عظمیٰ مانیٹرنگ ڈیسک
جنیوا//غزہ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان سیزفائر کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں روس کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد منظور نہ ہو سکی۔ قرارداد کے مسودے کے حق میں 5 اور مخالفت میں 4 ووٹ آئے جبکہ 6 ارکان نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔روس کے علاوہ چین، متحدہ عرب امارات، موزمبیق اور گیبون نے قرارداد کے حق میں جبکہ امریکا، فرانس، برطانیہ اور جاپان نے قرارداد کی مخالفت میں ووٹ دیا، البانیا، برازیل، ایکواڈور، گھانا، مالٹا اور سوئٹزرلینڈ نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔
قرارداد کی منظوری کے لیے اس کے حق میں کم از کم 9 ووٹ درکار ہوتے ہیں اور یہ لازمی ہوتا ہے کہ اسے 5 مستقل اراکین (امریکا، روس، چین، فرانس اور برطانیہ) کی جانب سے ویٹو نہ کیا جائے۔قرارداد ناکام ہونے پر روسی سفیر واسیلی نیبنزیا نے کہا کہ آج پوری دنیا منتظر تھی کہ سلامتی کونسل خونریزی کے خاتمے کے لیے اقدام اٹھائے گی لیکن مغربی ممالک کے نمائندوں نے ان امیدوں پر پانی پھیر دیا۔روس نے جمعہ کو ایک صفحے پر مشتمل قرارداد کا مسودہ پیش کیا تھا جس میں یرغمالیوں کی رہائی، انسانی بنیادوں پر امداد کی فراہمی اور ضرورت مند شہریوں کے محفوظ انخلا کا مطالبہ کیا گیا تھا۔روس کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد کے متن میں شہریوں کے خلاف تشدد اور دہشت گردی کی تمام کارروائیوں کی مذمت کی گئی تھی لیکن اس میں حماس کا نام نہیں لیا گیا۔