اعجاز میر
سرینگر//پونچھ گلمرگ42کلو میٹر روڑ کے بعد لورن-توسہ میدان – ٹنگمرگ کا قریب 40کلو میٹر کاراستہ ، دوسرا ایسا رابطہ ہے جو پونچھ کو کشمیر کیساتھ ملاتا ہے۔لورن سے جو سڑک توسہ میدان اور پھر بیروہ بڈگام کو ملا سکتی ہے ، وہ آگے جاکر ٹنگمرگ اور سرینگر کو بھی ملائے گی۔ٹنگمرگ وادی کشمیر کے شمال میں واقع ہے، اور یہ ٹھوس پہاڑی علاقہ سیاحتی مقام گلمرگ کا گیٹ وے شمار ہوتا ہے۔ یہ علاقہ تاریخی طور پر پھلوں کے باغات اور میدانی زرخیز وادیوں سے جڑا رہا ہے۔ ماضی میں، ٹنگمرگ اور اس سے آگے گلمرگ اور بارہمولہ تک پہنچنے کے لئے پہاڑی راستے اور بسا اوقات پیدل یا گھوڑوں کے ذریعے راستے استعمال ہوتے تھے۔ اس لئے ٹنگمرگ خود ایک اہم گیٹ وے بنا ہوا تھا۔
لورن ٹنگمرگ روڈ منصوبہ کب بنا
لورن توسہ میدان یا لورن پونچھ ٹنگمرگ سڑک کا ارادہ اس لیے ہوا تھا تاکہ وادی کشمیر کو شمال و شمال مغربی پیر پنچال علاقہ سے براہِ راست منسلک کیا جائے یعنی ایک متبادل راستہ ہو جو صرف وادی کا اندرونی رابطہ نہ ہو بلکہ کشمیر کوپونچھ خطے سے بھی جوڑے۔ اس منصوبے کی سنگِ بنیاد 2015 میں رکھی گئی ہے۔ اس کا مقصد صرف مقامی رابطہ نہیں بلکہ بڑے پیمانے پر معاشی، سماجی اور دفاعی اہمیت کا ایک راستہ بنانا تھا۔اگرچہ 2015 میں بارڈر روڑ آرگنائزیشن کی طرف سے اس پروجیکٹ کی شروعات کی گئی لیکن 6سال کے بعد اسے ادھورا چھوڑا گیا۔2025 کی معلومات کے مطابق حکومت اور متعلقہ ادارے اس منصوبے کو دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ پیر پنچال اور شمالی کشمیر کے درمیان رابطے کو مضبوط کیا جائے۔ پونچھ سے ٹنگمرگ روڑ کی کل لمبائی 72کلو میٹر ہے لیکن لورن منڈی سے ٹنگمرگ تک اسکی دوری محض 42کلو میٹربتائی جاتی ہے۔2015میں جب اس سڑک پر کام شروع ہوا تو لورن کی طرف اسکا کل تخمینہ 4کروڑ لگایا گیا تھا۔لورن سے ٹنگمرگ تک کے راستے کا 17کلو میٹر حصہ تعمیر کیا گیا ہے لیکن ابھی روڑ کا صرف ابتدائی کام ہوا ہے۔روڑی بچھانے، کئی مقامات پر بنڈ تعمیر کرنے اور میکڈم بچھانے میں ابھی مزید کئی سال درکار ہونگے۔لیکن لورن سے پونچھ بس اڈہ تک راستہ مکمل ہے۔ اس طرف توسہ میدان تک روڑ مکمل ہے لیکن صرف توسہ میدان سے آگے باسم والی گلی اور لورن کی طرف سے جامع والی گلی کے درمیان 9کلو میٹر کا راستہ نہیں بنا ہے اور یہی حصہ سب سے مشکل پہاڑی راستہ ہے۔
تاریخی اور جغرافیائی اہمیت
لورن ٹنگمرگ راستہ اگر مکمل ہو جائے تو شمالی کشمیربارہمولہ اور سرینگر پونچھ کیساتھ براہِ راست جڑے گا۔ اس سے نہ صرف سفر آسان ہوگا بلکہ پہاڑی علاقوں کے لوگوں کے لیے آمد و رفت، تجارتی رابطے اور سماجی روابط مضبوط ہوں گے۔ یہ راستہ ان روایتی راستوں میں شامل ہے جو گوجر، بکروال اور دیگر خانہ بدوش قبائل نے صدیوں سے استعمال کیے ہیں، خاص طور پر موسمِ گرما میں جب وہ وادی کی وادیوں کی طرف آتے تھے۔ یعنی یہ صرف ایک نئی سڑک نہیں، بلکہ ایک تاریخی روایتی گزرگاہ کی جدید شکل ہے۔ خطہ پیر پنچال اور شمالی کشمیر خطے کی جغرافیائی حساسیت، قدرتی مناظرات، اور سرحدی پس منظر کے پیش نظر، ایک متبادل رابطہ سڑک خاص طور پر جب مرکزی شاہراہ بند ہو جائے(سردیوں میں برف، لینڈ سلائیڈ وغیرہ کی وجہ سے)دفاعی اور نقل و حمل کے نقطہ نظر سے اہمیت رکھتی ہے۔
ممکنہ اثرات
اگر اس سڑک کی تعمیر ہوتی ہے تووادی اور پیر پنچال خطے کے درمیان تجارتی اور سماجی رابطے میں اضافہ ہوگا ،کسان، مویشی پالنے والے، ہنر مند با آسانی ایک خطے سے دوسرے تک جائیں گے۔اسکے علاوہ سیاحت کے نئے راستے کھلیں گے ۔دونوں خطے، ان کے دیہات، قدرتی مناظرات، قدیم راستے اور ثقافتی مقام ایک ساتھ منسلک ہوں گے ،جس سے پورے خطے کی سیاحتی اہمیت بڑھے گی۔موسمِ سرما یا قدرتی آفات کے دوران جب مرکزی شاہراہ بند ہو جائے، تو یہ متبادل راستہ ایک ریلیف روٹ ثابت ہو گا لوگوں کی نقل و حمل، اشیائے ضروریہ، ادویات وغیرہ کی رسائی برقرار رہ سکے گی۔
چیلنجز اور رکاوٹیں
بھاری برفباری، لینڈ سلائیڈ، جنگلاتی راستے اور پیچیدہ پہاڑی سلسلہ تعمیر اور دیکھ بھال کے لیے مشکل ہیں۔ زمین کا حصول، جنگلاتی علاقے سے گزرنے کی منظوری، ماحولیاتی تحفظ یہ سب معاملات وقتا فوقتا منصوبے کی راہ میں رکاوٹ بنے ہیں۔ سیاسی اور انتظامی تاخیر، مالیاتی وسائل کی کمی، اور ترجیحات کی تبدیلی ان وجوہات نے منصوبے کی رفتاری کو متاثر کیا ہے۔راستہ محض ایک نئی سڑک نہیں ہے یہ دراصل ایک تاریخی، جغرافیائی، سماجی اور اسٹریجک گزرگاہ کی جدید شکل ہے۔ اگر اسے مکمل اور فعال بنایا جائے، تو نہ صرف وادی کشمیر اورپیر پنچال کے درمیان رابطے میں انقلاب آئے گا بلکہ یہ خطے کی معاشی، سماجی اور سیاحتی تقدیر بدلنے کی قوت رکھتی ہے۔