نئی دہلی//صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند نے کہا کہ چین نے دو طرفہ معاہدوں کی خلاف ورزی کرکے حقیقی کنٹرول لائن پر حالات بدلنے کی کوشش کی لیکن فوج نے اسے منہ توڑ جواب دے کر اس کے منصوبوں کو ناکام کردیا۔ کووند نے پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس کے پہلے دن دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس سے اپنے خطاب میں چین کا نام لئے بغیر کہا،’’ کورونا کے دور میں جب ملک اندرونی آفات سے نمٹ رہا تھا، ہماری سرحد پر ملک کی سالمیت کو چیلنج کرنے کی کوشش کی گئی، ایل اے سی پر دو طرفہ تعلقات اور معاہدوں کو درکنار کرتے ہوئے امن کو خراب کرنے کی کوششیں ہوئیں، لیکن ہمارے سلامتی دستوں نے نہ صرف پوری احتیاط ،طاقت اور حوصلے کے ساتھ ان سازشوں کا منہ توڑ جواب دیا،بلکہ سرحد پر حالات بدلنے کی سبھی کوششوں کو بھی ناکام کیا‘‘۔انہوں نے کہا کہ حکومت ملک کے مفاد کی حفاظت کے لئے پوری طرح پرعزم ہے اور محتاط بھی ہے ۔
ایل اے سی پر ہندوستان کی سالمیت کی حفاظت کے لئے اضافی فوجی دستوں کی تعیناتی بھی کی گئی ہے ۔حکومت مستقبل میں ملک کے کردار کے پیش نظر اپنی فوجی تیاریوں کو مضبوط کرنے میں لگی ہے ۔ متعدد جدید سازو سامان ملک کی فوجی صلاحیت کا حصہ بن رہے ہیں۔ کووند نے کہا کہ گذشتہ کچھ برسوں میں ملک نے کئی ایسے کام کر دکھائے جنھیں کبھی بہت مشکل مانا جاتا تھا۔صدر نے کہا’’ایسے کئی فیصلے تقریباً ہر شعبے میں کئے گئے ، میری حکومت نے دکھایا کہ نیت صاف ہواور ارادے بلند ہوں تو انقلاب لایا جاسکتا ہے ، ان برسوں میں میری حکومت نے جتنے لوگوں کی زندگی کو چھوا ہے ِ وہ بے مثال ہے ‘‘۔
انہوں نے کہا کہ دفعہ 370 کے التزامات کی منسوخی کے بعد جموں و کشمیر کے عوام کو نئے حقوق ملے ہیں۔صدر جمہوریہ نے کہا کہ جموں و کشمیر کے عوام نے مرکزی حکومت کی ترقیاتی پالیسیوں کی حمایت کی ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک کی آزادی کے بعد پہلی بار جموں و کشمیر میں کامیاب طریقے سے ڈی ڈی سی انتخابات اختتام پذیر ہوئے، اور اس میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے حصہ لیا۔ انہوں نے کہا کہ ڈی ڈی سی انتخابات میں لوگوں کا بڑی تعداد میں حصہ لینا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ جموں و کشمیر نئے جمہوری نظام کی جانب گامزن ہو رہا ہے۔صدرجمہوریہ نے کہا کہ جموں و کشمیر کے لوگوں کو نئے حقوق ملنے سے وہ خود مختار بن گئے ہیں۔ بھارت صحت یوجنا لاگو ہونے سے جموں و کشمیر کے ہر فرد کو علاج کے لیے5 لاکھ روپے ملیں گے اور وہ اس اسکیم سے مستفید ہو سکتے ہیں۔