جموں //کثیر اللسانی ادبی تنظیم ادبی کُنج جے اینڈ کے ،کے زیراہتمام ایک’افسانہ نِشست‘ کا اِنعقاد کیاگیاجِس کی صدارت کے فرائض جانے مانے قومی سطح کے اُردوُ شاعر اور تنظیم کے جنرل سیکرٹری مالک سنگھ وفا سنگدِل ؔ نے سر انجام دِئے۔ جبکہ نِشست کی نِظامت کے فرائض اِس بار بھی اُردوُزبان کے جواں سال شاعر عبدال جبّارؔ بٹ انجام دِئے۔ نِشست کا آغازتنظیم کے چئیرمین آرش ؔدلموترہ کے ڈوگری افسانہ ’تُندی مہربانی ‘سے ہوُا۔ دوُسرا افسانہ تنظیم کی نائب صدر سنتوش شاہ نادانؔ کا کشمیری زبان میں تھا ۔ جِس کا عنوان تھا ’چُپ‘ ۔تیسرا افسانہ تنظیم کے جنرل سیکرٹری مالک سنگھ وفاسنگدِلؔ کا اُردوُ زبان میں ’آخری تاریخ‘ عنوان سے تھا۔چوتھا افسانہ ’منگ‘ پنجابی زبان میں ہرجیٖت سنگھ اُپل کا ۔پانچواں افسانہ ’سوچ‘کے عنوان سے گوجری زبان میں سروَرچوہان حبیٖبؔ کا تھااور آخری چھٹا افسانہ اُردوُ زبان میں بعنوان ’زہرآب‘ تنظیئم کے صدر شام طالب ؔکا تھا۔ جِن تمام افسانوں پرسیر حاصل تبصرہ بھی ہوُا۔ نِشست میں اِس کے بعد ایک کثیر اللسانی شاعرانہ دور بھی ہوُا۔ جِس میں جانے مانے گلوکار چمن سگوچ نے بھارت کے نامی گرامی شاعر میر تقی میرؔکی غزل ؎ دیکھ تو دِل کی جاں سے اُٹھتا ہے، یہ دھوُاں سا کہاں سے اُٹھتا ہے ‘ اورشام طالب کی غزل ؎ ’خواب تھا میرا چُرایا آپ نے، نیند سے مُجھ کو جگایا آپ نے‘ گا کر ماحول کو معطّرکر دِیا۔ اِس نِشست کے آخر میں ایک دُعائیہ نِشست بھی ہوئی جِس میں ادبی کُنج کی ایک فاؤنڈر ممبر شاعرہ اور سابقہ نائب صدر نرگس سِتارہ مرحوُم کے خاوند رشید سازؔ کی وفات پر گہرے رنج و غم کا اِظہار کِیا گیا اور اُن کی روُح کی تسکین کیلئے دو مِنٹ کی خاموشی اِختیار کی گئی ۔ نِشست کا اِختتام تنظیم کے چئیرمین آرشؔ دلموترہ کی طرف سے پیش کردہ شُکریہ کی تحریک سے ہوُا۔