جموں//سینئر سیاسی رہنما اور سابق ممبر قانون ساز کونسل مرتضیٰ خان نے پہاڑی طبقہ کودی گئی تین فیصد ریزرویشن کو ناانصافی قرار دیتے ہوئے کہاکہ بل نمبر18سال 2014 کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی گئی ہے ۔یہاں جاری ایک پریس بیان میں انہوںنے کہاکہ بل نمبر 18 کو از سر نو اسمبلی سے پاس کروا کر گورنر کے پاس ارسال کرنے میں 3 برس کی تاخیر تو قابل فہم ہے لیکن اس میں موجود شرح کو پانچ فیصد سے گھٹا کر تین فیصد کرنے کا وزارت سماجی بہبود کا فیصلہ پہاڑی طبقہ کے ساتھ شدید نا انصافی اور انکی حق تلفی کے مترادف ہے۔ مرتضیٰ خان کا کہنا تھا کہ بل نمبر 18در اصل نیشنل کانفرنس اور کانگریس کی مخلوط سرکار نے 2014 میں پاس کر کے گورنر کو ارسال کیا تھاجس کی رو سے پہاڑی طبقہ کو 5 فیصد ریزرویشن فراہم کی جانی منظور کی گئی تھی لیکن گورنر نے اس بل کو چند اعتراضات کے ساتھ محکمہ سماجی بہبود کو واپس کر دیا تھا جسکو بلا تاخیردوبارہ پاس کر کے گورنر کی منظوری کے لئے روانہ کرنا موجودہ حکومت کی ذمہ داری تھی۔ مرتضیٰ خان نے کہا کہ چار برس کی تاخیر کے بعد وزارت سماجی بہبود نے دوبارہ اسی بل نمبر 18 کو اسمبلی سے پاس کروا کرگورنر کو ارسال کر کے پہاڑی طبقہ پر احسان عظیم تو کیا ہے اور اس کی داد وصول کرنے کے لئے پہاڑی کاز کے کئی نام نہاد علمبردار وں کی ایک جمعیت کو میدان کارزار میں اتارنے میں کامیابی بھی حاصل کر لی ہے لیکن نہ تو وزارت سماجی بہبود اور نہ ہی یہ لوگ پہاڑی طبقہ کو یہ بتا سکے ہیں کہ اس بل میں موجود ریزرویشن کی شرح کو کس اصول یا جواز کے تحت 5 فیصد سے گھٹا کر 3 فیصد کیا گیا۔ مرتضیٰ خان کا کہنا تھا کہ طبقاتی بنیادوں پر ریزرویشن کا کلیدی اصول اس طبقہ کی آبادی کا شرح تناسب ہوتا ہے اورپہاڑی طبقہ ریاستی آبادی کا 10فیصد ہیں لیکن انکے معاملہ میں اس اصول کی نفی کی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چہ جائیکہ سپریم کورٹ نے تمام تر ریزرویشن کی حد 50 فیصد تک مقرر کر رکھی ہے لیکن ضابط میں گنجائش اور پہاڑی طبقہ کا استحقاق موجود ہونے کے باوصف بھی بل نمبر 18 کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرکے وزارت سماجی بہبود نے پہاڑی طبقہ کے ساتھ نا انصافی کی ہے، اب جبکہ بل نمبر 18 سال 2014کو ایک مرتبہ پھر گورنر کے پاس بھیجا جا چکا ہے اور آئین کی رو سے گورنر کے پاس اس بل کو منظوری دینے کے سوائے کوئی اختیار نہیں ۔مرتضیٰ خان نے پہاڑی کلچرل اینڈ ویلفیئر فورم کے سر پرست اعلیٰ اور ممبر پارلیمان مظفر حسین بیگ کو خط لکھ کر مطالبہ کیا ہے کہ وہ پہلی فرصت میں فورم کا اجلاس طلب کریں تا کہ اس صورتحال سمیت تمام معاملات پر غور و خوض اور باہمی صلاح مشورہ سے مستقبل کی حکمت عملی وضع کی جا سکے۔ انہوں نے پہاڑی عوام بالخصوص نوجوانوں سے بھی تلقین کی کہ وہ فورم کے فیصلوں کے ہم آہنگ حکمت عملی کو اپنا شعار بنائیں اور’’چلو کچھ نہ کچھ ہی سہی‘‘ کی روش کی نفی کریں اور ایسی لغو دلیلیں پیش کرنے والے افراد سے باخبر رہیں جو اپنے چھوٹے چھوٹے مفادات کی خاطرفورم کو اعتماد میں لئے بغیر نوجوانوں کے مستقبل کو گروی رکھنے اور انکی حوصلہ شکنی میں مصروف ہیں۔