شبنم بنت رشید
اب نہ شوق، نہ تمنا، نہ کوئی آرزو باقی ہے
اب تو بس زندگی گزر جائے اتنا ہی کافی ہے
ماں میں لاکھ برا، آپ ناکارہ، نکما یا کوئی حقیر تنکا سمجھ لو مگر اب میں تمہیں شکایت کا موقع نہیں دونگا بلکہ جلد ہی میں گھر کے سارے خرچے خود پورے کر لوں گا۔ میرا ہی تو فرض بنتا ہے اس گھر کو سنبھالنے کا۔ بشارت نے اپنی ماں نورہ سے نظریں چراتے ہوئے کہا ۔ نورہ ابھی ابھی دن بھر کام کرکے گھر لوٹی تھی۔ رہنے دو بیٹا پہلے کوئی کام کرنے، کوئی ہنر سیکھنے کی کوشش تو کرلو پھر بڑے بڑے دعوے کرنا۔ نورہ نے اپنے لبوں پر بمشکل طنزیہ مسکراہٹ سجا کر اپنی ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے جواب دیا۔ اسکے ساتھ ہی اپنے سر کی چادر سے اپنے ماتھے کا پسینہ پونچھتے ہوئے رسوئی کی طرف چلی گئی۔ اس کے نصیب میں نہ دھنک کے رنگ تھے اور نا ہی کوئی سکھ۔ بیس پچیس سال کا اسکا بیٹا بشارت نہ کوئی کام کرتا تھا نہ کاروبار بلکہ بڑے آرام سے گھر میں بیٹھ کر پہلے سے ہی مفت کی روٹیاں توڑ رہا تھا۔ اپنے ایک کمرے والے گھر میں بیکار بیٹھ کر محلوں کے خواب دیکھ رہا تھا ۔ اس کا باپ یوسف ایک چھوٹا دوکاندار تھا جسکے اپنے ہی محلے کے گنے چنے گاہک تھے۔ جب تک نورہ کے والدین زندہ تھے وہ انکی کافی مدد کرتے رہے۔ انکے چلے جانے کے بعد بس اب تو گھر کا گزارہ ہی تو چل رہا تھا۔ پھر بھی نورہ بڑی بے فکر تھی کیونکہ گھر کا سربراہ صحیح سلامت تھا۔ ایک ذمہ دار انسان تھا۔ کم کمانے کے باوجود گھر چلا رہا تھا۔ اسلئے بڑے سکون ، قناعت پسندی اور بے فکری سے نورہ اپنے گھر کو سنبھالتی تھی۔ شاید یہ قسمت کا لکھا ہوا ہی تھا کہ بڑے بڑے جتن کے بعد بھی انکا بیٹا بشارت دسویں میں پاس نہ ہوا، اسلئے نورہ اور یوسف دونوں میاں بیوی اپنے بیٹے کی وجہ سے دکھی تھے۔
ایک بار یوسف نے سر درد کی شکایت کی پھر آہستہ آہستہ اس نے اٹھنا بیٹھنا، بات کرنا، کہیں آنا جانا ہی چھوڑ اور اپنے ہی گھر میں ہی قید ہوا۔ اس طرح اس نے بستر پکڑلیا۔ اس بڑی آزمائش کو بشارت سمجھ نہ سکا۔ دکان بند رہنے سے اس میں پڑا مال ضائع ہوا اور اکا دکا گاہک بھی ہاتھ سے چلے گئے۔ شوہر کی بیمار طبیعت اور بیٹے کی لاپرواہی نے نورہ کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ گھر ویران ہو گیا ۔ حالات سے لاچار ہو کر اکثر عورت بڑی پامال ہوجاتی ہے۔ اسلیے وہ اپنی خوداری کو بلائے طاق رکھ کر اپنے آرام کی اور وقار کی قربانی دیتی ہے۔ اس پہلے کہ نورہ کے گھر میں فاقے کی نوبت آتی یا پھر کسی کے سامنے اسے اپنے ہاتھ پھیلانے پڑتے اس نے اپنے لئے ایسا روزگار کسی کے ذریعے تلاش کیا جس سے گھر کا چولہا جلتا رہا۔ اسکے برعکس بشارت ہمیشہ اپنے باپ کے پاس دن بھر پڑا رہ کر اپنا وقت برباد کر رہا تھا۔ مگر شام سے پہلے ماں کو واپس آتے دیکھ کر گھر سے نکل کر کچھ دیر بعد ہی لوٹ کر آتا تھا اور ماں باپ کے پہلو میں آکر سو جاتا تھا۔ بشارت شام کے بعد کہاں جاتا، کہاں سے آتا ، پیٹھ پیچھے کیا کرتا، نورہ کا دھیان کبھی اس مسئلے کی طرف گیا ہی نہیں۔ تھکی ماندی جب نورہ شام کے وقت گھر پہنچتی تھی تو اپنے شوہر کی دیکھ بھال اور گھر کے دوسرے کاموں میں مشغول ہو جاتی تھی۔ فارغ ہو کر رات دیر گئے تھکن سے چور بستر پر پہنچتے ہی گھوڑے بیچ کر صبح تک سوجاتی تھی کیونکہ محنت تو آرام بھی مانگتی ہے۔ ایک روز جب نورہ گھر لوٹی تو آتے ہی بشارت نے اسکی ہتھیلی پر کچھ روپے رکھتے ہوئے کہا ماں مجھے اب تمہارا گھر سے باہر نکل کر دن بھر کام کرنا اچھا نہیں لگتا۔ تم مجھے نکما سمجھو، لاپروا سمجھو مگر ماں مجھے گھر کے حالاتوں نے اندر ہی اندر ہلا کے رکھا ہے۔ نورہ پیسے دیکھ کر حیران ہوئی۔ شش و پنج میں پڑ کر بشارت سے تشویش بھرے انداز میں پوچھ بیٹھی بیٹا تم دن بھر گھر میں پڑے رہتے ہو، پھر یہ پیسے کہاں سے آئے؟ ماں اس وقت میں انتہائی جلدی میں ہوں مجھے باہر جانا ہے۔ بشارت نے کوئی خاطر خواہ جواب نہ دیا۔ اسکے اسرار کرنے پر نورہ نے پیسے تو رکھ لئے مگر اندر ہی اندر اسے جیسے کانٹے چبھنے لگے۔ بیکار بیٹے سے یہ پیسے لے کر وہ بالکل بھی خوش نہیں ہوئی۔ جب سے نورہ نے اپنے بیٹے سے وہ پیسے لئے تو رہ رہ کر اسے عجیب سے وسوسے اور اند یشے آنے لگے۔
کام چور بیٹے اور غریبی نے نورہ کا برا حال کردیا تھا۔ وہ اپنے پہناوے سے بالکل سیدھی سادھی لگتی تھی مگر پھر بھی وہ ایک باہوش اور باشعور عورت تھی۔ اسکے اندر اچھے، برے، حلال و حرام کی تمیز تھی اور خوف خدا اسکے دل کے اندر موجود تھا۔ خوداری، محنت کی کمائی اور عزت کو ترجیح دیتی تھی۔ اسلئے اس نے خرچ کرنے کے بجائے یہ پیسے گھر کے کسی کونے میں چھپا کر رکھ دیئے۔ اگلے دن شام کو نورہ جلدی کام سے لوٹی۔ جلدی جلدی گھر کا سارا کام نپٹایا۔ شوہر اور بیٹے کو کھلا پلا کر بستر پر بیٹھ گئ۔ آج وہ بشارت سے ان پیسوں کے بارے میں کھل کر پوچھنا چاہتی تھی۔ لیکن آج نیند اور تھکن کچھ زیادہ ہی غالب آگئی ۔ بستر پر بیٹھتے ہی اسکی آنکھ لگ گئی۔ اچانک آدھی رات کے قریب اسکی آنکھ کھلی تو اسے لگا شاید اس نے کوئی برا خواب دیکھا ہو کیونکہ اس کا پورا بدن پسینے سے تر تھا اور دل تھرتھرا رہا تھا۔ اس نے ہڑبڑی میں لائٹ جلائی تو اسکے پاؤں تلے زمین کھسک گئی کیونکہ بشارت اپنے بستر سے غائب تھا۔ نورہ نے دبے پاؤں اسے ادھر ادھر ڈھونڈا مگر وہ واقعی گھر کے اندر موجود نہ تھا۔ گھبرا کر وہ باہر کے دروازے کے پاس گئی تو وہ حیران رہ گئی دروازہ تو اندر سے بند تھا۔ وہ سات آٹھ فٹ کی دوری پر پچھلے صحن کی طرف کھلنے والے چھوٹے دروازے کی طرف گئی تو وہ حیران رہ گئی۔ دروازہ اندر کے بجائے باہر سے بند تھا۔ وہ سمجھ گئی کہ کوئی نہ کوئی گڑبڑ ضرور ہے۔ اس نے جلدی لائٹ بجھائی اور واپس اپنے بستر پر بیٹھ گئی چاند کی مدھم مگر اداس روشنی میں وہ خود پر جبر کئے بیٹھ گئی۔ بستر کے پاس ہی لگی چھوٹی کھڑکی سے اداس چاند کی طرف منتظر نگاہوں سے دیکھتی ہوئی لمحے لمحے مرتی ہوئی انتظار کرتی رہی۔ اس کا وجود کسی انجانے خوف سے کانپ رہا تھا۔ فجر سے پہلے بشارت نے چاند کی مدھم روشنی میں دھیرے دھیرے گھر کا دروازہ کھولا۔ نورہ نے چپ چاپ آنکھیں بند کر کے سونے کی اداکاری کی۔ ماں کو سوتا ہوا سمجھ کر بشارت دبے پاؤں اپنے بستر میں گھس گیا اور بے فکری سے سو گیا۔ اب اسی وقت نورہ بشارت سے بہت کچھ پوچھنا چاہتی تھی مگر ڈرنے لگی کہ بیٹا کوئی ایسی ویسی بات نہ کہہ دے جو ناقابل برداشت اور ناقابل معافی ہو۔ وہ تو غمزدہ پہلے سے تھی ہی اب بیٹے کی مشکوک حرکتوں نے پریشان حال کر دیا۔ اس کی نیند، اس کا سکھ چین سب کچھ کہیں کھو گیا۔ ہر طرف ایک اداسی چھا گئی۔ صبح ناشتے کے دوران بشارت کا موڑ کافی خوشگوار تھا۔ نورہ کافی فکرمند رہنے لگی۔ اس نے اس وجہ سے ناشتہ بھی نہ کیا۔ دوسری طرف کام پر جلدی پہنچنا تھا اسلئے جلد بازی سے کام نہ لیا۔ سوچا فرصت سے وضاحت طلب کروں گی۔ البتہ آج وہ ناشتہ کئے بغیر اور برتنوں کو سمیٹے بغیر ہی کام پر پہنچی۔ وہ کام پر پہنچی تو گھر کے سارے لوگ لابی میں جمع تھے۔ سلام کر کے سیدھے کچن میں چلی گئی۔ مگر اس کے کان اور دھیان لابی میں بیٹھے لوگوں کی طرف تھے۔ وہ لوگ آج رات گھر میں ہوئی بہت بڑی چوری پر بحث کر رہے تھے۔ نورہ کو کسی انجانی انہونی کا احساس ہونے لگا۔ گھر کی مالکن ایک طرف جا کر اپنی کسی رشتہ دار خاتون کو رک رک کر فون پہ کہہ رہی تھی کہ جس گھر میں کل تک شوق اور خوشی سے شادی کی تیاریاں ہو رہی تھیں، آج وہاں ہر طرف وحشت ناک ماحول بنا ہے۔ بھابی ہم کہیں کے نہیں رہے بیٹی کی شادی کی ڈیٹ فکس کر کے مانو تو سر پر ایک پہاڑ کھڑا ہے۔ نبھانے لائق اگر ہوتا تو ہم ضرور نبھالیتے۔ بات اگر صرف نقد کی ہوتی تو شاید ہم پولیس اور میڈیا کے چکروں میں نہ پڑتے۔ چور نے تو نقدی کے ساتھ تجوری میں رکھے ہوئے نئے، پرانے اور شادی کے لئے بنے تمام قیمتی ملبوسات پر اپنا ہاتھ صاف کیا ہے۔ بھابی ہمیں چور نے جیتے جی ہی مار ڈالا۔ پھر فون پر مالکن کچھ آہستہ آہستہ باتیں کر رہی تھی جو نورہ کی سمجھ میں نہ آئی۔ دن بھر نورہ کے ہاتھوں سے برتن گرتے رہے۔ اس نے دن بھر خود کو قید میں ایک مجرم کی طرح محسوس کیا۔ پولیس آئی میڈیا والے بھی آئے۔ نورہ سے بھی پوچھ تاچھ کر کے چلے گئے ۔ نورہ دن بھر اپنی گھبراہٹ اور وسوسوں کو چھپا کر شام کو بیزار سی گھر لوٹ آئی۔ اپنے ٹوٹے پھوٹے گیس چولہے پر گم صم رات کا کھانا تیار کرنے لگی۔ مغرب کی اذان ہو رہی تھی نورہ اپنے تمام غم بھلا کر اذان کی مدھر آواز میں کھو گئی کہ کسی نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔ وہ ہوش کی دنیا میں واپس آئی۔ وہ گھبرا گئی، مڑ کر دیکھا تو اس سے پہلے وہ کچھ سمجھ پاتی یا کچھ کہہ پاتی، بشارت بول پڑا ماں اب ہمارے حالات بہت جلد بدلنے والے ہیں۔ نورہ کی سانسیں بے ترتیب ہونے لگیں۔ ماں کے اندرونی حالت سے بے خبر بشارت بول پڑا ماں آج سے میں گھر کی ساری ذمہ داریاں اپنے کندھوں پر لوں گا۔ اب آپ کو باہر کام کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ اس کے ساتھ ہی وہ اپنے ہاتھ میں چھپائی ایک جانی پہچانی موٹی سی انگوٹھی نورہ کے ہاتھ کی انگلی میں پہنانے کی کوشش کرنے لگا۔ نورہ نے اپنا ہاتھ پیچھے کی طرف زبردستی کھینچ لیا۔ اسے ایسے محسوس ہوا کہ جیسے گارے کا بہت بڑا ڈھیر اس پر کسی نے گرا دیا۔ اب اس کا شک یقین میں بدل گیا۔کیا ہوا ماں؟ بشارت نے پوچھا۔ نورا نے کوئی جواب نہ دیا۔ وہ جلدی سے نکلی اور باہر برامدے میں بیٹھ گئی۔ آج واقعی نورہ اپنی قسمت پر ماتم کرنے لگی، اس نے اپنے بال نوچے اور بے آواز بہت دیر تک روتی رہی۔ کچھ دیر بعد اپنے بکھرے بالوں کو اپنی گردن کے بیچ سمیٹ لیا۔ پھر اپنے سر کی چادر درست کی۔ وہ اپنے آپ سے کئی سوالات کرتی ہوئی کمرے کے دروازے کے پاس آئی۔ کمرے کے اندر بشارت اپنے فون پر کچھ دیکھنے میں محو تھا۔ اس نے دھیرے سے دروازہ باہر سے بند کیا۔ پھر رسوئی میں چلی گئی۔ پہلے ایک زوردار قہقہہ گونجا پھر ایک سرد سی آہ بھری۔ پھر اپنے آپ پر قابو پا کر خود سے کہا میں کسی زمہ دار، باشعور ماں، باشعور بہن، بیوی اور بیٹی کی طرح وہی کروں گی جو صحیح ہے۔ اسی کے ساتھ باری باری پولیس اور میڈیا کو گھر اس ارادے سے بلایا تاکہ اس کے چور بیٹے کی وجہ سے زندگی میں کسی کو کوئی تکلیف نہ پہنچے اور نا ہی آئیندہ کوئی گھر برباد ہو جائے۔
اس شخص نے زندہ بھی نہ چھوڑا تھا مجھ کو
حالانکہ مجھے جان سے بھی مارا نہیں تھا
���
پہلگام اننت ناگ ،کشمیر
موبائل نمبر؛9419038028