عظمیٰ نیوز سروس
نئی دہلی//سال 2025میں ہندوستانی عوام کو 4,000کروڑ سے زائد اسپام کالز موصول ہوئیں، جو روزمرہ رابطوں میں دھوکہ دہی، خلل اور ڈیجیٹل خطرات کے بڑھتے ہوئے خدشات کی عکاسی کرتی ہیں۔ بھارت میں ہر فون کال کی ایک اہمیت ہے، کیونکہ یہ مواقع کے دروازے کھول سکتی ہے، نہایت ضروری معلومات فراہم کر سکتی ہے، یا افراد کو سنگین خطرات سے دوچار بھی کر سکتی ہے۔
وِکست بھارت کے وژن کے تحت جب ملک تیزی سے ڈیجیٹل طور پر بااختیار اور عالمی سطح پر مسابقتی معیشت کی جانب بڑھ رہا ہے، تو مواصلات میں اعتماد ترقی کا ایک بنیادی ستون کی حیثیت رکھتا ہے۔ٹرو کالر کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق ان ناپسندیدہ کالز میں سے 1,189 کروڑ کالز صارفین تک پہنچنے سے پہلے ہی بلاک کی گئیں، جس سے لاکھوں افراد دھوکہ دہی، وقت کے ضیاع اور خصوصا تیزی سے ابھرتی معیشت والے ملک میں غیر ضروری ذہنی دبائو سے محفوظ رہے۔ ملک میں 100 کروڑ سے زائد فعال فون کنکشنز تجارت، حکمرانی اور ذاتی تعلقات کو تقویت دے رہے ہیں، اور اسی تناظر میں ٹرو کالر نے آج اپنی 2025 کی انڈیا اِن سائٹس رپورٹ جاری کی ہے، جو ڈیٹا پر مبنی انداز میں یہ دکھاتی ہے کہ کس طرح اسپام اور فراڈ ملک کے مواصلاتی منظرنامے کو تبدیل کر رہے ہیں اور کس طرح ٹیکنالوجی روزانہ کروڑوں لوگوں کے تحفظ میں مدد دے رہی ہے۔یہ رپورٹ اس بات کو اجاگر کرتی ہے کہ سال 2025 کے دوران یہ فیصلے کس طرح عملی صورت میں سامنے آئے، اور اس کے ذریعے ڈیجیٹل خطرات کے وسیع پیمانے اور تحفظ کی بڑھتی ہوئی اہمیت دونوں کو نمایاں کیا گیا ہے۔