وارڈ بلاک میں ایکسرے، ای سی جی، یو ایس جی یا سی ٹی کی سہولیات ندارد، لفٹ کبھی لگا ہی نہیں
پرویز احمد
سرینگر //ڈلگیٹ سرینگر میں قائم سی ڈی ہسپتال مریضوں کیلئے وبال جان بن گیا ہے۔ سال 1880میں قائم کیا گیا ہسپتال نہ صرف جدید طبی سہولیات سے محروم ہے بلکہ یہاں مریضوں کیلئے درکار بنیادی ڈھانچہ بھی کہیں نظر نہیں آرہا ہے۔یہاں واڑڈ بلاکوں میں جانے کیلئے کوئی لفٹ کی سہولیات نہیں ہیں۔ یہاں کوئی ایکسرے مشین نصب نہیں، کوئی ای سی جی اور نہ کوئی فارمیسی سہولیات موجود ہیں۔یہاںاو پی ڈی تک مریضوں کو کندھوں پر لے جانا پڑتا ہے۔ سی ڈی ہسپتال کابنیادی وارڈ بلاک اونچائی پر قائم ہے۔ مریضوں کو ایکسرے اور ای سی جی کیلئے وزانہ کی بنیاد پر کندھوں پر سیڑھیوں سے نیچے لیجانا پڑتا ہے۔100بستروں پر مشتمل سی ڈی ہسپتال میں روزانہ علاج و معالجہ کیلئے آنے والے مریضوں کی تعداد 300سے زیادہ ہوتی ہے جبکہ تیمارداروں سمیت روزانہ2000لوگوں کا آنا جانا ہوتاہے۔ تیمارداروں کو ٹکٹ لینے کیلئے اونچی سیڑھیوں پر کئی گھنٹوں تک انتظار کرنا پڑتا ہے اور ٹکٹ حاصل کرنے کے بعد اسے 100فٹ اونچی او پی ڈی بلڈنگ تک مریض کوکندھوں پر اٹھا کرپہنچانا پڑتا ہے ۔ چھاتی کے امراض میں مبتلا مریضوں کو جہاں سانس لینے میں تکلیف ہوتی ہیں وہیں ہسپتال کی 50سے زائد سیڑھیوں پر چڑھنے کیلئے ان کا دم گھٹنے لگتا ہے۔امراض چھاتی کے اس ہسپتال میں عام طور پر عمر رسیدہ مرد و خواتین داخل ہوتے ہیں، جن کی شرح 80فیصد ہوتی ہے۔ یہاںصرف 20فیصد نوجوانوں کا داخلہ ہوتا ہے۔لیکن وارڈ بلاکوں تک مریضوں کو پہنچانے کیلئے تیمارداروں کے کندھے استعمال ہوتے ہیں یا او پی ڈی تک بیمار کو لانے کیلئے بھی یہی طریقہ استعمال کیا جاتا ہے۔ہسپتال کے وارڈ بلاک میں جانے کے دو راستے موجود ہیں لیکن دونوں راستے ہسپتال میں داخل عمر رسیدہ مرد اور خواتین کیلئے تکلیف دہ ہیں۔ ایک راستہ او پی ڈی بلاک سے ہوکر جاتا ہے جہاں مریضوں کو پہنچنے کیلئے 100سیڑھیاں چڑنا پڑتی ہیں۔ وارڈ بلاک میں مریضوں کیلئے یو ایس جی ، ای سی جی ا، ایکسرے ور نہ ہی سی ٹی سکین جیسی سہولیات دستیاب ہیں۔لہٰذاتیمارداروں کو مریضوں کو کندھوں پر اٹھاکر ٹیسٹ اور دیگر تشخص کیلئے لانا پڑتا ہے۔ سی ڈی ہسپتال نتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ مریضوں کو سخت مشکلات کا سامنا ہے بلکہ ہمیں بھی ہیں کیونکہ جن مریضوں کے ساتھ ایک ہی تیمادار ہوتا ہے، انکے ساتھ ہسپتال عملہ دستیاب رکھنا پڑتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ جب تک نئی بلڈنگ بنے گی تب تک مریضوں کی سہولیت کیلئے لفٹ کیلئے ڈی پی آر جی یم سی سرینگر کو بھیج دیاگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں یقین ہے کہ لفٹ بھی جلد نصب ہوگی۔ گورنمنٹ میڈیکل کالج سرینگر کے ایڈمنسٹریٹر محمد اشرف حکاک نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا ’’ ہم نے ڈی پی آر سرکار کو بھیجا ہے، اس کا کیا ہوا مجھے معلوم نہیں ہے۔ ‘‘