پرویز احمد
سرینگر //کشمیر صوبے میں جانلیوہ ہیموفیلیابیماری سے جوج رہے 56مریضوں کی زندگیاں خطرے میں ہیں کیونکہ پچھلے ایک سال میں میڈیکل سپلائی کارپوریشن درکار دوائی کے 7500 شیشیوں میں سے صرف 250ہی فراہم کر چکی ہے۔ فیکٹر 9کی عدم دستیابی کی وجہ سے ہیموفیلیا سے متاثر ایک طالب علم میٹرک کا امتحان نہ دے سکا جبکہ دیگر3کی زندگیاں بچانے کیلئے ہیموفیلیا ایسوسی ایشن کو 8لاکھ روپے کا فیکٹر بازار سے خریدنا پڑا ہے۔ میڈیکل سپلائز کارپوریشن کا کہنا ہے کہ 15جنوری تک فیکٹر 9کی سپلائی کا سلسلہ شروع ہوجائے گا اور آئندہ 2ماہ کے اندر یہ معاملہ حل ہوجائے گا۔ طبی قوائد و ضوابط کے مطابق فیکٹر 9کی کمی سے متاثرمریضوں کو اچانک خون بہنے سے بچانے کیلئے ہر ہفتے 2سے 3مرتبہ فیکٹر 9دینا ہوتا ہے اور فیکٹر نہ ملنے کی صورت میں ان کی جان ہمیشہ خطرے میں رہتی ہے جبکہ پچھلی دوائیوں کا اثر بھی آہستہ آہستہ ختم ہوجاتا ہے۔ جموں و کشمیر ہیموفیلیا ایسوسی ایشن کے صدر سید ماجد نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا ’’ کارپوریشن نے جس کمپنی کے ساتھ کنٹریکٹ کیا ہے ، اس کمپنی کا فیکٹر 9تشخیص کے بعد غیر معیاری پایا گیا ہے۔ ماجد کا کہناہے کہ این آئی بی ایل نے مذکورہ کمپنی کے فیکٹر 9استعمال کرنے پر روک لگا دی ہے جبکہ کچھ ریاستوں جیسے پنجاب اورہریانہ وغیر ہ میں مذکورہ کمپنی کے فیکٹر 9پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جموںو کشمیر میں کچھ افسران سیاسی اثر و رسوخ کی وجہ سے مذکورہ کمپنی کا ہی فیکٹر استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ ماجد نے کہا ’’ بھارت میں کسی بھی فیکٹر 9سے وائرس نکالنے اور اس کو موثر بنانے کا کوئی بھی نظام موجود نہیں ہے اور اسی وجہ سے مقامی فیکٹر تشخیص میں ناکام ہوجاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان فیکٹروں کی وجہ سے ایک تو مریض کی جان کو خطرہ ہے اور دوسرا یہ غیر موثر ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بازار میں دوسری کمپنی کا فیکٹر دستیاب ہے لیکن کارپوریشن سنجیدہ نہیں اور اس کی وجہ سے مریض مشکلات میں ہیں۔ میڈیکل سپلائز کارپوریشن ے منیجنگ ڈائریکٹر طارق حسین گنائی نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا ’’یہ بات سچ ہے کہ کارپوریشن ضرورت کے حساب سے فیکٹر 9فراہم نہیں کرسکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سال 2025کیلئے 7500شیشیاں ضرورت تھی جبکہ صرف 250شیشیاں ہی فراہم کی گئی ہیں۔ طارق گنائی نے بتایا ’’ اصل میں ریٹ کنٹریکٹ جس کمپنی کے ساتھ تھا، ان کا فیکٹر 9غیر معیاری پایا گیا ہے اور اس وجہ سے ان کی سپلائی کو واپس بھیج دیا گیا ہے۔ طارق گنائی کا کہنا تھا کہ کمپنی کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ فورا ًفیکٹر 9فراہم کریں۔ انہوں نے کہا کہ کمپنی نے فیکٹر 9کے نئے بیچ فراہم کئے ہیں جن کی تشخیص چل رہی ہے۔ گنائی کا کہنا تھا کہ مجھے اُمید ہے کہ 15جنوری سے دوائی سپلائی کی جائیگی۔ گنائی نے مزید بتایا ’’ دوسری کمپنی کے ساتھ بھی ریٹ کنٹریکٹ کیا گیا ہے اور وہ آئندہ 2ماہ کے اندر فیکٹر 9فراہم کرے گی اور اس طرح 2ماہ کے اندر اندر مسئلہ حل ہونے کی توقع ہے۔