سری نگر//رواں بجٹ اجلاس کے دوران راجیہ سبھا میں جموں کشمیر سے تعلق رکھنے والے 4 ممبران کی مدت ختم ہونے کے باعث جمہوری نظام کے ایک حصے کے تحت جموں کشمیر میں اسمبلی انتخابات منعقد کرانا ناگزیر بن گیا ہے تاہم اس دوران حزب اختلاف کی جماعتوں نے بھی جموں کشمیر میں اسمبلی انتخابات فوری طور منعقد کرانے اور جموں کشمیرکے ریاستی درجہ کی بحالی کے معاملے پر مرکزی سرکار پر دباؤ ڈالنا شروع کردیا ہے۔اس بیچ مرکزی اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے جموں کشمیر کے ریاستی درجہ کی بحالی کے متعلق بل ملک کے پارلیمنٹ میں لانے کے معاملے نے مرکزی سرکار کیلئے ایک نیا چیلنج کھڑا کردیا ہے۔کے این ایس ذرائع کے مطابق جب بی جے پی اور پی ڈی پی کی مشترکہ سرکار کے خاتمے کے بعد اس وقت کے گورنر ستیہ پال ملک نے سال 2018 میں حیرت انگیز طور پر جموں کشمیر کی اسمبلی کو تحلیل کرکے گورنر راج نافذ کیا اور بعد میں 5اگست 2019 کو دفعہ 370 اور 35 اے کی منسوخی کا معاملہ سامنے آیا جس دوران جموں کشمیر اور لداخ کو دو یونین ٹریڑیز میں تبدیل کرکے ریاست کے درجہ کو ختم کیا گیا جس کے باعث پورے خطے میں صورتحال انتہائی پر تنائو ہوئی جبکہ جموں کشمیر اور لداخ میں ایک طرح کی غیر یقینی صورتحال پیدا ہوگئی تھی۔تاہم دفعہ 370کی منسوخی کے دوران ملک کے سب سے بڑے ایوان یعنی پارلیمنٹ میں وزیراعظم اور وزیر داخلہ نے یہ بیان دیا تھا کہ صورتحال میں بہتری کے ساتھ ہی جموں کشمیرکودوبارہ ریاست کا درجہ واپس کیا جائیگا لیکن ابھی تک اس حوالے سے مرکزی سرکار کی جانب سے کوئی موثر اقدامات نہیں کئے گئے تاہم گزشتہ روز کانگریس سمیت حزب اختلاف کی دیگر بڑی جماعتوں نے جموں کشمیر میں اسمبلی انتخابات منعقد کروانے اور ریاستی درجہ کی بحالی کے حوالے سے مرکزی سرکار پر دباؤ ڈالنا شروع کیا ہے اور جموں کشمیر کے سابق وزیر اعلی اور کانگریس کے سینئر لیڈر غلام نبی آذاد نے اپوزیشن جماعتوں کے اجلاس کے دوران کہا کہ جموں کشمیر جیسی انتہائی سنجیدہ سرحدی سٹیٹ میں مقامی نمائندوں کے بجائے افسران کو لا محدود اختیارات دینا نہ صرف جمہوری نظام کے لئے نقصان دہ ہے بلکہ اس طرح کی پالیسی انتہائی خطرناک ہے لہذا جموں کشمیر کے ریاستی درجہ کی بحالی کے حوالے سے بل کو ملک کے پارلیمنٹ میں لائے اور وزیراعظم اور وزیر داخلہ اپنا وعدہ پورا کریں جبکہ انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 370 کی منسوخی اور ریاست کو دو حصوں میں تقسیم کرکے یونین ٹریڑی بنانا یکطرفہ فیصلہ تھا اور یہ ملک کی تاریخ کا انتہائی افسوسناک واقع تھا۔غلام نبی آزاد نے یہ بھی کہا کہ اس وقت ملک کے وزیراعظم اور وزیر داخلہ نے پارلیمنٹ میں جو وعدے کئے ان وعدوں کو وہ پورا کریں اور ریاستی درجہ کی بحالی کے حوالے سے بل پارلیمنٹ میں پیش کرنے کے ساتھ ساتھ جموں کشمیر میں فوری طور اسمبلی انتخابات منعقد کرانے میں بہانہ بازی سے کام نہ لیں۔اس دوران ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ رواں بجٹ اجلاس کے دوران جموں کشمیر سے تعلق رکھنے والے4راجیہ سبھا ممبران کی مدت ختم ہورہی ہے اور نئے ممبران کی تعیناتی اسمبلی ممبران کی ووٹنگ کے ذریعے ہی عمل میں لائی جاتی ہے لیکن چونکہ جموں کشمیر میں اسمبلی تحلیل کردی گئی ہے اور اسمبلی انتخابات منعقد کروانے کے حوالے سے مرکزی سرکار کی جانب سے ابھی تک کسی قسم کی نوٹیفکیشن جاری نہیں کی گئی ہے۔سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ راجیہ سبھا ممبران کی مدت ختم ہونے کے بعد راجیہ سبھا میں جموں کشمیر کی نمائندگی ختم ہوگی اور ماہرین کے مطابق کہ گزشتہ 27 برسوں کے بعد اس طرح کی صورتحال دوبارہ پیدا ہوگی جب جموں کشمیر کی نمایندگی راجیہ سبھا میں نہیں ہوگی اور اس لحاظ سے مرکزی سرکار کے لئے جموں کشمیر میں اسمبلی انتخابات منعقد کرانا ناگزیر بن گیا ہے جو جمہوری نظام کا ایک حصہ ہے۔سیاسی مبصرین کا مزید کہنا ہے کہ جب سال 1989 میں جموں کشمیر میں حالات خراب ہوئے تھے اور ملیٹنسی کا آغاز ہوا تھا تب ریاست جموں کشمیر میں اس وقت گورنر راج نافذ کیا گیا تھا جو سال 1989سے لیکر سال 1996 تک رہا اور اسی دوران راجیہ سبھا میں جموں کشمیر کی نمائندگی کرنے والے 4 ممبران کی مدت 1992 اور سال 1994 میں ختم ہوگئی تھی اور جموں کشمیر میں گورنر راج نافذ ہونے کے باعث اپریل 1994سے لیکر اکتوبر 1996 تک پارلیمنٹ میں جموں کشمیر کی نمائندگی نہیں رہی تھی اور آج 27 برسوں کے بعد اسی طرح کی صورت حال پیدا ہوگئی ہے جہاں 10فروری 2021 کو راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر غلام نبی آزاد اور فیاض احمد میر کی مدت اور 15 فروری 2021کو پی ڈی پی کے نزیر احمد لاوے اور بی جے پی کے شمشیر سنگھ منہاس کی مدت ختم ہونے جارہی ہے اور جموں کشمیر میں اسمبلی ممبران کی عدم موجودگی کے سبب ملک کے سب سے بڑے منچ پر جموں کشمیر کی نمائندگی آئندہ اسمبلی انتخابات منعقد ہونے تک معطل رہی گی۔