یہ ایک خوش آئندہ قدم ہے کہ اقوام متحدہ نے اردو زبان کو بین الاقوامی زبانوں میں شامل کیا ہے جس سے اردو زبان دان طبقے میں خوشی کی لہر دوڑ گئی مگر عام طور سے اس زبان کے ساتھ اب سوتیلی ماں جیسا سلوک کیا جارہا ہے۔تاریخی اعتبار سے اگر دیکھیں تو اردو کی ابتدا بارہویں صدی کے بعد ہوئی اور اردو زبان کی ابتداء کی بنیاد کئی ماہرین لسانیات کے مطابق برصغیر ہندوپاک میں مسلمان فاتحین کی آمد اور مقامی لوگوں کے میل جول سے ڈالی گئی ۔بتایا جارہا ہے کہ یہ زبان فاتحین اور مقامی لوگوں کی رابطہ کی زبان تھی ۔اردو زبان کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس میں کئی زبانوں کا آپس میں گہرا تعلق ہے اور اس میں عربی، فارسی اور ہندی زبان کے علاوہ بہت ساری زبانوں کے الفاظ کا ذخیرہ موجود ہے اور اس میں دوسری زبانوں کے محاورے اور الفاظ کسی بھی دقت کے بغیر سما سکتے ہیں۔ اگرچہ اس زبان کاسحرا مسلمان فاتحین کے سر جاتا ہے وہیں اردو زبان کو تاجر، قلمکار اور شعراء کے ذریعے پھیلنے کا موقع ملااوریہ زبان آہستہ آہستہ دور دور تک پھیل گئی۔
1846میں اردو زبان کو اس وقت پہچان وترقی ملی جب برطانوی دور میں انگریز حکمرانوں نے اسے فارسی کے بجائے انگریزی کے ساتھ شمالی ہندوستان کے علاقوں جیسے جموں و کشمیر میں بطور دفتری زبان شامل کیا ۔یہ بھی ایک خوش قسمت بات ہے کہ اردو زبان کے پاس دنیا کی باقی زبانوں سے کافی تعداد میں معیاری اور وسیع ذخیرہ ادب ہے اور جنوبی ایشیائی زبانوں میں اردو اپنی شاعری کے حوالے سے جانی جاتی ہے ماہرین لسانیات زبانوں کو کم ازکم دس خاندانوں میں تقسیم کرتے ہیں اور اس اعتبار سے دراوڈی خاندان دلچسپی کا باعث ہے۔ اگرچہ اس خاندان سے تعلق رکھنے والی زبانیں جنوبی ہندوستان میں بولی جاتی ہیں لیکن ان کا شمالی ہندوستان کی زبانوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔اس لحاظ سے اردو یا ہندی کا انگریزی یا جرمن سے کوئی رشتہ نکل سکتا ہے لیکن ملیالم سے نہیں۔ کیونکہ اردو زبان کے الفاظ اس کی گواہی دیتے ہیں کہ ان زبانوں کا آپس میں کوئی نہ کوئی تعلق یا رشتہ ضرور ہے۔ انگریزی میں Corner کو اردو میں کونا، Month کو مہینہ ،جرمن میں Maand ،یونانی میں Minas اور فارسی میں ماہ وغیرہ ۔اگر ان الفاظ کا غور سے مطالعہ کیا جائے تو یہ الفاظ ایک ہی خاندان کے لگتے ہیں۔ اس اعتبار سے اردو زبان دنیا کی دیگر زبانوں کی طرح بہت ہی پرانی ہے۔
آبادی کے لحاظ سے دنیا میں سب سے بڑی زبان انگریزی بولنے والوں کے لحاظ سے دوسرے نمبر پر ہے کیونکہ پہلی نمبر پر چین میں بولنے والی زبان مینڈرین دنیا کی سب سے بڑی زبان سمجھی جاتی ہے اور اس لحاظ سے اردو کو بائیسویں نمبر پر جگہ مل رہی ہے ۔اگر اردو اور ہندی کو ایک زبان تصور کیا جائے تو دنیا بھر میں بولی اور سمجھی جانے والی زبانوں میں سے اردو وہندی دنیا کی دوسری بڑی زبان ہے کیونکہ ہندی اور اردو58کروڑ50لاکھ سے زائد لوگ بولتے اور سمجھتے ہیں اور پاکستان میں اردو زبان قومی اور رابطہ عامہ کی زبان ہے۔
