مولانا مودودی جب دار السلام (پٹھان کوٹ،پنجاب ) میں قیام پذیر ہوئے تو وہا ںمسجد میں نماز جمعہ کا سلسلہ شروع کیا اور مقامی لوگوں کو اسلام کے متعلق بنیادی باتیں سمجھانا شروع کیں ۔ یہ مجموعہ ان ہی خطبات جمعہ پر مشتمل ہے ۔ جو ۱۹۴۰ء میں پہلی مرتبہ پٹھان کوٹ سے شائع ہوئی ۔ ’’دینیات ‘‘بھی مولانا کی ایک اہم تالیف ہے جس میں اسلام کے عقائد ،عبادا ت اور اعمال کی اہمیت و افادیت اور ان کی حکمتوں کو آسان اور شستہ زبان میں پیش کیا گیا ہے۔دینیات اول روز سے ہی دنیا کے مختلف تعلیمی اداروں میں شامل نصاب ہے۔ ’’پردہ‘‘بھی ایک شاہکار کتاب ہے جس میں مولانا نے واضح کیا کہ مغربی فکر و تہذیب نے کس طرح عورت کے حقوق اور اس کا لباس چھین لیا اور کیسے اسلام نے عورت کو حقوق دلا کر اس کو بلند مقام و مرتبہ عطا کیا ۔’’اسلام اور ضبط ولادت‘‘ بھی ایک اعلی پایہ کی کاوش ہے جس میں ضبط ولادت پر سیر حاصل گفتگو کی گئی اور اسلام کا واضح موقف پیش کیا گیا ۔اسلام کا سرچسمہ قوت ان اداریوں پر مشتمل کتاب ہے جو الجمعیہ میں کی زینت گاہے بہ گاہے بنتے رہے ۔ اس میں انہوں نے مختلف ممالک میں اشاعت اسلام کے اسباب و تدابیر پر روشنی ڈالی ہے ۔’’رسائل و مسائل‘‘ سات جلدوں پر مشتمل ہے جس میں روز مرہ کے مسائل اور اور اسلام اور اس کے احکامات پر اٹھائے گئے اعتراضات کا مدلل جواب دیا گیا یہ مسائل فقہی نوعیت کے بھی ہیں اور اخلاقی نوعیت کے بھی ،سیاسی،معاشی و معاشرتی نوعیت کے بھی اور تحریکی و تنظیمی نوعیت کے بھی۔ ’تجدید و احیائے دین‘ بھی مولانا کی ایک اور معروف کتاب ہے جس میں انھوں نے مجددین کے کارناموں پر مدلل گفتگوفرمائی اور تجدیدی کارناموں پر تاریخی جائزہ پیش کیا ۔’’خلافت و ملوکیت‘‘ ان کی ایک اعلیٰ درجہ کی تحقیقی تصنیف ہے جس میں اسلامی حکومت ،اور اس کے اصول و مبادی ، خلفائے راشدین ؓکے کارناموں کا تحقیقی طور سے جائزہ لیا گیا ۔ اسلامی تاریخ کے سنہری دور میں جو تبدیلیا ں رونماء ہوئیں مولانا مودودی نے ان کاپس منظر اور اسباب کو سمجھنے اور وا ضح کرنے کی کوشش کی ہے۔ نیزاس میں اسلامی تاریخ کے چند اہم گوشوں کا تجزیاتی مطالعہ کیا گیا ہے ۔’’تنقیحات ــــــ‘‘ نام کی کتاب اسلام اور مغربی تہذیب کے تصادم اور اس سے پیدا شدا مسائل پر مشتمل مضامین ہیں جو ۱۹۳۰ ء کی دہائی میں لکھے گئے تھے۔ یہ مضامین ترجمان القرآن کی زینت بنتے رہے۔ ۲۵۶صفحات پر مشتمل اس کتاب میں مولانا مودودی نے مغربی فکر و تہذیب کابے لاگ تنقیدی جائیزہ لیا ۔ اس کے علاوہ مسلمانوں کی کوتاہیوں کا بھی جائزہ لے کر نہ صرف پھیلی ہوئی غلط فہمیوں اور شکوک و شبہات( جو مسلمانوں کے ذہنوں میں پیدا ہورہے تھے) کا ازالہ کیا بلکہ درپیش مسائل کا حل بھی پیش کیا ہے۔ یہ کتاب ہر نوعیت سے Creative ہے ۔تفہیم القرآن کے بعد یہ مولانا مودودی کا سب سے اہم علمی و فکری کارنامہ ہے ۔ سیاست اور فلسفہ سیاست مولانا مودودی کے علم تحقیق کا اہم موضوع رہا ہے اور اس پر ان کی جاندار تحریریں موجود ہیں لیکن ان میں سب سے اہم کتاب’ اسلامی سیاست‘ ہے جس کو پروفیسر خورشید احمد نے مرتب کیا ہے ۔اس میں جو مقالات اور مضامین ہیں وہ مختلف مواقع اور حالات کو مد نظر رکھ کر تحریر کیے گئے ہیں۔ مولانا مودودی نے اس تصنیف میں اسلام کے فلسفہ سیاست پر تفصیل سے اظہار خیال کیا ہے اور جن اہم مباحث کو موضوع گفتگو بنایا ان میں اسلام کا سیاسی نظریہ ، قرآن کا فلسفہ سیاست ، اسلام کا تصور قومیت اسلامی ریاست کا دستور اور اس کی بنیادیں ، اسلام کا قانون سازی اور اجتہاد ، اسلامی ریاست کی بنیادیں ،اسلام کے اصول حکم رانی اور غیر مسلموں کے حقوق قابل ذکرہیں ۔معاشیات کے موضوع پر بھی مولانا مودودی نے انتہائی اہم تحقیقی کام کیا ہے ۔اس موضوع پرمعاشیات اسلام، اسلامی فلسفہ معیشت کے بنیادی اصول ، اسلام کا معاشی مسئلہ ، اور اس کا اسلامی حل ،اسلام اور نظم معیشت کے اصول و مقاصد،اسلام کا معاشی نظام ،اسلام اور جدید معاشی نظریات قابل ذکر تصانیف ہیں۔اس تعلق سے ’’ معاشیات اسلام‘‘ ( مرتب :پروفیسر خورشید احمد )ایک اہم تصنیف تصور کی جاتی ہے جس میںانھوں نے معاشیات پرتفصیل سے گفتگو کی ۔ معاشیات پر ان کی ایک اور کتاب ’’ اسلام اور جدید معاشی نظریات ‘‘ کے نام سے ہے جس میں انھوں نے اسلام اور مغربی معاشی نظریات کے درمیان تصادم دکھا یاہے کہ کس طرح اسلام کا معاشی نظام انسانی فلاح کاضامن ہے اور کس طرح مغرب کا معاشی نظام تباہ کاری پر مبنی ہے ۔ سودی کاروبار اور اور اس کے مضر اثرات پر’’ سود ‘‘ کے نام سے کتاب لکھی ۔یہ کتاب ان مضامین کا مجموعہ ہے جو انھوں نے ۳۷۔۱۹۳۶ء میں سود کے مسئلے پر لکھے تھے ۔ اسلامی تہذیب کو وسیع معنی میں سمجھنے کے لئے ’’اسلامی تہذیب اور اس کے اصول و مبادی‘‘جیسی شاہکار کتاب لکھی جس میں اسلامی تہذیب کو علمی اور تحقیقی انداز کے ساتھ ساتھ نہایت واضح اور منقح صورت میں پیش کیا ہے ۔ایک اور مایہ ناز کتاب ’’ سنت کی آئینی حیثیت ‘‘ کے نام سے ہے جو دراصل منکرین حدیث کی ہرزہ سرائیوں کی رد میں سپرد قلم کی گئی ہے ۔یہ پہلے مقالات کی صورت میں ’’ منصب رسالت نمبر ‘‘ کے عنوان سے ترجمان القرآن میں شائع ہوئے تھے ،بعد میں مولانا مرحوم نے نظر ثانی کر کتابی شکل میں شائع کروایا ۔’’ مسئلہ قادیانیت ‘ ‘ بھی مولانا کا ایک عظیم کارنامہ ہے ۔۲۳؍ صفحات پر مشتمل یہ کتاب انھوں نے مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے افکار کے رد میں لکھی تھی ۔