۔8 لاکھ فلسطینی طلبہ تعلیم سے محروم

غزہ/عظمیٰ نیو زڈیسک/انکلیو میں فلسطینی میڈیا آفس نے کہا ہے کہ غزہ کے خلاف اسرائیل کی مہینوں سے جاری حملوں کے باعث کم از کم8 لاکھ طلبہ تعلیم سے محروم ہو گئے ہیں۔ غزہ میں وزارت تعلیم کے ایک بیان کے مطابق، گزشتہ سال 7اکتوبر سے غز ہ پٹی میں مختلف تعلیمی سطحوں کے 8 لاکھ سے زیادہ طلبہ کو نسل کشی کی وجہ سے تعلیم کے حق سے محروم کر دیا گیا ہے۔ 40 ہزار ہائی اسکول کے طلبہ اس سال کے ہائی اسکول کے امتحانات کے سیشن میں حصہ نہیں لے سکیں گے، جو ایک غیر معمولی تعداد ہے۔ اس سے ان کے مستقبل کو خطرہ لاحق ہیاور مقامی اور بین الاقوامی یونیورسٹیوں اور کالجوں میں داخلہ لینے کے ان کے امکانات کو نقصان پہنچتا ہے۔ سنیچر کو50 ہزار طلبہ مقبوضہ مغربی کنارے کی گورنریٹس اور بیرون ملک فلسطینی اسکولوں کے آخری ہائی اسکول کے امتحانی ہال ’’توجیحی‘‘میں گئے، جبکہ اسرائیلی حملے نے غزہ میں طلبہ کو امتحان دینے سے روک دیا۔ غزہ میں فلسطینی میڈیا آفس نے کہا کہ58 فیصد تعلیمی سہولیات براہ راست اور جان بوجھ کر نشانہ بنانے کی وجہ سے بند ہیں، جو جنگ کے خاتمے کے بعد تعلیمی عمل کو دوبارہ شروع کرنے کی کوششوں کیلئے ایک اہم چیلنج ہے۔