جموں//دفعہ 370 کی تنسیخ کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے کانگریس کے سینئر لیڈر جے رام رمیش نے جمعہ کو کہا کہ جموں و کشمیر میں ریاست کا درجہ بحال کرنے پر پارٹی کا موقف بالکل واضح ہے۔کٹھوعہ میں نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئے رمیش نے کہا،”پارلیمنٹ میں 5 اگست 2019 کو پاس ہونے والا بل بحث، جانچ اور اکثریت کے بغیر پاس کیا گیا تھا اور دفعہ370کو غیر آئنی طور پر’زبردستی’ منسوخ کر دیا گیا تھا”۔اْنہوں نے کہا،”ہم جموں اور کشمیر کو دی گئی یوٹی کی حیثیت کے خلاف ہیں اور آرٹیکل 371 کے ساتھ ریاستی درجہ کی بحالی چاہتے ہیں”۔پاک بھارت مذاکرات کے بارے میں، انہوں نے کہا، “ہر کوئی پاکستان کے ساتھ پرامن بات چیت کرنا چاہتا ہے لیکن صرف اس شرط پر کہ وہ دہشت گردی بند کرے۔ مذاکرات اور دہشت گردی ایک ساتھ نہیں چل سکتے”۔بارش کے باوجود یاترا میں بڑی تعداد میں لوگوں کی شرکت پر، انہوں نے اسے جموں میں “کانگریس کیلئے خوشگوار ماحول” قرار دیا۔جے رام رمیش نے یہ بھی کہا کہ کانگریس پارٹی نے 23 قومی سیاسی جماعتوں کے سربراہوں کو سری نگر میں پرچم کشائی کی تقریب میں شامل ہونے کی دعوت دی ہے جب یاترا 29اور30 جنوری کو لال چوک میں اختتام پذیر ہوگی۔انہوں نے کہا کہ بھارت جوڑو یاترا کا آغاز وزیر اعظم نریندر مودی کی پالیسیوں کی وجہ سے بھارت میں بڑھتی ہوئی معاشی عدم مساوات، سماجی پولرائزیشن اور سیاسی آمریت کو اجاگر کرنے کے مقصد سے کیا گیا ہے۔غلام نبی آزاد کی ڈیموکریٹک آزاد پارٹی کے بارے میں جے رام رمیش نے کہا’’آزاد بی جے پی کی 100 فیصد بی ٹیم ہیں۔ ان کی پارٹی ٹیک آف کرنے سے پہلے ہی تقریباً کریش کر چکی ہے۔ جموں و کشمیر میں مودی-شاہ کی ‘رننیتی’ ناکام ہو چکی ہے‘‘۔انہوں نے مزید کہا کہ 26 جنوری سے 26 مارچ تک کانگریس دو ماہ طویل ‘ہاتھ سے ہاتھ جوڑو ابھیان’ شروع کر رہی ہے۔جے رام رمیش نے کہا، “اس مہم کے دوران، کانگریس جارحانہ طور پر پورے ملک میں گھر گھر جا کر لوگوں کو ‘مودی حکومت کی ناکامی پر چارج شیٹ’ کی شکل میں تیار دستاویز فراہم کرے گی، جسے ہفتہ کو دہلی میں جاری کیا جائے گا”۔