اسلام ہی وہ دین ہے جسے اللہ نے ساری انسانیت کے لئے پسند کیا ہے، یہی تمام انبیاء ورسل کا پیغام ہے اور یہی اولیاء وصالحین کا راستہ اور یہی انسانوں کا نظام حیات ہے۔ کیونکہ یہ دین فطرت ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
پس آپ یکسو ہو کر اپنا رخ دین کی طرف کرلیں، اللہ تعالیٰ کی وہ فطرت جس پر اس نے لوگوں کو پیدا کیا ہے، یعنی ملت اسلام وتوحید پر، اللہ کے بنائے میں کوئی تبدیلی نہیں، یعنی اس دین فطرت کو تبدیل نہ کرو ) یہی سیدھا دین ہے، لیکن اکثر لوگ نہیں سمجھتے (الروم 30)
دوسری جگہ ارشاد ہے:
اور جب آپ کے رب نے اولاد آدم کی پشت سے ان کی اولاد کو نکالا اور ان سے انہی کے متعلق اقرار لیا کہ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ سب نے جواب دیا کیوں نہیں،ہم سب گواہ بنتے ہیں تاکہ تم لوگ قیامت کے دن یہ نہ کہو کہ ہم تو اس سے محض غافل تھے۔ (الاعراف: 172)
اسی مفہوم کو رسول اللہ صلعم نے یوں بیان فرمایا ہے:
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلعم نے ارشاد فرمایا کہ ہر بچہ فطرت (دین اسلام ) پر پیدا ہوتا ہے، پھر اسکے ماں باپ اس کو یہودی یا نصرانی یا مجوسی بنا دیتے ہیں، جس طرح جانور کا بچہ صحیح سالم پیدا ہوتا ہے، اس کا ناک ، کان کٹا نہیں ہوتا ، (بخاری جنائز، مسلم قدر)
ایک اور روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلعم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے بندوں کو حنیف (اللہ کی طرف یکسوئی سے متوجہ ہونے والا) پیدا کیا ہے، تو شیطان ان کو ان کے دین فطرت سے گمراہ کردیتا ہے۔ (مسلم ، کتاب الجنۃ )
تو اسلام وہ دین فطرت ہے جس کی تعلیمات سے انسان اپنے اندر سعادت ، امن وامان وسکون واطمینان اور زندگی کی خوشگوار ی محسوس کرتا ہے۔
اسلام اللہ کا پسندیدہ دین ہے، اسی کے نظام کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لئے چنا اور انبیاء کو حکم دیا ہے کہ وہ لوگوں تک پہنچائیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
بے شک اللہ تعالیٰ کے نزدیک دین اسلام ہی ہے اور اہل کتاب نے اپنے پاس علم آجانے کے بعد آپس کی سرکشی اور حسد کی بناء پر ہی اختلاف کیا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کی آیتوں کے ساتھ جو بھی کفر کرے ، اللہ تعالیٰ اس کا جلد حساب لینے والے ہیں۔ (آل عمران : 19)
دوسری جگہ ارشاد ہے:
اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے وہی دین مقرر کررکھا ہے جس کے قائم کرنے کا اس نے نوح علیہ السلام کو حکم دیا تھا، اور جو وحی کے ذریعہ ہم نے تیری طرف بھیج دی ہے، او رجس کا تاکیدی حکم ہم نے ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ علیہم السلام کو دیا تھا کہ اس دین کو قائم رکھنا اور اس میں پھوٹ نہ ڈالنا (الشوریٰ 13)
سورہ بقرہ میں ہے:
اور اسکی وصیت ابراہیم اور یعقوب نے اپنی اولاد کو دی کہ ہمارے بچو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے اس دین کو پسند فرما لیا ہے، خبردار ، تم مسلمان ہی مرنا (البقرۃ: 132)
سنو جو بھی اپنے آپ کو خلوص کیساتھ اللہ کے سامنے جھکا دے بے شک اسے اس کا رب پورا بدلہ دے گا۔ اس پر نہ تو کوئی خوف ہوگا ، نہ غم واداسی، (البقرہ:112)
تو اسلام ہی وہ دین ومذہب ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں اور ساری انسانیت کی صلاح وفلاح کے لئے پسند فرمایاہے ، اس لئے ہمارے لئے خیر اسی میں ہے کہ ہم اس کی تعلیمات کی پیروی کریں اور اس کے احکام کو اپنی زندگی میں نافذ کریں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ؎
اور اس سے زیادہ اچھی بات کہنے والا کون ہے جو اللہ کی طرف بلائے اور نیک کام کرے اور کہے کہ میں یقینا مسلمانوں میں سے ہون۔ (فصلت: ، حم السجدہ: 173)
