ہائی رسک دیہات میں 6.85 لاکھ اَفراد کی سکریننگ مکمل
عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر//چیف سیکرٹری اَتل ڈولو کی صدارت میں کل نیشنل ٹیوبرکولوسس ایلی مینیشن پروگرام (این ٹی اِی پی ) کی ایک جائزہ میٹنگ میں بتایا گیا کہ جموں و کشمیر میں تمام ہائی رسک گائوں ( ایچ آر وی) کی نشاندہی کی گئی ہے اور انہیں ٹی بی کی جامع سکریننگ مہم کے دائرے میں شامل کیا جا چکا ہے۔چیف سیکرٹری نے صحت کارکنوں کی مسلسل خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ٹی بی کے خلاف مؤثر جنگ کے لئے مستقل نگرانی، بروقت تشخیص اور علاج کا بلا تعطل جاری رہنا ناگزیر ہے۔ اُنہوں نے تمام اضلاع کو ہدایت دی کہ ہر رجسٹرڈ ٹی بی مریض کے قریبی رابطوں کی مؤثر انداز میں نشاندہی کی جائے تاکہ گھر کے تمام افراد اور دیگر قریبی رابطہ رکھنے والوں کی فوری سکریننگ ہو سکے اور جہاں بھی ٹی بی کی تشخیص ہو، انہیں نیشنل ٹی بی مکت بھارت ابھیان کے تحت فوری علاج سے جوڑا جائے۔
اَتل ڈولو نے کہا کہ مقامی زبانوں میں معلومات کی فراہمی سے عوامی بیداری میں اضافہ، غلط فہمیوں کا ازالہ اور مریضوں و ان کے اہل خانہ میں علاج کی پابندی کو فروغ ملتا ہے میٹنگ میں جانکاری دی گئی کہ مہم کے تحت ہائی رسک دیہاتوں میں رہنے والے 6.85 لاکھ اَفراد کی سکریننگ مکمل کی جا چکی ہے جو گزشتہ تین ہفتوں کے دوران عوامی رسائی میں نمایاں اضافے کی عکاس ہے۔ ۔کمشنر سیکرٹری محکمہ صحت و طبی تعلیم ایم راجو نے بتایا کہ مہم کے دوران 1,518 ہائی رسک دیہاتوں میں 1,525 نکشے شیویرکامیابی سے منعقد کئے گئے ۔اُنہوں نے مزید بتایا کہ فیلڈ سطح پر تشخیصی نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لئے ریاسی، ڈوڈہ، راجوری، رام بن، بارہمولہ، سری نگر اور کپواڑہ اضلاع میں 11 اضافی ہینڈ ہیلڈ ڈیجیٹل ایکسرے مشینیں سینٹرل ٹی بی ڈویژن اور کارپوریٹ سوشل ریسپانسبلٹی (سی ایس آر) اقدامات کے تعاون سے فراہم کی گئی ہیںجس سے دور دراز اور دشوار گزار علاقوں میں تشخیصی صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ڈیجیٹل چیسٹ ایکسرے سکریننگ کے اِستعمال میں بھی نمایاں بہتری ریکارڈ کی گئی۔ چیسٹ ایکسرے کروانے والے حساس افراد کی تعداد 1.72 لاکھ سے بڑھ کر 3.15 لاکھ سے تجاوز کر گئی جبکہ مجموعی ایکسرے شرح 70 فیصد سے بڑھ کر تقریباً 79 فیصد تک پہنچ گئی۔ بارہمولہ، کپواڑہ، سری نگر اور بڈگام سمیت کئی اضلاع نے ایکسرے کوریج میں غیر معمولی اعلیٰ ایکسرے کوریج حاصل کی ہے جو قومی سکریننگ رہنما اصولوں پر مؤثر عمل درآمد کی عکاس ہے۔۔ مجموعی طور پر 95,810 مائیکرو بائیولوجیکل ٹیسٹ کئے گئے جن میں سے 91 فیصد ریپڈ مالیکیولر ٹیسٹ (این اے اے ٹی) کا استعمال کرتے ہوئے کی گئی ہیں جو روایتی مائیکروسکوپی پر انحصار کم کرتے ہوئے جلد اور درست تشخیص کو یقینی بناتے ہیں۔میٹنگ میں جانکاری دی گئی ’ ٹی بی مکت بھارت ابھیان‘ کے تحت ٹی بی مریضوں کے لئے غذائی معاونت میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ پوشن کٹس کی تقسیم 54.5 فیصد سے بڑھ کر 86 فیصد تک پہنچ گئی جبکہ تقریباً 3,930 مریضوں کو غذائی امداد فراہم کی گئی۔ کئی اضلاع میں رضامند مستحقین کی تقریباً مکمل کوریج حاصل کی گئی ہے جو مریضوں کی جامع نگہداشت کے لئے پروگرام کے عزم کو ظاہر کرتی ہے۔رواں برس کے پہلے چھ ماہ کے دوران یوٹی بھر میں 3.19 لاکھ سے زائد مشتبہ ٹی بی تشخیصی ٹیسٹ کئے گئے جو فی لاکھ آبادی 3,000 ٹیسٹ کے قومی معیار سے کہیں زیادہ ہیں۔میٹنگ میں پیش کی گئی ایک نہایت حوصلہ افزا پیش رفت یہ بھی تھی کہ ٹی بی سے متعلق اموات میں نمایاں کمی آئی ہے۔ اگرچہ جنوری تا جون 2026 ء کے دوران نکشے پورٹل پر 88 اموات درج کی گئیں، تاہم تفصیلی ٹی بی ڈیتھ آڈٹ کے بعد کسی بھی موت کی براہِ راست وجہ ٹی بی کی تصدیق نہیں ہوئی جو بروقت تشخیص، علاج پر عمل درآمد اور مریضوں کی بہترنگہداشت کی عکاسی کرتا ہے۔