سماجی رویوں کے تانے بانے میں تعصب غالباً سب سے زیادہ نقصان دہ ہے۔ تعصب ایک ایسی سماجی بیماری ہے جو انسانیت کو کھوکھلا کردیتا ہے۔ تعصبات کی ہوا چلتی ہے تو تعلیم یافتہ ،غیر تعلیم یافتہ ، مہذب ، غیر مہذب ، دیندار اور غیر دیندار ہر ایک کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔ یہ غرور کا سرچشمہ اور نفرت و بدعنوانی کا بہت بڑا سبب ہے بلکہ اگر یوں کہا جائے کہ تعصبات حق و انصاف اور اصول پسندی کے دشمن ہیںتو بیجا نہ ہوگا۔ یہ زندگی کے امکانات محدود اور مسرتیں معدوم کرتا ہے۔
دوسروں کو حقیر جاننا ، کمتر سمجھنا ، انہیں برحق نہ ماننا ان کے حقوق کو تسلیم نہ کرنا یہ سب تعصبات کی علامتیں ہیں۔یہ ایسی آفت ہے جب بڑھتی اورپھیلتی ہے تو انسانوں کو تباہ و برباد کرکے رکھ دیتی ہے۔تعصب مختلف شکلوں میں سامنے آتا ہے۔باصلاحیت انسانوں پر متعلقہ افراد کو ترجیح دینا بھی بدترین قسم کا تعصب ہے۔اس سے اتحاد اور الفت کی روح ختم ہوجاتی ہے۔
تعصب کی کوئی بھی قسم ہو، نسلی یا مذہبی، لسانی یا طبقاتی ، ہر ایک اپنی جگہ زہر قاتل ہے۔ان تمام تعصبات کا اپنا اپنا شکار اور حلقہ اثر ہے، جس سے بلا شبہ لوگ متاثر ہوتے ہیں۔ انسانی تاریخ میں تعصب کا پہلا نمونہ شیطان نے پیش کیا جس نے اپنے زہد و تقویٰ کی بنیاد پر برتر ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے انسان کو خود سے کمتر جانااور ایک طبقہ ابھی بھی اسی بنیاد پر یہ شیطانی عمل جاری رکھے ہوئے ہے۔ انسانی معاشرہ اکثر اوقات مختلف تعصبات کا شکار ہوکر رہ جاتا ہے۔ تعصب کی ایک قسم صنفی تعصب بھی ہے، جس میں ایک انسان محض جنس کی بنیاد پر دوسرے انسان کو خود سے کمتر جانتے ہوئے اس کو بعض اوقات اس کے حقوق سے محروم رکھتا ہے اور بعض اوقات تو زندگی کے حق سے بھی محروم کر دیا جاتا ہے۔ بنیادی حقوق کی یہ خلاف ورزی مختلف لیکن منظم طریقوں سے کی جاتی ہے۔
تعصب کی حقیقت یہ ہے کہ آپ کے ذہن میں جو کچھ ہے وہی حق ہے، ایسا انسان حقیقت قبول کرنے پر آمادہ نہیں ہوتا۔ دلائل اور شواہد ایسے انسان کی نظر میں کوئی معنی نہیں رکھتے۔ یہ سب تعصبات کی قسمیں ہیں اور ہر طرح کا تعصب نفرت اور عداوت کی آگ بھڑکاتا ہے۔تعصب کے باعث انسان افراد سے تعلق میں شدت پسند ہوجاتا ہے اور افکار کے حوالے سے انحراف کی روش اپنا لیتا ہے۔ تعصب کا مارا انسان روا داری اور افہام و تفہیم قبول کرنے پر آمادہ نہیں ہوتا۔
تعصب ، حسد، بغض،اقرباپروری اور اناپرستی جیسے سینکڑوں تباہ کن ا ور قبیح امراض جب سماج میںجنم لیتے ہیںتوانسانوں کو درندہ بنادیتی ہیں جن کیلئے ذاتی اغراض ومقاصد کی خاطرپوری انسانیت کو روندنا آسان ہوجاتاہے ،انہیں نہ معصوموں کی فلک شگاف چیخیں سنائی دیتی ہیں اور نہ خاک وخون میں غلطاں انسانیت نظر آتی ہے۔
ایسے تعصب زدہ اورانسانیت سوز حالات میں سب سے پہلے اسلام نے علاقائی ونسلی تفریق اورطبقاتی نظام کے خلاف علم بغاوت بلند کیا اور پوری قوت کے ساتھ دنیاکووحدت انسانی کا درس دیا۔قرآن پاک میں ارشادہے کہ’ ہم نے تم سب کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا لیکن ہم نے تمہارے خاندان الگ بنائے، تمہارے قبیلے الگ بنائے تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو۔ اللہ کے نزدیک تم میں سب سے بہتر شخص وہ ہے جو سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والاہو‘۔وحدت انسانی کی یہ صدا محض صدائے باز گشت نہیں تھی بلکہ تعصب کی تمام شکلوں پر کاری ضرب تھی۔تاریخ گواہ ہے کہ پیغمبر آخرالزماں حضرت محمد عربیؐ کی محض 23سا لہ مختصرمگر منظم جد جہدکے بعد ہر طرح کی عصبیت اور تنگ نظریے سے پاک ایسے سماج کی تشکیل عمل میں آئی جہاں عربی عجمی،کالے گورے اور بڑے چھوٹے کے درمیان کسی طرح کی کوئی دیوار حائل نہیں تھی،ہرشخص ایک دوسرے سے محبت کرتا اور ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہوتا تھا۔