اسلام عروج و ترقی ، تہذیب وثقافت اور اونچے اخلاق واقدار اور شاندار کردار ومعاملات کا مذہب ہے، اسلامی تہذیب نے ہی دنیا کو جہالت ونادانی ، تنزلی وانحطاط ، اخلاقی گراوٹ اور بدحال اقدار کی تاریکی سے نکالا جبکہ یہ ساری خرابیاں وبرائیاں اسلام کی آمد سے قبل دنیا میں چھائی ہوئی تھیں، اسلام نے ا پنی تہذیب وثقافت اور بے مثال کلچر کی بنیاد قرآن پر رکھی اور اس کی آبیاری سنت مطہرہ سے کی ، اسلامی تہذیب نے اپنے دروازے روئے زمین کے تمام اقوام وعوام کے لئے کھول دیئے اور بڑی وسعت ظرفی کا ان کے ساتھ ثبوت دیا۔ اسلام نے رنگ ونسل ، دین ومذہب ، خطہ وعلاقہ ،ملک وسرزمین ، خاندان وقبیلے کی تفریق نہیں کی بلکہ ہر کسی کو گلے لگایا اور اس کے ساتھ یکساں سلوک کرتے ہوئے سب کو بھائی بھائی قرار دیا۔ اسلامی تہذیب اپنی خصوصیات وانفرادیت ہی کی بنیاد پر اس قابل ہوئی کہ وہ دنیائے انسانیت کی قیادت کرے، تہذیب کے ثمرات سے بہر ور کرکے اور اس کی خوشبوئوں سے معطر کرکے انہیں اپنا گرویدہ بنائے اور دنیا میں انہیں جینے کا سلیقہ سکھا کر قوم وسماج اور ملک وطن کے لئے بہترین شہری بننے کا موقع فراہم کرے۔اسلامی تہذیب کی ان خصوصیات وانفرادیت کو شمار کرانا مقصود نہیں بلکہ ان میں سے چند کا تذکرہ ہم بطور مثال کردینا مناسب سمجھتے ہیں تاکہ اندازہ ہو کہ اسلامی تہذیب نے دنیا کو کیا دیا اور کس طرح انہیں جینے کا سلیقہ سکھایا۔
اسلامی تہذیب کا ایک امتیاز اس کی آفاقیت وہمہ گیری ہے،اسلام کا ہر پیغام آفاقی ہے، اس کی صدائے بازگشت کسی ایک قوم یا فرد یا خطہ کے لئے نہیں بلکہ سارے عالم کے لئے ہے۔ قرآن کریم نے دو ٹوک الفاظ میں اعلان کیا ہے کہ سارے انسان اولاد آدم اور ایک نوع انسانی کے فرد ہیں، باوجود اس کے کہ ان کی نسلیں ، مختلف ان کے وطن جداگانہ اور ران کی پرورش و پرداخت الگ ماحول اور جداگانہ فضائوں میں ہوتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
اے لوگوں ہم نے تم سب کو ایک ہی مردو عورت سے پیدا کیا۔ (یعنی آدم وحوا علیہما السلام سے یعنی تم سب کی اصل ایک اور سب ایک ماں باپ کی اولاد ہو) اور اس لئے کہ تم آپس میں ایک دوسرے کو پہچانو، کنبے اور قبیلے بنا دیئے ہیں۔ (یعنی مختلف خاندانوں ، برادریوں اور قبلیوں کی تقسیم صرف تعارف کے لئے ہے تاکہ آپس میں صلہ رحمی کرسکو) اللہ کے نزدیک سب میں با عزت وہ ہے جو سب سے زیادہ ڈرنے والا ہے، یعنی اللہ کے نزدیک برتری کا معیارخاندان وقبیلہ ،اور نسب ونسل نہیں ، بلکہ معیار تقویٰ ہے، یقین مانو کہ اللہ دانا اور با خبر ہے۔ (الحجرات: 13)
اس کی آفاقیت ہی تمام لوگوں میں حق وصداقت ، خیرخواہی ، عدل وانصاف اور مساوات ویکسانیت کے اقدار واخلاق کو راسخ کرتی ہے، اسلام یہ نہیں دیکھتا کہ بندے کا رنگ ونسل کیا ہے، نسل پرستی پر مبنی تفریق کو پسند نہیں کرتا، بلکہ اسے سختی سے مسترد کرتا اور اسے مٹانے کی تعلیم دیتا ہے، نبی آخر الزماں صلعم کی رسالت سارے عالم کے لئے رحمت تھی ، اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلعم کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا ہے :
میں نے آپ کو سارے عالم کے لئے رحمت ہی بنا کر بھیجا ہے۔ (الانبیاء: 107)[
ایک دوسری جگہ ارشاد فرمایا ہے:
ہم نے آپ کو سارے انسانوں کی طرف پیغامبر بنا کر بھیجا ہے۔ (سباء:28)
یہی وجہ ہے کہ اسلامی تہذیب کا پیغام عالمی وآفاقی پیغام بنا جسے نافذ کرنے میں سب کے سب یکساں طور پر شریک اور سہیم ہیں، خواہ وہ مغرب کے رہنے والے ہوں یا مشرق کے، شمال کے باشندے ہوں یا جنوب کے، ان کا رنگ گورا ہو یا کالا، ان کا تعلق عرب سے ہو یا عجم سے ، ان کے عادات واطوار اور رہن سہن ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہوں یا مختلف ہوں۔
