ایجنسیز
نئی دہلی// ملک نے ہفتہ کے روز 2001 میں پارلیمنٹ ہاس پر ہوئے دہشت گردانہ حملے کی برسی کے موقع پر نہایت وقار اور سنجیدگی کے ساتھ ان بہادر جوانوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا جنہوں نے ملک کی جمہوریت کے دفاع میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔نائب صدرِ جمہوریہ اور راجیہ سبھا کے چیئرمین سی پی رادھا کرشنن، لوک سبھا اسپیکر اوم برلا اور وزیراعظم نریندر مودی نے شہدا کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے قوم کی قیادت کی۔ اس موقع پر مرکزی وزرا، قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی، راجیہ سبھا کے ڈپٹی چیئرمین ہری ونش، اراکینِ پارلیمنٹ، سابق اراکین اور دیگر معزز شخصیات بھی موجود تھیں۔ لوک سبھا کے سکریٹری جنرل اتپل کمار سنگھ اور راجیہ سبھا کے سکریٹری جنرل پی سی موڈی نے بھی شہدا کے اہلِ خانہ کے ساتھ خراجِ عقیدت پیش کیا۔لوک سبھا اسپیکر اوم برلا نے ملی ٹینسی کے خلاف ہندستان کے پختہ عزم پر زور دیتے ہوئے ایک مضبوط پیغام دیا۔ اس سے قبل انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں کہا کہ یہ یادگاری تقریب محض رسمی کارروائی نہیں ہے۔انہوں نے کہا ملک کی یکجہتی، سالمیت، سلامتی اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہمارا اجتماعی عزم محض ایک رسمی اعلان نہیں، بلکہ یہ ایک مضبوط پیغام ہے کہ ہندستان کسی بھی قسم کی دہشت گردی کے سامنے کبھی نہیں جھکے گا۔اوم برلا نے شہدا کی بہادری کو سراہتے ہوئے کہا جن امر ہیروز نے جس دلیری کے ساتھ حملہ آوروں کا مقابلہ کیا، وہ فرض شناسی کی علامت ہے اور جمہوری اقدار و قومی دفاع کے تئیں ہندستان کے غیرمتزلزل عزم کی عکاسی کرتا ہے۔انہوں نے شہدا کی بے مثال قومی خدمات پر اظہارِ تشکر کرتے ہوئے انہیں ہمیشہ ترغیب کا سرچشمہ قرار دیا۔وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی ایکس پر سکیورٹی اہلکاروں کی بہادری کو یاد کیا۔انہوں نے لکھا،آج کے دن ہمارا ملک ان بہادروں کو یاد کرتا ہے جنہوں نے 2001 میں پارلیمنٹ پر ہونے والے گھنانے حملے کے دوران اپنی جانیں قربان کیں۔ خطرے کے عالم میں ان کی جرات، مستعدی اور فرض شناسی قابلِ ستائش تھی۔ ہندستان ان کی عظیم قربانی کے لیے ہمیشہ ممنون رہے گا۔اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کی حکومت کی قیادت کے ساتھ موجودگی نے اس موقع پر شہدا کے احترام میں قومی اتحاد کو اجاگر کیا۔یہ خراجِ عقیدت 13 دسمبر 2001 کے اس حملے کی یاد میں پیش کیاگیا جب بھاری اسلحے سے لیس ملی ٹینٹوں نے پارلیمنٹ پر دھاوا بولنے کی کوشش کی تھی۔