقام ومرتبہ ہمیشہ ہمیش کیلئے بلند وبالا کردیاگیا ہے، کسی کے نام نہاد عشق ومحبت سے نہ آپ ؐکے مقام میں بڑھوتری آنے والی ہے نہ خاک چاٹنے والوں کے خاکوں سے آپکا مرتبہ کچھ گھٹنے والا ہے۔ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی اتنی بلند وبالاہے کہ عرش والا کبھی مزمل، کبھی مدثر، کبھی یاسین، کبھی طٰہٰ سے خطاب کرتا ہے۔بڑے بڑے اولو العزم کی بڑائیوں کو اور عظمتوں کی یاد گار زندہ رکھنے کیلئے اسکا تذکرہ محض مجلس آرائی یا عود و لوبان کی دھونی دینے سے نہیں ہوتی بلکہ اس سے اصل غرض یہ ہوتی ہے کہ انکی زندگیوں میں جو اعمال حسنہ اور اخلاق کریمانہ پائے جاتے تھے انکی حتیٰ المقدور اتباع کی ایسی سعی کی جائے کہ آنے والی نسلیں اعمال صالحہ کے نمونوں کو اپنی آنکھوں سے اوجھل نہ ہونے دیں۔ کیونکہ آئندہ نسلوں کی صحیح تعمیر وتربیت میں عملی حیثیت سے یہی کامل زندگیاں اسوہ اور نمونہ بننے کے قابل ہیں۔ اور کون بد نصیب مسلمان ہوگا جسمیں محبت رسولؐ نہیں ہوگی لیکن کیا محبت رسولؐ رسموں تہواروں، جلسے جلوس،میلوں ٹھیلوں، کے بھول بھلیوں میں گم ہو کر رہ جانے کا نام ہے؟ جسکی زندگی نماز، روزے اور سنتوں سے خالی ہو، اغیار کو اپنا آئیڈیل اور نمونہ بناتے ہوں، جنکی تہذیب وتمدن کو دیکھ کر دشمنان اسلام کی یاد تازہ ہوتی ہو، کیا ایسے لوگ عاشقان رسولؐ کہلانے کے لائق ہیں؟ جبکہ رسول اللہؐ نے فرمایا کہ ’’قسم ہے اس ذات کی جسکے قبضے میں میری جان ہے تم میں سے کوئی اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ میں اس کے نزدیک اس کے والدین اور اس کی اولاد سے زیادہ محبوب نہ ہوجاؤں‘‘ ۔کیا اس معیار پر ہمارا عشق رسولؐ اترتا ہے؟ ہمیں خود غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے۔ سیرت النبیؐ کا پیغام یہ نہیں کہ ہم فقط جلسہ و جلوس کریں بلکہ سیرت کا اصل پیغام یہ ہے کہ ہم دین و شریعت کے پابند ہوجائیں۔اپنے آپ کو اسوۂ حسنہ کے رنگ میں رنگ کر شریعت کی سربلندی کے لئے کمر بستہ ہوجائیں ورنہ جو کچھ بھی کیا جارہا ہے سب فریب ِ نفس ہے۔
(بانی و ڈائریکٹر مرکز تحفظ اسلام ہند)
+918495087865, [email protected]