جموں //ادب کے مختلف رنگوں سے آراستہ رےاست کی کثےر اللسانی ادبی تنظےم ادبی کنج جے اےنڈ کے جموں کے ادبی مرکزکڈذی سکول تالاب تِلّوجموں مےں گذشتہ روز خصوصی طور پر اےک ادبی و ثقافتی نشست کا اِہتمام کےا گےا۔جس مےں مختلف علاقوں کے مختلف زبانوں سے تعلق رکھنے والے قلمکاروں نے حِصّہ لِےا۔ صدارت کے فرائض اُردو کے نامور شاعرسردار مالک سنگھ وفا نے سر انجام دِئے۔ جبکہ نشست کی نظامت کے فرائض عبدالجبّار بٹ نے انجام دِئے۔ نِشست کے آغاز مےںتنظےم کے چیئرمےن آرش دلموترہ نے با اِتفاق رائے لئے گئے فےصلہ کے تحت اعلان کِےا کہ ہر برس کی طرح اِمسال بھی ادبی کُنج کا 44واںےومِ تاسیس ماہ اگست مےںمناےا جائے گا ۔تقریب کا انعقاد جموں کے کے اےل سہگل ہال مےںاےتوار26 اگست کے روز شام 4بجے کےا جائے گا۔اِس ادبی نِشست کے نثری دوَر مےںتنظےم کے صدر شام طالب نے افسانہ نِگاری کے طرزِ تحرےر اور اِس کی مختلف ادبی بارےکےوں پر تفصےلاً روشنی ڈالی۔ اِس نثری دوَر مےں پےش کئے گئے افسانوں کے عنوان اِس طرح تھے۔’ اپنے لہوُا دی پنچھان‘(ڈوگری ) از کے آر سلگوترہ؛دو سہےلےاں (ہندی ) از چمن سگوچ؛اےک دِل دو راہےں (اُردو) از مالک سنگھ وفا؛ بھارت کا پہلا بٹوارہ (ہِندی) از آرش دلموترہ؛راز دار (گوجری) از سرور چوہان؛ سِلسِلہ ( اُردو) از شام طالب۔نشست کے نظمی دوَر کا آغازتنظےم کے شاعر و گلوکار چمن سگوچ نے شام طالب کی اےک مشہور اُردوُ غزل ’مےرے چہرے پہ کِس نے رکھ دِئے اِلزام کے پتھرّ، بہُت پوجے گئے اب تک تُمہارے نام کے پتھر‘ گا کر حاضرےن کو محظوظ و مسروُرکردِِےا۔ اِس شاعرانہ نِشست مےں حِصّہ لےنے والے شعراء کے اِسمِ گرامی اِس طرح ہےں ؛آرش دلموترہ، سنتوش شاہ نادان، مالک سنگھ وفا سنگدِل ،سرور چوہان حبےب، عبدال جبّار بٹ،چمن سگوچ ، کے آر سلگوترہ، راجےو کُمار اور شام طالب۔ نِشست کا اِختتام تنظےم کے چیئرمےن آرش دلموترہ کی طرف سے شعراءکیلئے پےش کی گئی شکرےہ کی تحرےک سے ہوا۔