سرینگر //جموں و کشمیر میں صرف 18دنوں کے دوران کورونا وائرس کے سرگرم معاملات میں 51فیصد اضافہ ہوا ہے۔ یکم نومبر کو جموں و کشمیر میں تعداد 902تھی جو بڑھ کر1581تک پہنچ گئی اور اسطرح 679سرگرم معاملات کا اضافہ ہوا ۔ جموں میں 156اور وادی میں 523معاملات کا اضافہ ہوا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق بارہمولہ ضلع میں یکم نومبر کو سرگرم معاملات کی تعداد 135تھی جو اب بڑھ کر 314تک پہنچ گئی ہے۔ اسطرح 18دنوں کے دوران 179معاملات کا اضافہ ہوا ۔سرگرم معاملات میں سب سے زیادہ اضافہ بارہمولہ ضلع میں ہوا ہے ۔پچھلے ایک ماہ میں سرفہرست رہنے والے سرینگر ضلع میں پچھلے 18دنوں کے دوران سرگرم معاملات میں122کا اضافہ ہوا۔ یکم نومبر کو ضلع سرینگر میں کورونا متاثرین کی تعداد 451تھی جو 18دنوں کے بعد بڑھ کر 573تک پہنچ گئی ہے۔ بڈگام ضلع میں 18دنوں کے دوران محض 19سرگرم معاملات کا اضافہ ہوا ہے۔ یکم نومبر کوبڈگام میں سرگرم معاملات کی تعداد 89تھی جو اب بڑھ کر 108تک پہنچ گئی ہے۔ پلوامہ میں تعداد 9تھی جو اب بڑھ کر 43تک پہنچ گئی ہے۔اس طرح 34 فیصدکا اضافہ ہوا ہے۔ کپوارہ میں تعداد29تھی جو اب 85تک پہنچ گئی ہے۔ اننت ناگ ضلع وادی کا وحد ضلع ہے جہاں کورونا وائرس کے سرگرم معاملات میں کمی آئی ۔ یہاں تعداد 20تھی جو اب بڑھ کر 11رہ گئی ہے۔ بانڈی پورہ ضلع میں تعداد 19تھی جو اب بڑھ کر 57 ہوگئی ہے ۔ اسطرح 38 فیصدکا اضافہ ہوا ہے۔ گاندربل ضلع میں تعداد 88سے تھی جو اب بڑھ کر 125تک پہنچ گئی ہے ۔ اسطرح یہاں 81معاملات کا اضافہ ہوا ہے۔کولگام میں صرف 5معاملات سرگرم تھے، جو اب 7ہے۔شوپیاں وادی کا واحد ضلع تھا جہاں کوئی بھی معاملہ سرگرم نہیں تھا ۔ جموں صوبے میں 18دنوں کے دوران سرگرم معاملات میں 156کیسوں کا اضافہ ہوا ۔ یکم نومبر کو جموں صوبے میں سرگرم معاملات کی تعداد صرف 101تھی جو اب مزید 156کیسوں کے ساتھ 257تک پہنچ گئی ہے۔ 18دنوں کے دوران جموں میں71، ادھمپور میں 5، راجوری میں13، ڈوڈہ میں0، کٹھوعہ میں6، سانبہ میں 10، کشتواڑ میں 3،رام بن میں 2 اور ریاسی میں 59سرگرم معاملات کا اضافہ ہوا ہے جبکہ کشتواڑ میں ایک معاملہ کم ہوا ہے۔