رحم وکرم، خیر خواہی اورامن پسندی جیسی صفتیں ہرشخص کی رگ رگ میں بس گئی ۔حقیقی معنوں میں ایسا حسین اورمستحکم معاشرہ تیار ہوا تھا جو چشم فلک نے کبھی نہیں دیکھا تھا لیکن جوں جوں سلامی مزاج سے ہم آہنگی ختم ہوتی گئی،معاشرہ بگڑتا چلاگیا اور آج تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے۔ ہرطرح کی اخلاقی خرابیاں ہمارے سماج کاحصہ بن رہی ہیں ۔بغض وعداوت کے گندے اثرات ہرجگہ پھیل رہے ہیں، ظلم وناانصافی کا دور دورہ ہے، محبت کی جگہ نفرتوں اور اخوت اسلامی کی جگہ مسلکی جھگڑوں کو پھلنے پھولنے کا موقع مل رہاہے جس کے نتیجے میں ہمارا سماج اندرونی طورپرکمزور ہوتاجارہاہے۔
دنیا کا کوئی خطہ یا معاشرہ تعصب سے پاک نہیں۔ کبھی نہ کبھی ہر انسان کو تعصب کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ہم میں سے بیشتر افراد اپنی مذہبی، نسلی،صنفی یا قومیتی شناخت کی بنیاد پر اس کا شکار ہوتے ہیں۔تعصب کے سنگین اثرات میں سے ایک یہ ہے کہ اس کا شکار فرد عزت نفس سے محروم ہو جاتا ہے جو زندگی کی سب سے قیمتی چیز ہوتی ہے۔ عزت نفس سے محروم شخص اپنے ہی باطن میں یہ تسلیم کر لیتا ہے کہ وہ اچھی تعلیم، اچھی خوراک، مناسب روزگار اور بحیثیت مجموعی زندگی کی مسرتوں کا حقدار نہیں۔ اس طرح وہ موجودمواقع سے بھی دستبردار ہو جاتا ہے۔
تعصب کیوں برتا جاتا ہے اور اس رویہ کو تبدیل کرنااس قدر مشکل کیوں ہے؟ جب ہم کسی کو متعصب قرار دیتے ہیں تو دراصل ہم یہ کہتے ہیں کہ فلاں شخص ایک خاص رویہ کا حامل ہے جوفلاں چیز یا قوم کے متعلق نفرت پر مبنی ہے اور یہ نفرت مذکورہ شخص کے اندر راسخ ہو چکی ہے۔نفسیات دانوں کی اکثریت متفق ہے کہ تعصب بنیادی طور پر ایک منفی جذبہ ہے۔ یہ کسی گروہ کے لئے ناپسندیدگی، منافرت اور دشمنی کا جذبہ ہے۔ محض اسلئے کہ اس گروہ کے ارکان کسی مخصوص شناخت سے تعلق رکھتے ہیں۔ لہذا انہیں قابل نفرت تصور کر لیا گیا ہے۔
معروف امریکی سوشالوجسٹ ہربرٹ بلیمرکے مطابق متعصب اکثریتی گروہ میں چار جذبے کام کر رہے ہوتے ہیں (1) وہ اقلیتی گروہ سے فطری طور پر بہتر ہیں (2) اقلیتی گروہ اپنی خصوصیات میں مختلف اور اجنبی ہے (3) سہولیات، طاقت، حیثیت اور وقار پر اکثریتی گروہ کا حق ہے، اقلیتی گروہ کا نہیں اور (4) یہ خوف اور شک کہ اقلیتی گروہ ان کے مفادات کے خلاف سازشیں کر رہا ہے۔ اس حوالے سے تعصب ہمیشہ ایک مجموعی موقف کی نشاندہی کر تا ہے۔
اخوت اسلامی کی بنیادپر ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا ہمدرد ہوتا ہے۔ ایک انسان اور دوسرے انسان کے درمیان فضیلت اور برتری کی بنیاد اگر کوئی ہے یا ہو سکتی ہے تو وہ صرف تقویٰ اور پرہیزگاری ہے، اس کے علاوہ اور کوئی چیز نہیں بن سکتی۔ تعصب اگر حق کے معاملہ میں ہو تو مستحسن ہے اور اگر تعصب کا تعلق حق بات کو نہ ماننے، ظلم وزیادتی اختیار کرنے اور اپنی قوت، شان وشوکت کے بے جا اظہار کرنے کی خاطر ہو تو وہ مذموم ہے۔
ہمیں اس بات کو ذہن نشین کرلیا ہے کہ انسان فطری طور پر محبت پسند ہے لیکن اس کے باوجود دنیا میں ہر سو انسان کی لگائی ہوئی نفرت کی آگ پوری انسانیت کو اپنی لپیٹ میں لئے ہوئے ہے۔ ملکوں سے لے کر افراد تک سب نفرت کی آگ جلانے میں مشغول ہیں۔اگر انسان اپنے فطری جذبہ کو جذبۂ نفرت اور تعصبات پر حاوی کرنے کیلئے اپنے اندر سے ہر قسم کے منفی رویوں کو ختم کرنے اور مثبت رجحانات پر اپنی طبیعت کو مائل کرنے کی کوشش کرے تو کوئی وجہ نہیں کہ وہ اپنی محبت کی طاقت سے نفرت کی آگ پر قابو نہ پاسکے۔ نفرت ،حسد اورتعصب کی آگ بجھانے کیلئے پہلے ہر انسان کو خود اپنے ماحول سے پیدا شدہ منفی رجحانات کا خاتمہ کرنا اور اپنی زندگی کو مثبت رجحانات کے تابع کرنا ضروری ہے۔ اگر ہم چاہیں تو اپنے دل کو دوسروں کی نفرت کی آگ سے محفوظ رکھ کر دنیا کو محبت کا گہوارہ بنا سکتے ہیں۔