یو این ایس
سرینگر// 31 دسمبر 2025 تک جموں و کشمیر میں 19,496.73 ہیکٹر جنگلاتی اراضی پر ناجائز قبضہ پایا گیا ہے، جبکہ مجموعی طور پر 17.27 لاکھ کنال ریاستی اراضی بھی تجاوزات کی زد میں رہی، جن میں سے 14.29 لاکھ کنال اراضی بازیاب کرائی جا چکی ہے۔ حکومت نے جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کو مطلع کیا ہے کہ غیر قانونی قبضوں کی واگزاری اور نئے تجاوزات کی روک تھام کے لیے متعدد اقدامات شروع کیے ہیں۔حکام نے کہا کہ جنگلاتی حدود کی تفصیلی پیمائش اور نشاندہی کا عمل جاری ہے تاکہ قبضوں کی درست نشاندہی کی جا سکے۔متعلقہ وزیر کے مطابق انڈین فاریسٹ ایکٹ 1927 کی دفعہ 79-اے کے تحت قابضین کو نوٹس جاری کیے جاتے ہیں اور اس کے بعد محکمہ جنگلات کی جانب سے بے دخلی مہم چلائی جاتی ہے۔
بازیاب اراضی پر باڑ لگانے، مقامی اقسام کے پودے لگانے اور زمین کو اس کی اصل حالت میں بحال کرنے کے اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں تاکہ دوبارہ قبضہ نہ ہو۔سرکار نے کہا کہ فیلڈ اسٹاف اور فاریسٹ پروٹیکشن فورس مشترکہ نگرانی کر رہے ہیں جبکہ ریموٹ سینسنگ، جی پی ایس اور ڈرون جیسی جدید ٹیکنالوجی بھی استعمال کی جا رہی ہے۔وزیر نے بتایا کہ وزراء، سابق وزراء، اراکین اسمبلی، سابق اراکین اسمبلی، بیوروکریٹس اور کاروباری اداروں کی جانب سے مبینہ طور پر قبضہ کی گئی جنگلاتی زمین کی ضلع وار تفصیلات ایوان میں جاری کی گئی۔دوسری جانب جموں و کشمیر میں مجموعی طور پر 17,27,248.16 کنال ریاستی زمین پر قبضہ پایا گیا، جن میں سے 14,29,200.42 کنال زمین اب تک واگزار کرائی جا چکی ہے۔محکمہ کے مطابق کشمیر ڈویژن میں 3,27,198.50 کنال زمین پر قبضہ ہوا تھا، جن میں سے 2,16,912.98 کنال واگزار کی گئی۔ اسی طرح جموں ڈویژن میں 14,00,049.66 کنال زمین تجاوزات کی زد میں آئی، جن میں سے 12,12,287.44 کنال اراضی بازیاب کر لی گئی ہے۔حکومت نے ایوان کو یقین دلایا کہ جنگلاتی اور ریاستی اراضی کو تجاوزات سے پاک کرانے کے لیے کارروائیاں جاری رہیں گی اور قانون کے مطابق مزید اقدامات عمل میں لائے جائیں گے۔