آبائی علاقہ میں جشن کا ماحول، عوام نے ضلع کا فخر قرار دے دیا
سمت بھارگو
راجوری//ضلع راجوری میں اْس وقت خوشی اور جوش و خروش کی لہر دوڑ گئی جب ایشین باکسنگ چمپئن محمد یاسرازبکستان میں منعقدہ انڈر-15 ایشین باکسنگ چمپئن شپ میں تاریخی کامیابی حاصل کرنے کے بعد پہلی مرتبہ اپنے آبائی ضلع پہنچے۔ نوجوان باکسر کی آمد پر راجوری شہر میں شاندار استقبال کیا گیا جہاں نوجوانوں، کھیلوں سے وابستہ افراد اور عام شہریوں کی بڑی تعداد نے ان کا پرتپاک خیر مقدم کیا۔شہر کے مرکزی بازار میں صبح سے ہی لوگوں کا ہجوم جمع ہونا شروع ہوگیا تھا۔ جیسے ہی محمد یاسر وہاں پہنچے تو پورا علاقہ نعروں، مبارکبادوں اور ڈھول کی تھاپ سے گونج اٹھا۔ نوجوانوں نے رقص کرتے ہوئے اپنی خوشی کا اظہار کیا جبکہ متعدد افراد نے پھولوں کے ہار پہنا کر نوجوان چمپئن کو مبارکباد پیش کی۔
لوگوں کا کہنا تھا کہ محمد یاسر نے نہ صرف راجوری بلکہ پورے جموں و کشمیر اور ملک کا نام بین الاقوامی سطح پر روشن کیا ہے۔محمد یاسر کی کامیابی کو اس لئے بھی غیر معمولی قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ انہوں نے انتہائی مشکل اور کٹھن حالات کے باوجود یہ مقام حاصل کیا۔ مقامی ذرائع کے مطابق یاسر ایک غریب خاندان سے تعلق رکھتے ہیں اور گزشتہ کئی برسوں سے شدید مالی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ سن 2018 میں انسدادِ تجاوزات مہم کے دوران ان کا مکان منہدم ہوگیا تھا جس کے بعد خاندان بے گھر ہوگیا۔ بعد ازاں والد کے انتقال نے ان مشکلات میں مزید اضافہ کردیا۔اس وقت محمد یاسر اپنی والدہ، چھوٹے بھائی اور بہن کے ساتھ ایک خستہ حال سرکاری عمارت میں رہائش پذیر ہیں، تاہم ان تمام دشواریوں کے باوجود انہوں نے اپنے خواب کو زندہ رکھا اور کھیل کے میدان میں مسلسل محنت جاری رکھی۔ مقامی لوگوں کے مطابق یاسر نے کبھی حالات کو اپنی کمزوری نہیں بننے دیا بلکہ ہر مشکل کو اپنی طاقت میں تبدیل کیا۔انہوں نے اشتیاق ملک کی نگرانی میں کھیلو انڈیا سنٹر راجوری میں تربیت حاصل کی جہاں ان کی صلاحیتوں کو نکھارنے میں خصوصی کردار ادا کیا گیا۔ کوچ اور دیگر کھیلوں کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یاسر ابتدا ہی سے غیر معمولی صلاحیتوں کے حامل تھے اور انہوں نے اپنی محنت اور نظم و ضبط سے یہ ثابت کردیا کہ عزم مضبوط ہو تو کوئی بھی رکاوٹ کامیابی کی راہ نہیں روک سکتی۔مقامی شہریوں، سماجی کارکنان اور کھیلوں سے وابستہ افراد نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ محمد یاسر جیسے باصلاحیت نوجوانوں کو بہتر سہولیات، مالی امداد اور عالمی سطح کی تربیت فراہم کی جائے تاکہ وہ مستقبل میں مزید کامیابیاں حاصل کرسکیں۔ لوگوں نے امید ظاہر کی کہ اگر مناسب سرپرستی ملی تو یاسر مستقبل میں اولمپکس سمیت دیگر بین الاقوامی مقابلوں میں بھی ملک کیلئے تمغے جیت سکتے ہیں۔بعد ازاں نوجوان چمپئن کے اعزاز میں ڈاک بنگلہ راجوری میں ایک خصوصی تقریب منعقد کی گئی جس میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔ مقررین نے محمد یاسر کی کامیابی کو نوجوان نسل کیلئے ایک روشن مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی جدوجہد ثابت کرتی ہے کہ محنت، لگن اور حوصلہ انسان کو ہر مشکل سے نکال کر کامیابی کی منزل تک پہنچا سکتا ہے۔