جموں کشمیر پن بجلی پالیسی2025پر سوالیہ،یوٹی مہنگے داموں بجلی خریدنے پر مجبور
بلال فرقانی
سرینگر//جموں کشمیرکا آبی خزانہ تاخیری پالیسیوں کی نذر ہوگیا ہے جس کے نتیجے میں بیرونی ریاستوں سے مہنگے قیمتوں پر بجلی کی خریداری خزانہ عامرہ کیلئے سفید ہاتھ ثابت ہو رہا ہے۔تاخیری پالسیوں کے نتیجے میں جموں و کشمیر کو مسلسل بجلی بحران کا سامنا ہے، جو آبی توانائی کی بے پناہ صلاحیت اور عملی پیداوار کے درمیان گہرے فرق کو نمایاں کرتا ہے۔جموں کشمیر ہائیڈرو پائور پالیسی2025 کے اعداد و شمار کے مطابق جموں و کشمیر میں مجموعی طور پر 18ہزار میگاواٹ آبی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے، جس میں سے 14ہزار 867میگاواٹ کی نشاندہی کی جا چکی ہے۔ تاہم اب تک صرف 3ہزارمیگاواٹ یعنی محض 23.81فیصد صلاحیت ہی استعمال میں لائی جا سکی ہے، جس کے باعث خطہ آج بھی بیرونی ریاستوں سے مہنگی بجلی خریدنے پر مجبور ہے۔ بجلی کی خریداری کے واجبات کا بھاری بوجھ بدستور قائم ہے، جہاں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 30ستمبر 2025تک بجلی خریداری کی مجموعی واجبات 4,751کروڑ روپے تک پہنچ چکی ہیں۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق سب سے زیادہ بقایا رقم پی ڈی سی اور بی ایچ ای پی کے ذمے ہے، جس کی مالیت 2,675کروڑ روپے جبکہ این ٹی پی سی کو 638کروڑ روپے، این ایچ پی سی کو 449کروڑ روپے اور پی جی سی آئی ایل کو 172کروڑ روپے کی ادائیگیاں واجب الادا ہیں۔ اس کے علاوہ ٹی ایچ ڈی سی، آواڈا سن ریز، جندال پاور، آر کے ایم اور ایس جے وی این ایل سمیت متعدد مرکزی و نجی بجلی پیدا کرنے والے ادارے بھی ادائیگیوں کے منتظر ہیں۔اعداد و شمار کے مطابق مجموعی طور پر 33ایجنسیاں ایسی ہیں جن کے بقایاجات درج کیے گئے ہیں، جس سے پاور سیکٹر کی مالی حالت کی سنگینی ظاہر ہوتی ہے۔جموں و کشمیر میں پاور سیکٹر نے دسمبر 2025 تک 3,637 کروڑ روپے کی آمدنی حاصل کی ہے، تاہم اس کے باوجود بجلی کا شعبہ شدید مالی بحران سے دوچار ہے۔ سرکاری اندازوں کے مطابق مالی سال 2025-26کے دوران محصولات اور اخراجات کے درمیان فرق 4,200کروڑ روپے سے زائد رہنے کا امکان ہے، جس کے باعث پاور سیکٹر کی مالی پائیداری پر سنگین سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔جموں کشمیر بجلی کارپوریشنوں سے5.03پیسہ میں فی یونٹ بجلی خریدتا ہے۔پن بجلی پالیسی دستاویز کے مطابق چناب ماخذ میں 11ہزار 283میگاواٹ، جہلم ماخذ میں 3ہزار 84میگاواٹ اور راوی ماخذ میں 500میگاواٹ آبی توانائی کی صلاحیت کی نشاندہی کی گئی ہے۔ اس کے باوجود وادی کشمیر میں بالخصوص سردیوں کے دوران طویل اور غیر اعلانیہ بجلی کٹوتیاں معمول بن چکی ہیں۔ سرد موسم میں پانی کی سطح کم ہونے سے بجلی کی پیداوار متاثر ہوتی ہے، جبکہ گھریلو اور تجارتی طلب میں نمایاں اضافہ ہو جاتا ہے۔ جموں و کشمیر میں آبی بجلی کی پیداوار پر زیادہ تر کنٹرول مرکزی شعبے کے پاس ہے۔ نیشنل ہائیڈرو الیکٹرک پاور کارپوریشن 6 منصوبوں کے ذریعے 2 ہزار 250 میگاواٹ بجلی پیدا کر رہی ہے، جبکہ جموں و کشمیر پاور ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے تحت 13منصوبوں سے 1ہزار 197.4میگاواٹ بجلی حاصل کی جا رہی ہے۔ نجی شعبے کا حصہ انتہائی محدود ہے، جو مجموعی طور پر صرف 92.74میگاواٹ بنتا ہے۔ہائیڈرو پاور پالیسی کے مطابق اس وقت جموں و کشمیر میں مجموعی طور پر 31آبی بجلی منصوبے فعال ہیں، جن کی مجموعی پیداواری صلاحیت 3ہزار 540.15میگاواٹ ہے ۔ پالیسی میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بیشتر منصوبے دور دراز، ناقابلِ رسائی، جنگلاتی اور سخت موسمی حالات والے علاقوں میں واقع ہیں، جہاں بنیادی ڈھانچے کی کمی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ ماحولیاتی، جنگلاتی اور جنگلی حیات سے متعلق منظوریوں کا عمل طویل اور پیچیدہ ہونے کے باعث منصوبوں کی تکمیل میں برسوں کی تاخیر ہو جاتی ہے۔ان پروجیکٹوں سے جڑے محکمہ بجلی کے ایک سابق سنیئر انجینئر عبدالغنی وار نے بتایا کہ زمینی ساخت سے متعلق غیر یقینی صورتحال، بار بار لینڈ سلائیڈنگ، شدید برف باری، ڈھلانوں کا کھسکنا اور اچانک آنے والے سیلاب اکثر منصوبوں کے نفاذ میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ تعمیراتی مقامات تک رسائی کیلئے سڑکوں اور دیگر بنیادی سہولیات کی تعمیر کا بوجھ بھی ڈیولپرز پر پڑتا ہے، جس سے لاگت میں غیر معمولی اضافہ ہو جاتا ہے۔سابق انجینئر کے مطابق بازآبادکاری، معاوضے، امن و قانون کی صورتحال اور بلند سرمایہ لاگت جیسے عوامل کے باعث نجی شعبہ آبی بجلی کے منصوبوں میں دلچسپی لینے سے گریزاں ہے، جس کا براہِ راست اثر منصوبوں کی رفتار اور مجموعی پیداوار پر پڑ رہا ہے۔مرکزی اور جموں و کشمیر کی حکومتوں نے آئندہ دس برسوں میں تقریباً 7ہزار میگاواٹ اضافی پن بجلی پیدا کرنے کا منصوبہ بنایا ہے، جس پر 59ہزار 294کروڑ روپے خرچ ہونے کا تخمینہ ہے۔ زیر تعمیر منصوبوں میں پکل ڈل، کیرو، کواڑ، رتلے، پرنائی اور کرناہ شامل ہیں، جبکہ ساولکوٹ، کِرتھائی، ڈل ہستی دوم، اوڑی سٹیج دوم اورنیوگاندربل جیسے بڑے منصوبے آئندہ مرحلوں میں شامل کیے گئے ہیں۔