یہی وہ کتابچہ ہے جس کی بنیاد پر پاکستان کی ایک عدالت نے مولانا کوپھانسی کی سزا سنائی ۔ ا س پرجب ان سے رحم کی اپیل کرنے کے لئے کہا گیاتو آپ نے یہ تاریخی اور دل کو چھو لینے والا جواب دیا کہ ’’مجھے کسی سے رحم کی اپیل نہیں کرنی ہے۔ زندگی اور موت کے فیصلے زمین پر نہیں آسمان پر ہوتے ہیں ‘‘۔ اس کتاب کا ایک دوسرا اڈیشن ’’قادیانی مسئلہ اور اس کے مذہبی ،سیاسی اور معاشرتی پہلو ‘‘ کے نام سے ہے جس میں مولانا کے دئیے گئے بیانات کے ضروری اقتباسات بھی شامل کئے گئے ۔ تعلیمات نام کی کتاب میں مولانا نے ایک ماہر تعلیم کی حیثیت سے جدید نظام تعلیم پر تنقید کرنے کے ساتھ ساتھ اسلامی نظریہ تعلیم کا خد و خال پیش کیا ۔’’اسلام کا سرچشمہ قوت‘‘ ایک ایسی تصنیف ہے جس میں انھوں نے واضح کیا کہ اسلام کی قوت کا راز کیا ہے اوریہ کس سرچشمہ کا نام ہے ۔ یہ کتاب ان اداریوں پر مشتمل ہیں جو انھوں ہفتہ روزہ ’’تاج‘‘میں لکھے تھے ۔ ان مضامین کو یکجا کر کے ۱۹۷۰ء میں کتابی صورت میں شائع کیا گیا ۔ ’’سرمایہ داری اور اشتراکیت ‘‘ اور ’’سرمایہ داریت ، اشتراکیت اور اسلام ‘‘مولانا کی دو موقر کتابیں ہیںجن میں انھوں نے سرمایہ دارارانہ نظام پر بے باک تنقید کر کے اسے رسوا کیا ۔ ’’تفہیمات‘ ‘ پانچ جلدوں پر مشتمل مرتب شدہ تصنیف ہے جن میں مختلف مواقع پر ’ماہنامہ ترجمان القرآن ‘ میںلکھے گئے مضامین، مقالات ، تقاریر جمع کئے گئے ہیں ۔اس میں زندگی سے تعلق رکھنے والے مختلف مسائل وبھی شامل ہیں ۔ ’’تصریحات‘‘ بھی اسی نوعیت کی کتاب ہے جس کو برصغیر کے معروف محقق پرفیسر سلیم منصور خالد نے مرتب کیا ہے ۔ یہ کتاب ان سوالات کے جوابات پر مشتمل ہے جو مولانا سے طلبہ اور نوجوانوں نے پوچھے ۔ اسلام پرعلمی اور تحقیقی کام کی ضرورت و اہمیت پر بھی مضامین لکھے جن کو اختر حجازی نے ’’قوموں کے عروج و زوال پر علمی تحقیقات کے اثرات ‘‘ کے نام سے مرتب کیا جس میں مولانا مودودی نے علماء اور مسلم دانشوروں کو اس بات پر ابھارا کہ مغربی فکر و فلسفہ کے ملحدانہ افکار کے چلینج کا جواب فکر اسلامی کی روشنی میں انتہائی بے باک اور مدلل انداز سے دیا۔ دشمنانِ اسلام اسلامی تعلیمات اور اس کے احکامات پر اعتراضات اور شبہات ظاہر کرتے رہتے ہیں ان ہی اعراضات میں سے ایک یہ ہے کہ مرتد کو قتل کرنے کی سزا دینا یا اس پر حد جاری کرنا انسانی ضمیر ، سوچ اور عقل کے خلاف ہے ۔ اس تعلق سے مولانامودودی نے ’’مرتد کی سزا ‘‘لکھ کر معترضین کی اس کارستانی کو عقلی اور نقلی دلائل سے رد کیا ۔’’استفسارات ‘‘ تین جلدوں پر مشتمل ہے جن میں بعض فقہی ، سیاسی ، ، اور قانونی نوعیت کے سوالات کے جوابات دئیے گئے ۔’ ’خطبات یورپ ‘‘ مولانا کے اسفار مغرب کی متعدد تقاریر اور سوالات و جوابات پر مشتمل ہے ۔