تہذیبوں کی تاریخ پر نگاہ ڈال کر دیکھیں تو اندازہ ہو گا کہ یہ خصوصیت وامتیاز وانفرادیت صرف اسلام اور اس کی تہذیب کو حاصل ہے۔ کسی بھی دوسری تہذیب یا مذہب کے اندر یہ چیزیں نہیں پائی جاتی ہیں، اس لئے بجا طور پر اسی کو عالمی وآفاقی تہذیب ومذہب کہا جاسکتا ہے، کسی اور کو نہیں۔
تہذیب اسلامی کی دوسری خصوصیت اس کا عقیدہ توحید ہے یعنی عالم کا پروردگار اللہ جل شانہ اپنی ذات وصفات میں منفرد ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں، اس عقیدہ توحید کا اثر ان کی تہذیب پر نمایاں طور پر نظر آتا ہے، اور اس عقیدے نے انسانیت کے سفر کو آگے بڑھانے اور اس کے قافلے کو کھلی فضائوں میں سانس لینے کا موقع فراہم کرنے میں اہم رول ادا کیا، اسی کے زیر اثر انسانیت کا معیار بلند ہوا اور اسے ظلم وتعدی وسرکشی سے نجات حاصل کرنے میں مدد ملی اور انہیں مجبور کیا کہ وہ اس کائنات کے خالق ومالک اور اسے چلانے والے کی ذات میں غوروفکر کریں ، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔
لوگو! تم پر جو انعام اللہ نے کئے ہیںانہیں یاد کرو کیا اللہ کے سوا اور کوئی خالق ہے جو تمہیں آسمان وزمین سے روزی پہنچائے اس کے سواء کوئی معبود نہیں، پس تم کہاں الٹے جاتے ہوں۔ (یعنی اس بیان وضاحت کے باوجود بھی تم غیر اللہ کی عبادت کرتے ہو؟ (فاطر: 3)
اسی کا اعلان رسول اللہ صلعم نے بھی حجۃ الوداع کے خطبہ میں فرمایا : اے لوگو: آگاہ ہوجائو کہ تمہارا رب ایک ہے اور تمہارا باپ بھی ایک ہے، کسی عربی کو عجمی پر اور کسی عجمی کو عربی پر کوئی فضلیت نہیں اور نہ ہی کسی گورے کو کالے پر اور کالے کو گورے پر ، سوائے تقویٰ کے (مسند احمد)
اسلام اور اس کی تہذیب کی ایک خصوصیت اس کی میانہ روی ، اعتدال پسندی اور توازن ہے، یہ توازن روح ومادیت کے تقاضوں میں بھی ہے، انسانی افکار وخیالات میں بھی ہے۔ علوم شرعیہ اور علوم حیات میں بھی ہے۔ دنیا وآخرت کے امور میں بھی ہے، حقوق وذمہ داریوں میں بھی ہے، انفرادی جذبات اور سماجی مفادات ومصالح میں بھی ہے اور دیگر دینی ودنیوی امور ومعاملات میں بھی ہے ، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
اللہ تعالیٰ کسی جان کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا: (البقرہ:286)
دوسری جگہ ارشاد ہے۔
اور جو کچھ اللہ تعالیٰ نے تجھے دے رکھا ہے اس میں سے آخرت کے گھر کی تلاش بھی رکھ اور اپنے دنیوی حصے کو بھی نہ بھول( القصص: 77)
اسلام اور اس کی تہذیب اسی میانہ روی توازن اور اعتدال پسندی کی حامل ہے۔ جو کسی دوسرے دین ومذہب اور دوسری تہذیب وکلچر میںمفقود ہے، اسلام اور اس کی تہذیب کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ یہ اخلاقی رنگ سے رنگا ہوا ہے، اقتدار وحکمرانی ہو یا فیصلے ‘علم وحکمت ہو یا قانون سازی وتشریع ہو یا جنگ وجدال ہو یا امن وسکون اور سماجی معاملہ ہو یا مالیاتی و معاشی ، خاندانی و گھریلو معاملہ ہو یا عوام الناس کی محفل ہر جگہ اور ہر قدم پر اسلام اخلاقی اصولوں کو ملحوظ رکھتا ہے، قانون بناتے ہوئے بھی اللہ نے اسے پیش نظر رکھا اور حکمرانوں نے بھی اسے نافذ کرتے ہوئے ‘اس پہلو سے اسلام کا کردار اتنا روشن ونمایاں اور بلند وبرتر ہے کہ اس کے عشر عشیر کو بھی کوئی دوسرا دین ومذہب یا تہذیب وثقافت نہیں پہنچ سکا، خواہ وہ کتنا ہی قدیم یا جدید کیوں نہ ہو، اسلام کے اس اخلاقی پہلو نے انسانیت کو سعادت وخوش بختی سے بہرہ ور کیا اور یہ اس دین حنیف کا اٹوٹ حصہ ہے، جو اس سے جدا نہیں ہوسکتا، خواہ حالات کتنے ہی تبدیل کیوں نہ ہوجائیں، اور زمانہ کتنا ہی بدل نہ جائے ۔(مضمون جاری ہے)
ای میل۔[email protected]
��������