بلال فرقانی
سرینگر//مرکزی زیر انتظام جموں و کشمیر کی مالی حالت پرCAG آڈٹ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ سرکاری سرمایہ کاری سے حاصل ہونے والا منافع نہایت کم ہے جبکہ حکومت اپنے قرضوں پر زیادہ شرح سود ادا کر رہی ہے۔رپورٹ کے مطابق 31 مارچ 2025 تک یو ٹی حکومت کی مختلف کمپنیوں، کارپوریشنوں اور دیگر اداروں میں کل سرمایہ کاری 605.10 کروڑ روپے تک پہنچ گئی۔ اس میں سرکاری کمپنیوں میں72.26 کروڑ، کواپریٹو سوسائٹیوں میں236.50 کروڑ، قانونی کارپوریشنوں میں193.91 کروڑاور علاقائی دیہی بینک میں102.43 کروڑ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ سابق ریاست جموں و کشمیر کی جانب سے کی گئی 3,426.75 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری ابھی تک جموں و کشمیر اور لداخ کے درمیان تقسیم نہیں ہوئی ہے۔
منافع کم، سود زیادہ
مالی سال 2024-25کے دوران حکومت کو سرمایہ کاری پر 130.78 کروڑ روپے کے حساب سے3.24 فیصد منافع حاصل ہوا، جبکہ اسی عرصے میں حکومتی قرضوں پر سود کی شرح 6.65 فیصد سے 8.82 فیصد کے درمیان رہی۔ گزشتہ5برسوں میں سرمایہ کاری سے کم منافع اور قرضوں پر زیادہ سود کے باعث حکومت کو مجموعی طور پر 1,883.60 کروڑ روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ 52 سرکاری شعبے کے اداروں میں 4,031.25 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کے باوجود صرف ایک ادارے نے ہی منافع دیا۔ اس صورتحال کو سرکاری مالیات پرپوشیدہ بوجھ قرار دیا گیا ہے۔آڈٹ رپورٹ میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ جموں و کشمیر حکومت نے سرکاری اداروں کیلئے کوئی واضح ڈیویڈنڈ پالیسی نہیں بنائی۔ گزشتہ2برسوں میں صرف جموں و کشمیر بینک نے حکومت کو منافع دیا جبکہ دیگر کسی ادارے نے ڈیویڈنڈ ادا نہیں کیا۔ اس کے باعث سرکاری سرمایہ کاری پر واپسی کی شرح گزشتہ5 برسوں میں صفر سے 3.24 فیصد تک محدود رہی۔محکمہ خزانہ نے جنوری 2026 میں جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ آئندہ سرکاری اداروں کے لیے منافع اور ڈیویڈنڈ کے اہداف مقرر کیے جائیں گے اور پالیسی بھی تشکیل دی جائے گی۔
قرضے و پیشگی واپس ندارد
رپورٹ کے مطابق حکومت نے 2024-25میں 15.09 کروڑ روپے کے قرضے جاری کیے جبکہ صرف 0.44 کروڑ روپے کی وصولی ہو سکی۔ اس طرح بقایا قرضے بڑھ کر 246.56 کروڑ روپے تک پہنچ گئے ہیں، جبکہ سابق ریاست کے 1,740.44 کروڑ روپے کے قرضے بھی ابھی تک تقسیم نہیں ہوئے۔گزشتہ 5 برسوں میں قرضوں پر حاصل ہونے والی سود کی شرح نہایت کم رہی جبکہ حکومت اپنے قرضوں پر 6.65 سے 8.82 فیصد تک سود ادا کر رہی ہے۔ اس فرق کے باعث حکومت کو مسلسل مالی خسارے کا سامنا ہے۔آڈٹ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خسارے میں چلنے والے سرکاری اداروں سے قرضوں کی وصولی نہ ہونے کے باعث سرکاری فنڈس غیر فعال ہو رہے ہیں۔ رپورٹ میں حکومت کو مشورہ دیا گیاہے کہ وہ نگرانی کے نظام کو مضبوط بنائے اور قرضوں کی وصولی کیلئے مؤثر اقدامات کرے۔’سی اے جی‘ کے مطابق گزشتہ چار برسوں میں قرضوں کی فراہمی میں کمی کی گئی ہے اور اب زیادہ شفافیت کے لیے فنڈز کو قرض کی شکل میں جاری کیا جا رہا ہے۔