مولانا کی چند اہم اور نادر کتابیں ہیں جن کا یہاں مختصر طور پر تذکرہ کیا گیا ہے۔ مولانا موددوی نے دعوت و تحریک کو عملی جامہ پہنانے کے لیے بھی کار آمد تحریریں لکھی ہیں جن میں ’’تحریک اور کارکن‘‘ نہایت اہم کتاب ہے ۔یہ دراصل مولانا مودودی کی ان تقریروں اور تحریروں کا مجموعہ ہے جو مولانا موصوف نے مختلف مواقع پر اور مختلف مراحل میں تحریک اسلامی کے کارکنوں کے سامنے کی ہیں ۔ اس کتاب میں دعوت اسلامی کی فکری ، اخلاقی اور عملی بنیادوں پر مفصل گفتگو کی گئی ہے ۔
ان کے علاوہ مولانا مودودی نے اپنی دوسری تصانیف میں بھی استدلال سے کام لیا اور ان کے استدلال کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ اساسی نصوص یعنی قرآن و حدیث کے دائرے کے اندررہتا ہے۔ مولانا کی قوت اجتہاد اور استدلال نہایت قوی اور پر زور ہے۔بقول ماہر القادری ’’ جہاں تک قوت استدلال کا تعلق ہے بہت کم اہل علم اور ارباب فکر اس صنف میں مولانا مودودی کی برابری کرسکتے ہیں ۔ وہ جس مسئلے میں کسی کی تردید کرتے ہیں تو غیر معمولی قوت کے ساتھ اس کی دلیلوں کو توڑتے ہیں ۔دلائل کے معاملہ میں وہ دھاندلی ، خشمناکی اور ایچ پیچ سے کام نہیں لیتے اپنے فریق مقابل (Opponent ( کو رجوع کا زیادہ سے زیادہ موقع، (Allowance ( اور(Margin) دے کر خود ’’برسبیل منزل‘‘کا موقف اختیارکرتے ہیں مگر ان کے یہاں عقلی دلائل کی وہ قوت ہوتی ہے کہ نتیجہ میں انہی کی بات طاقت ور معلوم ہوتی ہے اور وہی غالب نظر آتے ہیں‘‘۔ انھوں نے عقلی دلائل بھی فراہم کئے ہیںاورتاریخ وسائنس کے حوالے بھی دئیے ہیں ۔ مسائل کے تہ تک جاکر ان کے حل نکالنے میں وہ زبردست ملکہ رکھتے تھے ۔مولانا کا انداز بیاں انتہائی سلیس، دل نشین اور تحقیقی ہے۔ انھوں نے یہ طرز عمل کم و بیش ہر تصنیف میں اپنایا ۔ ان کا اسلوب بھی نہایت عمدہ ہے ۔ ان کی نثرنہایت شگفتہ اور ادبیت سے بھرپور ہوتی ہے او ر ان کی ہر تحریرایک عظیم شہ پارہ (Masterly prose style)کی حیثیت رکھتی ہے ۔ان کے منفرد طرز بیان میں آج بھی اردوزبان میں کوئی ثانی نہیںہے ۔ مولانا مودودی نے ہرجگہ مستند ذرائع اور مصادر کی روشنی میں گفتگو کی ۔ ان کی کوئی تحریر ایسی نہیں ہے جس میں انھوں نے اصل مراجع کی روشنی میں گفتگو نہ کی ہو۔ ان کی ہر تصنیف حوالہ جات سے مزین ہے لیکن بعض تصانیف میں تحقیق کا عمومی طرز عمل اختیار کیا ۔بقول مولانا عمری: ’’انھوں نے اسلامی فکر کو عمومی مطالعہ کی روشنی میں پیش کیا ہو یا حوالوں کے ساتھ گفتگو کی ہو وہ ایک ماہر اسلامیات کی حیثیت سے سامنے آتے ہیں ، ان کی کسی بات سے اتفاق ہو یا اختلاف ، ان کے علمی مقام اور معیار تحقیق سے انکار نہیں کیا جاسکتا‘‘۔ (ختم شد)
رابطہ :639770058