مینڈھر //سب ڈویژن مینڈھر کے زون ہرنی میں قائم کردہ گور نمنٹ ہائی گرلز ہائی سکول ہرنی کی عمارت انتہائی خستہ حال ہونے کی وجہ سے زیر تعلیم بچیاں کو شدید مشکلات درپیش ہیں ۔مکینوں نے بتایا کہ سکول کی عمارت 4خستہ حال کمروں پر مشتمل ہے جن میں بارشوں کے دوران اکثر پانی داخل ہو جاتا ہے جبکہ عمارت کے ارد گرد نہ تو نالیوں کا کوئی بندوبست ہے اور نہ ہی چار دیوری تعمیر کی گئی ہے۔غور طلب ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے مذکورہ سکول کی تعمیر 1980-81کے دوران کی گئی تھی جبکہ چالیس برسوں سے اس عمارت کے ارد گرد کوئی چار دیوری نہیں کی جاسکی ہے ۔مکینوں نے بتایا کہ سکولی عمارت کے چار میں سے کوئی بھی کمرہ قابل استعمال نہیں ہے جبکہ ان کی مرمت و بچیوں کو دیگر سہولیات فراہم کرنے کیلئے کئی مرتبہ محکمہ ایجوکیشن سے رابطہ قائم کیا گیا ہے لیکن ابھی تک کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا جاسکا ۔سکول میں اس وقت تدریسی و غیر تدریسی عملے کی 6اسامیاں خالی پڑی ہوئی ہیں ۔ان میں ماسٹر گریڈ کی 2ٹیچروں کی ایک اور درجہ چہارم کی 3اسامیاں خالی پڑی ہوئی ہیں لیکن گزشتہ کئی عرصہ سے ان کی پُر کرنے کیلئے کوئی قدم نہیں اٹھایا جاسکا ۔پی ڈی پی کے ڈسٹر کٹ کنونیئر او ر لیبر یونین صدر مینڈھر ماجد خان عرف بابی نے بتایا کہ گزشتہ چار دہائیوں سے سکول کی چار دیوری ہی نہیں ہو سکی جبکہ سکول میں زیر تعلیم 200سے زائد بچیاں کھلے عام کھیلنے پر مجبور ہیں ۔انہوں نے بتایا کہ سکول منتظمین کی جانب سے اعلیٰ حکام کو کمروں کی عدم دستیابی و خستہ حالی کے سلسلہ میں کئی مرتبہ تحریری طورپر لکھا گیا ہے لیکن ابھی تک کوئی عملی کارروائی ہی نہیں ہو سکی ۔مکینوں نے مانگ کرتے ہوئے کہاکہ سکول کی چار دیوری کیساتھ ساتھ دیگر ضروری سہولیات جلدازجلد فراہم کی جائیں ۔