جنگ آزادی میں بھی اردو زبان نے کلیدی رول ادا کیا مگر بدقسمتی سے اس زبان کے ساتھ عصر حاضر میں سوتیلی ماں جیسا سلوک کیا جارہا ہے اور باقی محکموں کی طرح سکولوں میں اس زبان کا چلن کم ہوتا جارہا ہے ۔دوسری بدقسمتی اس زبان کی یہ ہے کہ اس زبان کو اب سکولوں سے پوری طرح خارج کیا گیا ہے اور اردو میڈیم کی جگہ اب انگریزی میڈیم نے لی ہے۔ جیسا کہ میں پہلے ہی کہہ چکا ہوں کہ اردو زبان میں بہت ساری زبانوں کے الفاظ گْل مل جاتے ہیں مگر اس کے بنیادی رسم الخط عربی وفارسی نستعلیق اور ہندی زبان کا رسم الخط دیوناگری ہے۔ کئی لوگ اس وقت اردو کو فارسی زبان کی شاخ تصور کرتے ہیں اور کئی اس کے رسم الخط کو نستعلیق سے دیوناگری کرنے اور اس زبان کو ختم کرنے پر تْلے ہوئے ہیں۔
جس اردو زبان کو سرسید احمد خان جیسی عظیم ہستی نے اپنے خون سے سینچا تھا آج اہل قلم کے ذریعے اسی زبان کی دھجیاں اڑائی جارہی ہیں۔ جس زبان کا پہلا شاعر امیر خسرو جیسا ذہین اونچا مقام رکھنے والا اور مقبول عام شاعر تھا کو عصر حاضر میں صرف چند طبقوں کی زبان تصور کیا جارہا ہے۔
اردو زبان نے بھی باقی زبانوں کے ساتھ ساتھ بڑے بڑے فلسفی، شاعر، نقاد، مبلغ، قلمکار اور ناول نگار پیدا کرکے اردو بولنے والی قوم پر ایک بڑا احسان کیا ہے مگر بدلے میں اس قوم نے اردو کو کیا دیا ہے اس سے آپ سبھی حضرات واقف ہیں اور نتائج بھی ہمارے سامنے ہیں۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ اردو زبان وادب کے محافظ و دعویدارگھرانوں کی اگر بات کریں تو ان کے بچے بھی انگریزی سکولوں میں پڑھتے ہیں اور انگریزی بولنے کو ہی ترجیح دیتے ہیں، انہیں بھی اردو بولنے میں شرم سی محسوس ہو رہی ہے۔ اگر برا نہ مانیں تو اردو ادیب اب اردو کو صرف پیٹ پوجا کیلئے استعمال کرتے ہیں لسانی اعتبار سے اگرچہ اردو کا دائرہ وسیع تر ہے مگر لگتا ہے کہ اس کا یہ وسیع دائرہ کم سے کم تر ہوتا جارہا ہے۔
اس وقت یہ زبان جموں وکشمیر کے اسکولوں میں صرف ایک مضمون کی حیثیت سے رائج ہے جبکہ باقی ریاستوں میں اردو زبان کے مضامین نہ ہونے کے برابر ہیں اور اس کی طرف عدم توجہی کی وجہ سے یہ زبان عروج پر پہنچنے سے رہ جاتی ہے۔ اس زبان میں سائنس اور ٹیکنالوجی کے مظامین نہ ہونے کے برابر ہیں جس کی وجہ سے اردو زبان دان جدید سائنس اور ٹیکنالوجی سے کوسوں دور ہیں جو اس زبان کے بولنے والوں کی سب سے بڑی بدقسمتی ہے ۔
ابھی بھی وقت ہے کہ ہم اردو دوستی کا کھلا ثبوت دیکر اس زبان کو بچانے کی خاطر ایسے اقدامات کریں جن سے یہ زبان زندہ وجاوید رہنے کے علاوہ پھر سے واپس پٹری پر آسکے تاکہ اس کے بولنے اور لکھنے والوں کی تعداد میں بتدریج اضافہ ہو جائے۔ ہمیں اس کیلئے ایسے جریدوں، اخبارات اور ویب سائٹس کا ساتھ دینا چاہیے جو اردو زبان کی خاطر کام کررہے ہیں۔ اپنے بچوں کے ہاتھوں میں انگریزی اخبارات کے بجائے اردو اخبارات ہی تھمائیں تاکہ ان کو بھی اردو کے ساتھ محبت ہو جائے۔ اس سے یہ زبان نسل در نسل منتقل ہو جائے گی۔کہیں ایسا نہ ہو کہ گمشدہ زبانوں کی طرح یہ زبان بھی کہیں گْم ہو جائے اور اس زبان میں چھپا ہوا لٹریچر عبرانی زبان کی طرح کوئی لکھ ، پڑھ اور سمجھ نہ سکے۔یاد رکھیں کہ قوموں کا وجود زبان کے زندہ رہنے سے ہی ہوتا ہے۔ اگر زبان خدانخواستہ نیست و نابود ہو جائے تو قومیں بھی نیست و نابود ہوجاتی ہیں۔اس لئے ہمیں چاہئے کہ اپنے قوم کی شناخت کو برقرار رکھنے کیلئے ہم اردو زبان کو زندہ رکھیں۔
پتہ۔خان پورہ کھاگ،بڈگام کشمیر
ای میل۔[email protected]
فون نمبر۔7006259067